ہماری اخلاقی اور تہذیبی تبدیلی کا سفر

ہماری اخلاقی اور تہذیبی تبدیلی کا سفر
ہماری اخلاقی اور تہذیبی تبدیلی کا سفر

  

ہمیں بہر حال اب اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم اخلاقی اور تہذیبی پستی کی آخری حدوں کے قریب پہنچ چکے ہیں ہماری اخلاقی پالیسیوں اور تہذیبی ترجیحات میں یکسر تبدیلی واقع ہو چکے ہے ہماری سماجی ، اخلاقی ، معاشی اور شخصی روایات ایک نئی ہی شکل میں ڈھل چکی ہے تبدیلی کے اس عمل نے سوسائٹی کی حقیقی شکل و شباہت اور حسن کو شدید نقصان پہنچایا ہے اگر ہم اپنی اس اخلاقی و تہذیبی تبدیلی کے سفر کا بغور جائزہ لیں تو ہم حیران رہ جائیں گے ابھی بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب اخلاقی حدود کی پاسداری خاندانی شرافت کی مظہر تھی لوگ اخلاقی اوصاف کا مظاہرہ باعث فخر سمجھتے تھے کسی کو مخاطب کرتے وقت ادب کے تقاضوں کو مخلوظ خاطر رکھتے تھے نشت و برخاست کے اداب مہذہب ہونے کی علامت تھے محفل میں بیٹھ کر تہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا جاتا تھا گفتگو کے دوران الفاظ کا چناؤ اور لہجے کا اتار چڑھاؤ تعلیم یافتہ ہونے کا ثبوت ہوا کرتا تھا گفتگو کے موضوعات بھی اخلاقی دائرے میں ہوتے تھے گالی گلوچ اور بے ہودہ زبان ایک عیب تھا لوگ دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے اختیاط برتتے تھے اور ان کی عزت اور مرتبے کا خیال رکھتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سب اب بہت حد تک تبدیل ہو چکا ہے کسی کے مرتبے اور عزت کا خیال تو درکنار لوگ اب دوسروں کی کردار کشی اور عیب جوئی کو فرض سمجھ کر نبھاتے ہیں کسی کو جگت کرنا فیشن سمجھتے ہیں زندہ دلی کے نام پر محفل یاراں میں لچرپن اور گالیوں کا تڑکا دیا جاتا ہے جھوٹ اور دھوکہ دہی سمجھداری کے زمرے میں داخل ہو چکے ہیں آزادی کی آڑ میں دوسروں کے رتبے اور مقکام کا خیال نہیں رکھا جاتا اور گفتگو کے دوران ایسے بے ہودا اور غیر اخلاقی الفاظ کا استعمال کیا جاتا ہے کہ بے چارے الفاظ شرم سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔

وعدوں کی پاسداری زبان و بیان کا لحاظ اور گفتگو میں شائستگی اب اکثریت کی نظرمیں کمزور شخصیت کی علامت سمجھی جانے لگی ہے معاشرتی رویوں میں بھی ول لچک نہیں جو کبھی ہماری معاشرتی زندگی کا حسن تھی، ہمسایوں سے حسن سلوک، محلے داروں سے میل ملاپ، دکھ سکھ میں تعاون، رواداری، برداشت خوش خلقی نہ جانے کہاں بسیرا کیے بیٹھی ہیں ۔ ان کی جگہ عدم برداست ، غصہ ،نفرت، نام نہاد آزادی نے معاشرے میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور چودھراہٹ تلے دب کر رہ گئے ہیں۔ بات بات پر آپے سے بار ہونا اور دوسروں کے جذبات مجروع کرنا عادات کا حصہ بنتا جا رہا ہے ۔ معاشرتی رویوں میں لچک زندگی مین توازن پیدا کرتی ہے مگر یہ لچک رفتہ رفتہ ختم ہوتی جا رہی ہے وہ چھوتی چھوٹی باتیں جو کبھی بڑی خوشیوں کا ساماں ہوا کرتی تھیں اور ہماری معاشرتی زندگی کا طفری تقاضا اور حسن تھیں اب قصہ پارینہ ہو چکی ہیں سردیوں میں آگ کے الاؤ کے گرد بیٹھ کر خشک میوہ جات کے مزے اور گرمیوں کی دوپہروں میں گھنے درختوں تلے خوش گپیوں کے ذائقے مدتوں سے ہماری زبان بھلا چکی ہے اب موسموں کا لطف اٹھانے کی بجائے ان کے حفاظتی اقدامات کے بہانے انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ کھیل اور تفریح کی نوعیت بھی بالکل ہی بدل چکی ہے باہمی دل چسپیوں پر اب باہمی ضروریات غالب آ چکی ہیں ۔

وش نمائی کی جگہ خود نمائی آ گئی دل آویز مسکراہٹ کی بجائے اب کھوکھلے قہقے سنائی دیتے ہیں شہر پھیلتے جا رہیں لیکن دل و ذہن سکڑتے جا رہے ہیں گاڑیوں اور سواریوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے مگر فاصلے ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں یہ نت نئی قیمتی اور دلکش گھڑیاں آ تو گئی ہے مگر وقت ہماری اختیار سے نکل گیا ہے دن اور رات کی پہچان کم ہوتی جا رہی ہے، اب تو بہت ساری سموں اور پرکشش تہواروں کے صرف نام ہی رہ گئے ہیں ان کا حقیقی لطف اٹھانے والے لوگ زمانے کی کردشوں میں کہیں کھو گئے ہیں جن تہواروں کیلئے کئی دنوں تک بڑھ چڑھ کر تیاری کی جاتی تھی اور شدت سے انتظار کیا جاتا تھا آج ان کی آمد کے موقع کی خبر بذریعہ ایس ایم ایس دی جاتی ہے اور رسموں رواجوں کی پر جوش سیلیبریشن کو ہم نے صرف موبائل ایس ایم ایس تک محدود کر دیا ہے دیگر معاشرتی سرگرمیوں میں بھی ہماری شکرت اور دلچسپی معدوم ہو چکی ہے اب ہم ان سرگرمیوں میں صرف حاضری لگوانے جاتے ہیں خواہ وہ کسی کا جنازہ ہی کیوں نہ ہو۔ خاندانی سرگرمیوں کا دائرہ بھی محدود ہو کر رہ گیا ہے اب ایک ہی گھر میں دس لوگ اپنے اپنے کمروں میں مختلف سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں اور ایک ہی گھر میں رہنے والوں کو کئی دنوں تک ایک دوسرے سے ملاقات کا موقع میسر نہیں آتا جبکہ کچھ ہی سال پہلے خاندانی رشتوں کی مٹھاس کے مزے لیتے تھے خاندان میں ہونے والی تمام سرگرمیوں میں برابر شریک ہوتے تھے رشتوں کی چاہت کے ذائقے محسوس کرتے تھے ہماراآج ہمارے گزرے ہوئے کل سے قطعی مختلف ہو چکا ہے ہمارے گزرے کل میں ہم طفرت کے قریب تر تھے زندگی ہمارے اردگرد تھی اور ہم اسے محسوس کرتے تھے اخلاقی اور تہذیبی طور پر اپنے آپ سے خوش اور مطمئن تھے ہمار ے پاس وقت کم تھا مگر بہت زیادہ لگتا تھا ہم صبح ،شام ، رات، دن سردی، گرمی،برسات،پیار، خلوص،رنگوں،خوشبوؤں اور زندگی کی لذتوں سے آشنا تھے آج ہم فطرت سے دور ہوتے جا رہے ہیں ہم زندہ ہیں مگر زندگی کے ذائقوں سے محروم ہیں آج ہمارے پاس بہت زیادہ ہے لیکن بہت کم لگتا ہے ہم نے اپنے کل اور آج کے اس تہذیبی اور اخلاقی سفر میں اپنی اصل صورت کو ہی مسنح کر دیا ہے کل اور آج سے اس سفر میں ہم نے زیادہ کھویا ہے اور نہ ہونے کے برابر پایا ہے ہم نے اخلاقی خوبیوں کو اخلاقی خامیوں تلے دفن کر دیا ہے اور تہذیب اور شائستگی پر لچرپن کو فوقیت دے دی ہییہی وجہ ہے کہ ہم اور ہمارا ماحول ہمیں وہ لطف اور اطمینان نہیں دے رہا جو اس کا اصل خاصہ ہے ہمیں ہماری کھویئی ہوئی خوشیوں اور شادمانیوں کو دوبارہ ھاصل کرنے کیلئے اپنے اس غیر فطری سفر کو روکناہو گا ہمیں غیر اخلاقی اور بد تہذیبی پر مبنی رجحانات کو ترک کرنا ہو گا ہمیں اپنے ارد گرد کے ماحول میں مثبت اور حقیقی خوشیوں کے حصول کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے اس کے لئے سب سے پہلے ہمیں خود ایک مثال بننا ہو گا ہمیں ان تمام اخلاقی اور احسن اندان میں معاشرے کے سامنے پیش کرنا ہو گا ہمیں اچھائی کا آغاز اپنی ذات سے کرنا ہو گا تمام اخلاقی خوبیوں، اچھائیوں، اور خوشیوں کو اپنی موجودہ تہذیب میں جگہ دینی ہو گی ان کی اہمیت اجاگر کرنا ہو گی ہمیں معاشرے میں امن، آگہی، سکول ، حسن اخلاق مسکراہٹوں اور چاہتوں کے نئے بیج بونا ہو گے ،ان بیجوں کو محنت ، ایثار ، خلوص اور توجہ کا ماحول دینا ہو گا ان کو مستقل مزادی کے پانی سے سیران کرنا ہو گا تا کہ ہم اور ہمارا معاشرہ اس کے پھول و پھل سے فیض یاب ہو سکے ،معاشرے کا اصل حسن اور خوبصورتی اس میں اعلیٰ اور مثبت روایات اور سرگرمیوں کی موجودگی اور روانی ہے غیر اخلاقی متعصبانہ اور منفی رجحانات ، رویے اور سرگرمیاں معاشرے کی روح کو کھا جاتی ہیں،

فیثا غورث نے کہا تھا اگر ہم اخلاقیات کا ہندسہ سمجھیں اور کسی فرد یا معاشرے میں اس کے علاوہ جتنی خوبیاں ہوں ان کو صفر کی صورت میں آگے درج کرتے جائیں تو اس کی قیمت بڑھتی جائے گی لیکن اگر یہی لفظ ایک یا لفظ اخلاقیات آگے سے ہتا دین تو باقی صرف صفر ہی بچے گا، سوا خلاقیات کے بغیر وہ سب خوبیاں بے کار ہیں خواہ وہ فرد میں ہوں یا معاشرے میں۔

مزید :

رائے -کالم -