قومی زبان کے بغیر بہتر تعلیم اور ترقی کا تصور بھی نہیں کا جا سکتا : ممنون حسین

قومی زبان کے بغیر بہتر تعلیم اور ترقی کا تصور بھی نہیں کا جا سکتا : ممنون حسین

  

اسلام آباد (آئی این پی)صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ قومی زبان کے بغیر حقیقی تعلیم اور ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور اسے ذریعہ تعلیم بنا کر ہی ترقی کی ٹھوس بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ اردو زبان ایک ایسا ورثہ ہے جس پر ہمیں فخر ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے اسلام آباد میں وفاقی اردو یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس کا سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر نگران وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت محمد یوسف شیخ اورقائم مقام شیخ الجامعہ ڈاکٹر الطاف حسین نے بھی خطاب کیا۔تقریب میں وفاقی سیکریٹری تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ارشد مرزااور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کی طرح وفاقی اردو یونیورسٹی بھی ایک خواب ہے۔قیام پاکستان کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے عقائد، تہذیبی و ثقافتی اقدار اور اقتصادی مفادات کا تحفظ تھا جبکہ اردویونیورسٹی کا خواب اس لیے دیکھا گیا کہ اس ملک کے عوام، خاص طور پر نئی نسل زبانِ غیر کے جبر سے آزاد ہو کر علم و حکمت کے ہر شعبے میں اسی طرح ترقی کی منازل طے کر سکے جس طرح چین، جاپان اورترکی سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں نے قومی زبان میں تعلیم کو فروغ دے کر اپنی قوموں کے لیے ترقی کے دروازے کھول دیے تھے۔صدر مملکت نے کہا کہ تحریکِ آزادی کے دوران جب مخالف قوتیں مسلم تہذیب اور اس کے مظاہر پر حملہ آور ہوئیں تو اِن کا پہلا ہدف ہماری زبان بنی جس کے تحفظ کے لیے بابائے اردو اور کئی بڑی شخصیات نے اس کے تحفظ کے لیے خطرات مول لیے تھے۔بابائے اردو کے اس جہادکی سب سے بڑی وجہ یہی تھی جس کی عملی صورت ہمیں بعد میں دنیا کے دیگر حصوں میں دکھائی دی کیونکہ ان کا شمار ہمارے ان روشن دماغ اور دور اندیش قائدین میں ہوتا ہے جنھوں نے نہ صرف تعلیم وترقی کی حقیقی بنیادوں کی نشان دہی کی۔بابائے طب و صحت ، سائنس و ٹیکنالوجی اور سماجی علوم سے تعلق رکھنے والی ہزاروں قیمتی کتابوں کا ترجمہ کرایا جو آنے والوں کے لیے علم کا زخیرہ ہے ۔انھوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ جامعہ اردو شعبہ ابلاغِ عامہ جامعہ کراچی کے ساتھ مل کر دنیا کے جدید علمی ذخیرے کو اردو میں منتقل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انھوں نے کہا کہ اساتذہ کو ہدایت کی کہ وہ گروہ بندی سے بچیں کیونکہ وہ معاشرے کا رول ماڈل ہیں۔

ممنون حسین

مزید :

علاقائی -