ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے پھانسی کی سزا پانے والے ملزم کی سزا روک دی

ہائیکورٹ نے ملٹری کورٹ سے پھانسی کی سزا پانے والے ملزم کی سزا روک دی

  

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاور ہائی کورٹ نے ملٹری کورٹ سے پھانسی کی سزا پانے والے ملزم کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد روک دیا اور اس حوالے سے محکمہ دفاع کو نوٹس جاری کر دیئے عدالت عالیہ کے جسٹس قلندر علی اور جسٹس ایوب خان نے مسماۃ صداقت بیگم کی جانب سے اخونزادہ اسد اقبال ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر رٹ کی سماعت کی اس موقع پر انہوں نے عدالت کو دلائل دیئے کہ اس کا شوہر شاکر اللہ جو کہ دیر کا رہائشی ہے 29اپریل2010کو لاپتہ ہوا اور بعد میں پولیس سٹیشن پہاڑی پورہ نے 7نومبر2012کو اس کے اغواء کا مقدمہ درج کر لیا تاہم چھ11جون2018کو انہیں کوہاٹ انٹرنیٹ سنٹر سے ایک نوٹس ملا جس میں اس پر انکشاف ہوا کہ اس کے شوہر کو ملٹری کورٹ نے پھانسی دی ہے اسد اقبال ایڈوکیٹ نے عدالت کو دلائل دیئے کہ اس کے موکل کا شوہر بے گناہ ہے اس کے علاوہ اسے اپنی صفائی کا موقع نہیں دیا گیا حالانکہ آئین کے تحت اس ملک کے ہر شہری کو اپنے دفاع کا حق ہے اس کے ساتھ ساتھ اسے یہ ریکارڈ بھی فراہم نہیں کیا گیا کہ شاکر اللہ کو وکیل کا موقع دیا گیا ہے یا نہیں جبکہ کیس کا ریکارڈ بھی موجود نہیں عدالت نے ابتدائی دلائل مکمل ہونے پر رٹ سماعت کے لئے منظور کر لی اور سزائے موت پر عمل درآمد روکتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -