فارمولا فلموں کی طرح انتخابات میں ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کا سحر بھی ختم ہو جائیگا

فارمولا فلموں کی طرح انتخابات میں ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کا سحر بھی ختم ہو جائیگا
فارمولا فلموں کی طرح انتخابات میں ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کا سحر بھی ختم ہو جائیگا

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

عمران خان نے بالآخر انتخاب میں کامیابی کی شاہ کلید پا ہی لی، ۔۔۔ الیکٹ ایبلز اور دولت۔۔۔ اپنے تازہ ترین انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں عوامل کے بغیر آپ الیکشن نہیں جیت سکتے، لیکن اس راز تک پہنچنے کے لئے انہیں ربع صدی لگ گئی جب وہ اپنی تحریک تشکیل دینے کے بعد پہلی بار انتخابی میدان میں اترے تو ان کے سیاسی تصورات آج سے قطعی مختلف تھے، وہ اکیلے ہی قومی اسمبلی کی سات نشستوں پر امیدوار بن گئے، اگرچہ انہیں ورلڈ کپ جیتے ہوئے پانچ برس ہی بیتے تھے اور ان کی کرکٹ میں کامیابیوں کے پھریرے اب تک لہرا رہے تھے، پھر انہوں نے ایک کینسر ہسپتال بنانے میں بھی کامیابی حاصل کر لی تھی، لیکن یہ دونوں کارنامے انتخابی میدان میں ان کے کسی کام نہ آئے۔ یہ 97ء کی بات ہے، اس کے بعد اگلے انتخابات 2002ء میں ہوئے تو بھی ان کے حصے میں صرف ایک نشست آئی، حالانکہ اس وقت بھی ان کا خیال تھا کہ وہ ایک سو نشستیں جیت رہے ہیں، اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اتحاد کر لیں تو انہیں چار چھ نشستیں مل سکتی ہیں۔ عمران خان کا جواب سن کر وہ ہنسے اور پھر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ اس وقت عمران خان مسلم لیگ (ق) کی قیادت کو کرپٹ تصور کرتے تھے اور اس بنا پر اس کے ساتھ اتحاد نہیں کرنا چاہتے تھے۔ دوسرا انہیں اپنی کامیابی کا پختہ یقین تھا، اس لئے بھی وہ کسی اتحاد کی ضرورت نہ سمجھتے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے مشورے کو کوئی اہمیت نہ دی تھی، آج وہ اسی مسلم لیگ (ق) کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر چکے ہیں اور ان تمام الیکٹ ایبلز کا اپنی جماعت میں خیرمقدم کرکے انہیں ٹکٹ بھی دے چکے ہیں جنہیں وہ پارلیمینٹ کے باہر کھڑے ہو کر چور اور ڈاکو کہتے تھے۔ اب حالات کے جبر نے انہیں یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ’’الیکٹ ایبلز اور دولت‘‘ کے بغیر کوئی انتخابی کامیابی نہیں، زمینی حقیقتیں اپنے آپ کو اسی طرح منواتی ہیں، لیکن وہ جو غالب نے کہا تھا ’’ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا‘‘ امکان یہ ہے کہ عمران خان کو بھی کہیں ایسی ہی صورت حال درپیش نہ ہو، جن الیکٹ ایبلز کو عمران خان نے ٹکٹ دیئے ہیں وہ اس امید پر ہی دیئے ہیں کہ وہ کامیاب ہوں گے اور وہ وزیراعظم بنیں گے۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ایوان وزیراعظم صرف چار ہفتوں کی دوری پر ہے۔ عمران خان کے وزیراعظم سے زیادہ پنجاب کے متوقع وزرائے اعلیٰ زیادہ جذباتی ہو رہے ہیں۔ علیم خان تو ٹھنڈی کرکے کھانا چاہتے ہیں لیکن شاہ محمود قریشی اور تازہ انٹری فواد چودھری کی پھرتی چھپائے نہیں چھپتی۔

ایک زمانے میں فارمولا فلمیں بڑی تعداد میں بنتی اور چلتی تھیں لیکن آخر ان کا دور ختم ہو گیا اور اسے ختم ہونا ہی تھا، پاکستان کی فلم انڈسٹری اگر آج اپنی ناکامیوں پر نوحہ کناں ہے تو ان میں ان فارمولا فلموں کا بھی بڑا حصہ ہے جنہیں ہمیشہ کامیابی کی ضمانت سمجھا گیا، اس پس منظر میں کیا یہ سوال قبل از وقت یا بے محل ہے کہ سیاست میں کبھی ایسا وقت نہیں آئے گا جب الیکٹ ایبلز فارمولا فلموں کی طرح ناکام ہونا شروع ہو جائیں؟ ہمارے خیال میں 2018ء کے الیکشن سے اس کا آغاز ہو جائے گا اور آپ دیکھیں گے کہ پاپولر ٹکٹ کے باوجود بہت سے الیکٹ ایبلز ان انتخابات میں بری طرح ناکام ہو جائیں گے، اگر آپ بہت زیادہ خوش فہم اور آپ کا یہ خیال ہے کہ الیکٹ ایبلز کا فارمولا پاکستانی سیاست کی فلموں میں ہمیشہ کامیابی کی ضمانت بنا رہے گا تو آپ کو یہ رائے رکھنے کا پورا پورا حق ہے، لیکن اگر یہ فارمولا سو فیصد نہ سہی 50 فیصد بھی ناکام ہو گیا تو سمجھ لیجئے ہماری سیاست کا حال بھی فارمولا فلموں کی طرح ہونے والا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب آپ الیکٹ ایبلز کو ناکام ہوتے دیکھیں گے تو حیرت سے آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔

2018ء کے الیکشن میں جو نئے عوامل داخل ہوئے ہیں انہیں اگر آپ نظرانداز کر رہے ہیں تو سیاسی حرکیات آپ کو حیران و ششدر چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں گی۔ ان انتخابات میں بعض جماعتیں تو وہ ہیں جو طویل یا مختصر مدت کے لئے برسراقتدار رہ چکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) تین بار وفاق میں اور اتنی ہی مرتبہ پنجاب میں برسراقتدار رہ چکی، پیپلزپارٹی چار بار وفاق میں ڈیڑھ بار پنجاب میں (ایک دفعہ پوری حکومت اور ایک بار مخلوط حکومت) اور پانچ بار سندھ میں برسراقتدار رہ چکی، تحریک انصاف نے بھی جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر کے پی کے میں اقتدار کا مزہ چکھ لیا۔ اب تک اس کے کیف و سرور میں مبتلا ہے اور ابھی سے مزید خواب دیکھے جا رہے ہیں، ایم ایم اے بھی اس صوبے پر حکومت کر چکی ہے،۔ سندھ میں ایم کیو ایم بھی سالہا سال اقتدار کی لذتیں لیتی رہی لیکن مان کر نہیں دیا کہ وہ بھی حکومت کا حصہ ہے جب دل چاہا اپوزیشن شروع کر دی یعنی دل پر یہ اختیار کہ شب موم کر لیا، سحر آہن بنا لیا۔

ماہِ رواں کے الیکشن میں جو نئی سیاسی جماعتیں کردار ادا کر رہی ہیں، ان میں ملی مسلم لیگ اور اللہ اکبر تحریک کا اتحاد ہے جس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اوّل الذکر کی رجسٹریشن سے انکار کر دیا گیا۔ تحریک لبیک کے دو دھڑے بھی میدان میں ہیں۔ جیپ کے نشان والے ایک سو سے زیادہ آزادگان بھی ایک فیکٹر ہیں، بلوچستان کی نئی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی بھی پہلی مرتبہ الیکشن لڑ رہی ہے۔ ایم ایم اے نے آٹھ سال بعد دوبارہ اتحاد کر لیا ہے۔ سنی اتحاد کے نام سے بھی ایک سے زیادہ جماعتیں سرگرم عمل ہیں۔ جسٹس وجیہہ الدین احمد اور جواد احمد کی پارٹیاں بھی اپنے اپنے انداز میں سرگرم عمل ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کر رکھے ہیں۔ ایم کیو ایم کے بھی دو بڑے گروپ اور پاک سرزمین پارٹی بھی قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔ اگر اتنی ساری جماعتیں الیکٹ ایبلز کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں اور ہر حالت میں ان کی جیت پر انحصار کیا جا رہا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ سب جماعتیں یوں ہی بغیر دیکھے بھالے کس خوشی میں الیکشن کے میدان میں کود پڑی ہیں؟ ملی مسلم لیگ پہلے ہی کے پی کے میں ایم ایم اے کے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔

الیکٹ ایبلز

مزید :

تجزیہ -