ختم نبوت حلف نامہ میں ترمیم سوچا سمجھا منصوبہ ، کسی ایک پر ذمہ داری ڈالنا مشکل

ختم نبوت حلف نامہ میں ترمیم سوچا سمجھا منصوبہ ، کسی ایک پر ذمہ داری ڈالنا مشکل

  

اسلام آباد(صباح نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم نبوت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ تفصیلی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ ختم نبوت حلف نامے میں جتنی بھی ترمیم ہوئی اس کے طریقہ وارادات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے بھی قادیانی کمیونٹی ملوث تھی ،جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے حکم نامے میں کہا ہے کہ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ختم نبوت حلف نامے میں ترمیم سوچا سمجھا منصوبہ تھالیکن عدالت کے لیے ایک شخص،جماعت یاگروہ پر ذمہ داری ڈالنا مشکل ہے،اس معاملے کی تفصیلی جانچ پڑتال ضروری ہے۔ملک میں اہم عہدوں پر خفیہ ہاتھ ایسی کاروائیوں میں ملوث ہیں جو قادیانیوں کے حامی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے پاس ایسے افراد کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ۔اس حوالے سے اگر ایمرجنسی اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ملک میں افراتفری اور نفرت میں اضافے کا خدشہ ہے۔کیونکہ اسٹیبلشمٹ ڈویژن کے پاس ان لوگوں کا ڈیٹا موجود نہ ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے اہم اداروں سمیت وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی یہی لوگ ہی موجود ہوسکتے ہیں جہاں مذہبی حوالے سے اہم نوعیت کی قانون سازی کی جاتی ہے۔172صفحات پر مشتمل فیصلے میں تحریر گیا ہے کہ احتجاج، دھرنوں اورعوامی پریشر کے بعد حکومت نے ختم نبوت حلف نامے میں کی جانے والی تبدیلیوں کو واپس لیا۔رپورٹ کے مندرجات کے مطابق سابق وفاقی وزیرانوشہ رحمان اورپی ٹی آئی کے سابق ایم این اے شفقت محمود نے بل کو ری ڈرافٹ کیا تھا،اس کے بعد ذیلی کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا کہ انوشہ رحمان فارم مسودے پرنظر ثانی کریں گی۔پھر کمیٹی کے اگلے اجلاس میں انوشہ رحمان نے نظر ثانی شدہ فارم پیش کیا،نظر ثانی شدہ فارم کو جانچ پڑتال کی ہدایت کے ساتھ منظور کیا گیا۔سابق وزیر قانون زاہد حامد جو کہ ذیلی کمیٹی کے کنوینئر تھے انہوں نے قبول کیا ہے کہ ابتدائی طور پر ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس معاملے کو خود دیکھتے تاکہ کوئی متنازع چیز ڈرافٹ میں شامل نہ ہو لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔عدالت عالیہ نے راجہ ظفر الحق کمیٹی کی مکمل رپورٹ پبلک کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔عدالت کی جانب سے کہا گیا ہے۔الیکشن ایکٹ میں ختم نبوت کے حوالے سے ترمیم کی واپسی حکومت کی جانب سے احسن اقدام ہے، راجہ ظفر الحق کمیٹی نے انتہائی اعلی رپورٹ مرتب کی، رپو رٹ میں معا ملے کے تمام پہلووں کو انتہائی جامعیت،دیا نتداری اور دانش مندی کے ساتھ احا طہ کیا گیا ۔20 فروری 2018 کو حکومت نے سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کی تھی۔ عدالت ملک کے وسیع تر مفاد میں بیوروکریسی،عدلیہ،ملٹری،نیول،ایئرفورس ودیگر اہم اورحساس اداروں میں انتہائی اہمیت کی حامل عہدوں پر براجمان قادیانی افراد کے نام عام نہیں کر رہی ہے۔اگر حکومت نے بروقت اورمربوط اقدامات نہ اٹھائے تو مستقبل میں بھی فیض آباد دھرنے جیسے واقعات ملک کے دیگر حصوں میں دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ہمیشہ جب آئین کو توڑ ا گیا تو یہ(قادیانی)لوگ اپنے مذموم مقاصد کے لئے متحرک ہو گئے۔قانونی اورآئینی طور پر قادیانی اپنی شناخت دیگر مذاہب کی طور نہیں چھپا سکتے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کے حوالے سے صحیح معلومات ان تک پہنچیں۔وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے عہدوں پر تعینات کرنے سے پہلے لوگو ں کی چھان بین کرے اورخصوصا وہ جو دوسرے ممالک میں بطور سفیر تعینات کئے جاتے ہیں کیونکہ ملک کا حقیقی نظریہ انہی کے ذریعے ہی دنیا تک پہنچنا ہوتا ہے۔برطانیہ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر واجد شمس الحسن جنہوں نے حال ہی میں اپنا مذہب قادیانی ہونے کا اعلان کیا ہے جو ملک کے لئے مقام غور ہے۔اس سے قبل سابق صدر پرویز مشرف کے ملک میں اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز بھی بطور قادیانی جانے جاتے ہیں انہوں نے اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے قادیانیوں کو اہم اورحساس عہدوں تک پہنچایا،اسی دور میں قادیانیوں نے طاقت کے مراکز بیوروکریسی،ملٹری ودیگر اداروں میں جگہ بنائی۔مختلف تاریخی حوالوں سے عدالت نے اپنے فیصلے میں ذکر کیا ہے کہ جنرل ایوب خان کے مارشل لاکے دوران قادیانی بہت متحرک تھے اورجنرل ایوب بھی ان پر بھروسہ کرتے تھے جس کے سبب انہوں نے خفیہ طورپر اپنے آپ کو مضبوط کیا۔اس کے علاوہ اس کمیونٹی کے پیچھے اسرائیل اوریہودی لابی بھی موجود ہے ۔ایوب دور میں اسی وجہ سے امریکی امداد میں بھی اضافہ ہوا۔1974 میں بھی ان کی جانب سے کم تعداد ظاہر کرنے کا نوٹس کمیٹی نے لیا تھا اورحکومت کو اس کی تحقیقات کی تجویز دی گئی تھی۔فیصلہ انگریزی میں لکھا گیا ہے۔تفصیلی فیصلے میں عدالت نے پاکستان بننے سے لیکر اب تک کی قادیانیوں کی تاریخ،1974میں قومی اسمبلی کا قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا،ختم نبوتﷺکے حوالے سے قرآن و سنہ و دیگر صحاح ستہ کے حوالوں کو بھی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے۔تفصیلی فیصلے کے مطابق دین اسلام اور آ ئین پاکستان مذہبی آ زادی سمیت اقلیتیوں کے تمام بنیا دی حقو ق کی ضمانت فرا ہم کر تا ہے،ریا ست پا کستان کے ہر شہر ی پر لازم ہے کہ و ہ اپنی شناخت درست اورصحیح کوا ئف کے ساتھ جمع کرائے،کسی مسلم کو یہ اجا ز ت نہیں کہ و ہ اپنی شنا خت کو غیر مسلم میں چھپا ئے۔بد قستمی سے اس وا ضح میعار کے مطا بق ضروری قانون سازی نہیں کی جا سکی،جس کے نتیجے میں غیر مسلم اقلیت اپنی اصل شنا خت چھپا کر ریا ست کو دھوکہ دیتے ہو ئے خود کو مسلم اکثر یت ظاہر کرتی ہے۔جس سے نا صرف مسا ئل جنم لیتے ہیں بلکہ انتہا ئی اہم تقا ضو ں سے انحرا ف کی راہ بھی ہموا ر ہو جا تی ہے،اسٹیبلشمنٹ ڈویثرن کا یہ بیانیہ کہ سول سر وس کے کسی سو ل آفیسر کی اس حوالے سے مز ید شنا خت موجود نہیں،ایک المیہ ہے،یہ امر آئین پا کستان کی رو ح اورتقا ضوں کے منافی ہے،ختم نبو ت کا معا ملہ ہما رے دین کا اسا س ہے ۔پارلیمنٹ ختم نبو ت کے تحفظ کو یقینی بنا نے کے لئے اقدامات کرے ،شنا ختی کارڈ برتھ سرٹیفیکیٹ،انتخا بی فہرستوں اور پاسپورٹ کے لئے مسلم اورغیر مسلم کے مذ ہبی شنا خت کے حوالے سے بیان حلفی لیا جا ئے،سرکاری،نیم سرکاری اورحساس اداروں میں ملازمت کیلئے بھی بیان حلفی لیا جائے۔مردم شماری اور نادرا کوائف میں شناخت چھپانے والے کی تعداد خوفناک ہے،نادرا اور محکمہ شماریات کے ڈیٹا میں قادیانیوں کے حوالے سے معلومات میں واضح فرق پر تحقیقات کی جائیں۔تعلیمی اداروں میں اسلامیات پڑھانے کیلئے مسلمان ہونے کی شرط لازمی قرار دی جائے،شناخت کا نا ہونا آئین پاکستان کی روح کے منافی ہے۔اب یہ پار لیمان پر منحصر ہے کہ وہ اس معا ملے پر مزید غور کر ے ،مقدمے کے دورا ن تما م فا ضل وکلا قا نونی ما ہر ین اور مذہبی سکالر ز نے بھر پور معاونت کی، یہ عدا لت ان کی کا وشوں کا اعتراف کر تی ہے، مقد مے کے دوران تما م سر کاری افسرا ن جو مختلف اداروں سے تھے ان کا تعا ون قا بل تعر یف تھا ، ڈپٹی اٹار نی جنر ل راجہ ارشد محمو د کیا نی نے مثا لی کر دار ادا کیا ،جس سے عدا لت کو صحیح فیصلے پر پہنچنے پر مدد ملی۔

تفصیلی فیصلہ

مزید :

علاقائی -