پشاور پولیس کا آئس نشہ کیخلاف کریک ڈاؤن ،462افراد گرفتار، 344کیخلاف مقدمات

پشاور پولیس کا آئس نشہ کیخلاف کریک ڈاؤن ،462افراد گرفتار، 344کیخلاف مقدمات

  

پشاور(کرائمز رپورٹر)پشاور پولیس نے آئس کے خلاف نئی حکمت عملی کے تحت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے مرکزی ڈیلروں کی نشاندہی کر کے ضلع خیبر انتظامیہ کو فہرست ارسال کردی ۔خصوصی مہم کے دوران آئس/منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہوئے 374 مقدمات درج رجسٹر کرکے462 افراد کو گرفتار کرکے بھاری مقدار میں آئس،ہیروئن، چرس اور شراب برآمد کرلی۔ اس ضمن میں گزشتہ روز ایس ایس پی آپریشن جاوید اقابال نے ایس پی سٹی شہزادہ کوکب فاروق کے ہمراہ پشاور پولیس لائن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے عوام خصوصا طلباء میں اس کے خلاف شعور اجاگر کرنے کیلئے سکول کالجز ٗ اساتذہ کرام او ر سول سوسائٹی سے بھرپور کردار ادا کرنے کی اپیل سی سی پی او قاضی جمیل الرحمن نے معاشرے میں منشیات با الخصوص آئس کے بڑھتے ہوئے رجحان اوراس کی وجہ سے نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کی خاطر ضلع پشاورمیں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران منشیات کے خلاف خصوصی مہم کا آغاز کیا تھا۔ ایس ایس پی آپریشن پشاور جاوید اقبال کی قیادت میں تمام ڈویژنل ایس پیز، ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز نے بڑھ چڑھ کر خصوصی مہم میں حصہ لیا اور منشیات فروشوں، سمگلروں اور خصوصی طور پر آئس کا کاروبار کرنے والے جرائم پیشہ افراد کو قانون کے گرفت میں لانے کے لئے بھر پورکارروائیاں کیں۔ خصوصی مہم کے دوران پشاور کے مختلف تھانوں میں 374 مقدمات درج رجسٹر کرکے 462 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ جن کے قبضے سے مجمو عی طور پر 421 گرام آئس ، 2 کلو گرام ہیروئن ،12 کلو گرام افیون ، 225 کلو گرام چرس اور 156 بوتل شراب بر آمد کر لی گئی ہے۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے تھانہ ریگی کی حدود میں ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے 4 آئس فروشوں نور اکرم ولد خالق نور، محمد کریم ولد حاجی رحمت، اسلم شاہ ولد میر عالم اور سید علی شاہ ولد میر عالم شاہ ساکنان جمرود کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے بھار ی مقدار میں آئس برآمد کر لی گئی جن کو عدالت کے سامنے پیش کرکے عدالت سے جرمانہ کے بعد رہاکر دیا گیا حالیہ مہم کے دوران آئس کے کاروبار میں ملوث جرائم پیشہ عناصر کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا گیا ہے جن کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے لیکن منشیات ایکٹ آئس کے مضمرات اور اس سے ہونے والے نقصانات کا بہتر طور پر احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ ماضی میں دیکھنے میں آیا ہے کہ آئس کے الزام میں گرفتار افراد کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی لیکن آئس فروش منشیات ایکٹ میں قانونی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کرجلد ضمانت پر رہا ہو کر کم سزا کی وجہ سے دوبارہ اپنامکروہ دھندہ شروع کر دیتے ہیں۔انسداد منشیات ایکٹ میں ترمیم اور آئس کے مرتکب افراد کے لئے مناسب سزا تجویز کرنے کی خاطر محکمہ پولیس نے صوبائی حکومت کوسفارشات ارسال کیں ہیں جن میں ارباب اختیارسے آئس کے نقصانات کر مد نظر رکھتے ہوئے خصوصی قانون مرتب کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس سے آئس کا کاروبار کرنے والے افراد کو لمبے عرصے کے لئے جیل کی سلاخو ں کے پیچھے دھکیل کر نوجوان نسل کو آئس جیسے مہلک تر ین نشے /زہر سے نجا ت مل سکے گی سی سی پی اوقاضی جمیل الرحمن نے اس ضمن میں سول سوسائٹی ، میڈیا اور منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ ساتھ علماء کرام ، سکول اورکالج یونیورسٹی سطح کے اساتذہ کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ عوام خاص کر نوجوان نسل اور طلباء میںآئس جیسے زہر کے خلاف شعور و آگاہی اجاگر کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں جبکہ ساتھ ہی والدین پر بھی زور دیا ہے کہ اپنے بچو ں کی کڑی نگرانی کریں تاکہ معاشرے کو آئس جیسے ناسور سے نجات دلائی جا سکے۔

Back to Conversion Tool

مزید :

پشاورصفحہ آخر -