جنگل،شیر اور شکاری

جنگل،شیر اور شکاری
جنگل،شیر اور شکاری

  

جنگل میں بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ شیر کے خلاف ایک بار پھر بغاوت ہوگئی ہے۔ جنگل کے مکینوں نے اپنے تحفظ کے لئیے پھر شکاریوں سے رابطہ کیا تو جواب ملا کہ سارے شکار قواعد و ضوابط کے مطابق کئیے جائیں گے اور کوئی تفرق روا نہیں رکھی جائے گی۔سنا ہے شکاریوں نے   جپیں لے لی ہیں اور جنگل میں وحشت و درندگی پھیلانے والوں کا شکار اسپورٹس مین اسپرٹ کے ساتھ کیا جائے گا۔جیپ کی سواری بڑی پیاری ۔مگر جنگل کے بادشاہ شیر کی سواری کو چھوڑ کر جیپ کی سواری کرنے میں کیا مزا آئے گا۔یہ بات تو لوگوں کے علم میں ہے  کہ جیپ کی سواری شکاریوں کی پسندیدہ سواری ہے اور ہر طرح کے رستے پر چلنے میں بہترین ثابت ہوتی ہے ۔وہ ہانکا کئے بغیر بھی جنگل میں شیر کا شکار کرلیتے ہیں اورلگتا ہے اب کی بار شکاری نے جنگل کے بادشاہ کو شکار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شکاری کا شکار شیر تک محدود رہے گا یا مسقبل قریب میں اس فہرست میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ایک وقت ہوا کرتا تھا جب شکاری لا ابالی طبیعت رکھتے تھے تو انہیں پتنگ اڑانے کا بہت شوق تھا ۔ اس پتنگ سے انہوں نے بہت پتنگیں کاٹیں مگر جب خونی ڈور سے ہاتھ لہو لہان ہونے لگے ،گردنیں کٹنے لگیں تو انہوں نے پتنگ بازی کو خیرباد کہہ کر ڈولفن کے تماشے دکھانے شروع کر دئیے ۔  مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔تیر اور شیر کا آپس میں پرانا بیر ہے مگر تیر اتنا زنگ آلود  اور کند ہوگیا ہے کہ شیر پر اسکے گھاؤ کوئی اثر نہ کر پائے  اور تیر کا ہر وار جنگل کا بادشاہ  پھول سمجھ کر سہتا رہا۔

شکاری کھیلوں کے بھی شوقین ہیں  ۔انہیں کرکٹ بھی بہت پسند ہے  مگر شکاریوں نے جو کرکٹ کی ٹیم بنائی ہے اسکا حال پاکستان کی کرکٹ ٹیم جیسا ہی ہے۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ ۔  کبھی فٹنس کے مسائل ہیں تو کبھی فیلڈنگ میں کمزوری ۔ بعض اوقات ٹیم کے کپتان کا غیر ضروری جارحانہ رویہ ۔ بے تکے بیانات ۔ اور اسکینڈل ٹیم مینجمنٹ کو شدید مشکل میں ڈال دیتے ہیں  ۔

چونکہ جنگلوں کے بھی قانون ہوا کرتے ہیں ، شکاری کو پرمٹ کے بغیر شکار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ۔ مگر بعض جانور جنگل کا ماحول خراب کرنے یر تل جائیں ۔ اور وحشی جانور من مانی کرنے لگیں تو شکاری کی مجبوری ہوتی ہے کہ اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیئے وہ کسی وقت بھی اپنی سواری اور سوار بدل سکتا ہے۔پس شکاریوں نے فیصلہ کیا ہے  کہ  شیر کو سزا دینے کے لئیے حتی الامکان قانونی راستے اختیار کئیے جائیں ۔ اور جنگل کے جانور کو حق دیا ہے کہ اپنے بادشاہ کا انتخاب وہ خود کریں ۔

شکاریوں کے طریقہ کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر انکی نیت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا ۔  جیپ کا انتخاب شاید اس لیئے کیا ہے کہ شیر کی رفتار کو کنٹرول کرنا آسان ہوتا ہے اور ٹائروں سے زخمی بھی کیا جا سکتا ہے ۔ جنگ کا امن و امان قائم رکھنے میں شکاریوں نے بہت قربانیاں دی ہیں  جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔

جب شیر اپنی رعایا کا خیال نہ رکھ سکے اور اسکی پوری توجہ اپنے اہل و عیال کے لئیے شکار جمع کرنے میں لگی رہے ۔ اور  وہ دوسرے جنگلوں سے اپنے ہم عصروں کو دعوت قیام و طعام دیتا رہے۔  جب  شیر ہاتھی کے سامنے اسکی طاقت دیکھ کر جھک جائے اور  معصوم ہرن کو اپنا ترنوالہ بنا لے تو فطرت کے شکاریوں کو حرکت میں آنا پڑتا ہے ۔ پھر وہ مجبور ہوجاتے ہیں  کہ جنگل کے شیر کو سرکس کا شیر بنا دیا جائے یا شکار ہی کرلیا جائے۔جب بادشاہ کا شکار ہوگا تو اہل و عیال اور قریبی مشیر بھی لپیٹ میں آئیں گے ہاں اگر کوئی بادشاہ کے جمع کئیے ہوئے شکار کی مخبری کردے تؤ  تو اسے  اگلی جنگلی کابینہ میں اعلیٰ عہدہ دیا  جا سکتا ہے

شکاریوں کے پاس بھی یہ آخری موقع ہے کہ وہ جنگل کا نظم و نسق اہل لوگوں کے سپرد کریں نہیں تو جہاں جنگل بنجر ہوگا،   بھوکے جانوروں میں بغاوت جاگ اٹھے گی پھر وہ نہیں دیکھیں گے کہ انہوں نے پیٹ کی بھوک شیر کے گوشت سے بجھانی ہے یا ہاتھی کی کھال سے۔

یاد رہے دوستو، یہ فقط جنگل کی کہانی ہے ۔اس سے ملکی سیاست کا کوئی لینا دینا نہیں۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -