شاہد خاقان کی تاحیات نااہلی اور فواد چودھری بارے الیکشن اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم

شاہد خاقان کی تاحیات نااہلی اور فواد چودھری بارے الیکشن اپیلٹ ٹربیونل کا ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں تاحیات نااہل قرار دینے سے متعلق الیکشن اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم کردیا۔فاضل بنچ نے پاکستان تحریک انصاف کے راہنما فواد چودھری کو حلقہ این اے 67جہلم سے نااہل قراردینے کی بابت الیکشن اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ بھی کالعدم کردیا ، پاکستان تحریک انصاف کے حلقہ این اے 64چکوال سے امیدوار سردار غلام عباس اور حلقہ این اے 146عارف والاسے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رانا زاہداورحلقہ این اے 105فیصل آباد سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار رانا آصف توصیف، حلقہ این اے 145اور پی پی 192سے امیدوارچودھری جاوید احمد کوبھی انتخابات کیلئے نااہل قرار دیاہے جبکہ حلقہ این اے 87سے مسلم لیگ (ن) کی سابق وزیر سارہ افضل تارڑ کی نااہلی کیلئے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کا فیصلہ برقراررکھا۔تفصیلات کے مطابق الیکشن اپیلٹ ٹربیونل نے حلقہ این اے 57سے شاہد خاقان عباسی کو آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف کے تحت نااہل قرار دیا تھا ، جس کے خلاف انہوں نے عدالت عالیہ میں یہ رٹ درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن ٹربیونل کو کسی امیدوار کو تاحیات نااہل قراردینے کا اختیار حاصل نہیں ہے ۔الیکشن ٹربیونل صرف کاغذات نامزدگی کا جائزہ لے سکتا ہے ۔انہوں نے مزید موقف اختیار کیا تھا کہ ان پر کاغذات نامزدگی میں ٹیمپرنگ کا الزام درست نہیں ۔گزشتہ روز فاضل بنچ میں متعلقہ ریٹرننگ افسر ریکارڈ سمیت پیش ہوئے ،فاضل بنچ نے چیمبر میں ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد شاہد خاقان عباسی کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے الیکشن اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم کردیااور حلقہ این اے 57سے ان کے کاغذات نامزدگی منظور کرتے ہوئے انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی ۔فاضل بنچ نے الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ پہلے ہی معطل کررکھا تھا۔عدالت میں اعتراض کنندہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات کاغذات نامزدگی کے برعکس جمع کرائی تھیں اورانہوں نے بعد میں ٹیمپرنگ کی ،وہ آئین کے آرٹیکل 62،63 کی شرائط پر پر پورا نہیں اترتے۔فواد چودھری کی طرف سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ ریٹرننگ افسرنے ان کے کاغذات نامزدگی منظور کئے تھے جبکہ الیکشن اپیلٹ ٹربیونل نے حقائق کے برعکس ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر کے انہیں نااہل قرار دیا۔ان کے وکیل نے بتایا کہ ٹربیونل نے بیرون ملک دوروں کے اخراجات اور اثاثہ جات کی تمام تر تفصیلات فراہم نہ کرنے کو جواز بنایاجبکہ اس بابت کاغذات نامزدگی کے ساتھ لف کی گئی دستاویزات کو نظر انداز کیا گیا۔سردار غلام عباس نے اپنے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے سے متعلق الیکشن اپیلٹ ٹربیونل کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اپیلٹ ٹربیونل کا فیصلہ برقراررکھا۔دوران سماعت فاضل بنچ نے غلام عباس سے استفسار کیا کہ آپ عوامی نمائندے ہیں اور آپ کا این ٹی این نمبر ہی نہیں ہے ،آپ نے عوامی نمائندہ ہوتے ہوئے پر تعیش زندگی گزاری اورگورنمنٹ کو ایک پیسہ ٹیکس نہیں دیا۔عدالت نے مزید ریمارکس دئیے کہ آپ 2 دفعہ ایم پی اے اور 2 دفعہ ڈسٹرکٹ ناظم بھی رہے ہیں ۔آپ کو معلوم ہے ہر پیدا ہونے والا بچہ دو لاکھ روپے کا مقروض ہوچکا ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ لاہور شہر میں کشتیاں چلیں ،پیرس کا حال دیکھا آپ نے؟10 سال حکومت کرنے والوں نے لاہور کا یہ حال کیا ہے ۔بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے مزید ریمارکس دیئے کہ آپ نے ڈالر کا حال دیکھا ہے ،آپ بیچنے جائیں تواس کی قمیت 126 روپے اور خریدنے جائیں تو 140 روپے ہے ،ہم نے ڈالر کو 14 روپے میں فروخت ہوتے دیکھا ہے ،سردار غلام عباس کے وکیل احسن بھون نے موقف اختیار کیا کہ میرے موکل کی ساری زندگی مثالی ہے ۔انہوں نے سادہ زندگی گزاری ،کاغذات نامزدگی منظور کرتے ہوئے انہیں حلقہ این اے 64 چکوال سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے تاہم فاضل بنچ نے ان کی درخواست مسترد کردی۔دریں اثناء عدالت عالیہ کے ڈویژن بنچ نے حلقہ این اے 146 عارف والاسے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رانا زاہد کوجعلی ڈگری کی بنا پر نااہل قراردیتے ہوئے ان کے حق میں الیکشن اپیلٹ ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ان کے خلاف اعتراض کنندہ نے موقف اختیار کیا کہ ان کی ڈگری جعلی ثابت ہوچکی ہے ،وہ صادق اور امین نہیں ہیں ۔عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد رانا زاہد کو نااہل قراردے دیا۔جسٹس شمس محمود مرزا اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے این اے 105فیصل آباد سے تحریک انصاف کے امیدوار رانا آصف توصیف کو محمد حنیف جٹ کی درخواست پر نااہل قراردیا۔رانا آصف توصیف پر الزام تھا کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثے اور قرضوں کا ذکر نہیں کیا۔رانا آصف توصیف نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے بینک ڈیفالٹر ہونے کو بھی چھپایا ۔رانا آصف توصیف کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ ان کے قرضے ری شیڈول ہوچکے ہیں جبکہ عدالت سے ان کی اہلیہ صباء آصف کے نام پر جاری ڈگری بھی معطل ہوچکی ہے تاہم فاضل بنچ نے ان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کالعدم کرتے ہوئے انہیں حلقہ این اے 105کے لئے نااہل قراردے دیا۔دریں اثناء لاہور ہائی کورٹ نے حلقہ این اے 146سے تحریک انصاف کے امیدوار امجد جوئیہ کو نااہل قراردینے کے لئے دائر درخواست مسترد کردی ۔عدالت نے پی پی 229وہاڑی سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد یوسف اور پی پی 105سے رانا بلال فاروق کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ان کی اہلیت کا فیصلہ برقراررکھا۔ان پر اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھاجسے عدالت عالیہ کے ڈویژن بنچ نے مسترد کردیا۔عدالت نے حلقہ این اے 145اور پی پی 192سے امیدوارچودھری جاوید احمد کوبھی انتخابات کے لئے نااہل قرار دے دیا،عدالت نے کاغذات نامزدگی میں تعلیم سے متعلق حقائق چھپانے پر انہیں نااہل قرار دیا۔حلقہ این اے 87سے مسلم لیگ (ن) کی سابق وزیر سارہ افضل تارڑ کی نااہلی کے لئے دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کا فیصلہ برقراررکھا۔درخواست گزار کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا تھاکہ سائرہ افضل تاڑر نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے ہیں،انہوں نے اپنی منقولہ جائیدادکا کاغذات نامزدگی میں ذکر نہیں کیا ،علاوہ ازیں سائرہ افضل تاڑر نے اپنے شوہر کے ذریعہ معاش کا حوالہ بھی نہیں دیااور اپنی زرعی اراضی کاذکر نہیں کیا ہے ،عدالت عالیہ کے ڈویژن بنچ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے اور فریقین کا موقف سننے کے بعد درخواست مسترد کرتے ہوئے سارہ افضل کو الیکشن کے لئے اہل قراردے دیا۔

ہائی کورٹ بینچ

لاہور(نامہ نگار خصوصی)مسلم لیگ(ن) کے رہنماء شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہر مرتبہ اداروں نے الیکشن میں مداخلت کر کے اسے متنازعہ بنایا، عام انتخابات کو متنازعہ نہ بنایا جائے، ہم نے تمام سازشیں عوام کے سامنے رکھ دی ہیں ۔احتساب عدالت میاں محمدنواز شریف کے حوالے سے جو بھی فیصلہ دے گی،ہم اس کا مقابلہ کریں گے ۔لاہور ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میاں نوازشریف اہلیہ کہ طبیعت بہتر ہوتے ہی واپس آ جائیں گے ۔پاکستان میں مسلم لیگ (ن)کی لیڈرشپ موجود ہے اور تمام راہنمابھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے الیکشن میں کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو الیکشن میں مداخلت سے باز رہنا چاہیے۔ہماری دعا ہے کہ پاکستان میں شفاف الیکشن ہوں اور متنازعہ نہ ہوں۔

شاہد خاقان عباسی

مزید :

کراچی صفحہ اول -