تعصب ، امتیازی سلوک امریکی روایات کا حصہ ، پاکستانی نژاد ڈاکٹر سے انتہائی بدسلوکی

تعصب ، امتیازی سلوک امریکی روایات کا حصہ ، پاکستانی نژاد ڈاکٹر سے انتہائی ...

  

نیویارک (خصوصی رپورٹ) افسوس کی بات ہے کہ تعصب، امتیازی سلوک، قبائلی روایات ابھی تک امریکہ کا حصہ ہیں۔ 9/11 کے واقعہ کے بعد بہت سے امریکی قانون کی پابندی کرنے والے لاکھوں مسلمانوں کے بارے میں یہ سوچنے لگے ہیں کہ یہ بھی دہشت گرد ہیں اور وہ خفیہ طور پر جہاد کے حامی ہیں۔ اس بات کا خیال نہیں کیا گیا کہ کون قانون کی پاسداری کرنے والے امریکی ہیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہر مسلمان کے بارے میں یہ خیال کر لینا کہ وہ جہادی اور دہشت گرد ہے، یہ اسی طرح ہی ہے کہ یہ تصور کر لیا جائے کہ سکول میں ہر بچہ ہی گولیاں مارنے والا شوٹر ہے۔ اسی طرح کے تعصب کا شکار پاکستانی نژاد ایک ٹیلنٹڈ اور وفادار شخصیت ڈاکٹر سعید باجوہ ہیں۔ ڈاکٹر سعید باجوہ نیویارک کے معروف نیورو سرجن ہیں۔ انہوں نے بنگھانٹن، نیویارک اور نواحی علاقے میں 30 سال سے زائد عرصہ لوگوں کی مدد کرنے اور علاج معالجہ کرنے میں گزارا۔ لوگوں کو ادویات فراہم کیں۔ وہ پاکستان میں بھی انتہائی انسان دوست، فراخ دل اور سخی کے نام سے معروف تھے۔ اپنی طبع کے مطابق وہ ایک صوفی منش انسان ہیں، ان کے کام سے واقف وفاقی ججز نے انہیں قومی خزانہ قرار دیا مگر بدقسمتی سے جولائی 2011ء سے ڈاکٹر باجوہ حالات کے ستم کا نشانہ بنے۔ ان کی کئی سال کی سروسز کو نظرانداز کر دیا گیا۔ ڈاکٹر باجوہ پر پاکستان کے ہی ایک شہری نے ٹیکس چوری کا الزام عائد کر دیا۔ ایف بی آئی نے معاملات کی تحقیقات کی، جولائی 2011ء میں ڈاکٹر باجوہ کے اینڈی کورٹ نیویارک کے گھر پر ایف آئی اے نے چھاپہ مارا اور ان سے 20 سال کے خیراتی کاموں کے بارے میں تحقیقات کی۔ ان کے پاس ریکارڈ تھا اور انہوں نے جواب دے دیا۔ دوسروں نے ایف بی آئی کو یہ باور کرایا کہ ڈاکٹر باجوہ ٹیکس چوری کے کام میں ملوث ہیں اور وہ اس معاملے میں شریک ملزم ہیں۔ تحقیقات 3 سال جاری رہی۔ پاکستانی امریکی ٹیموں کو ٹیکس چوری کے حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت نہ مل سکے۔ 2014ء کے اواخر میں ڈاکٹر باجوہ کے اٹارنی کو یہ یقین ہو گیا کہ ڈاکٹر باجوہ کو سزا دینے کے لئے ثبوت ناکافی ہیں مگر انہیں اس حوالے سے خوف تھا کہ 9/11 کے واقعہ پر ملوث افراد میں ان کا نام آ سکتا ہے۔ ڈاکٹر باجوہ کو ایک پلی بارگین پر مجبور کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر باجوہ 30 سالہ خدمات کے باوجود حکومتوں کے تعصب کا شکار بنے۔ ان کے مریضوں اور ان کے اہل خانہ سے اس بدسلوکی کی کیسے معافی مانگی جا سکتی ہے؟ یہ شرم کی بات ہے۔ ڈاکٹر باجوہ گزشتہ دنوں دل کے عارضہ میں مبتلا رہے، انہیں دو سٹنٹ ڈالے گئے اور وہ اب ٹھیک ہیں۔

ڈاکٹر باجوہ

مزید :

صفحہ اول -