ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت کے خاتمہ اور ٹیکسوں کیخلاف تاجر برادری کی شٹر ڈاؤن ہڑتال

ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت کے خاتمہ اور ٹیکسوں کیخلاف تاجر برادری کی شٹر ...

  

مٹہ ،الپوری ،سخاکوٹ ،سوات ( نمائندہ پاکستان )ملاکنڈ ڈویژن کی دیگر علاقوں کی طرح مٹہ تحصیل میں بھی مکمل طور پر شٹرڈاون رہی تمام چھوٹے بڑے بازاروں میں تمام کاروبار بند رہی کامیاب شٹرڈاون ہڑتال کی گئی تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز ملاکنڈ ڈویژن کے دیگر علاقوں کی طرح مٹہ بازار سمیت پوری مٹہ تحصیل کے چھوٹے بڑے بازاروں میں مکمل طور پر ہڑتال رہی اور تمام کاروباری مراکز مکمل طور پر بند رہی کامیاب شٹرداون ہڑتال میں بازار کی دوکانداروں کیساتھ ساتھ سبزیوں منڈھیوں اور فروٹ منڈھیوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی اور تمام بازاروں سیمت دیگر کاروبا ر کرنے والوں نے صبح ہی سے اپنے اپنے کاروبار کو بند کرکے پوری ملاکنڈڈویژن کے تاجر برادری کیساتھ اظہار یکجہتی کی ادھر مٹہ بازار کے صدر محمد زوبیر اور جنرل سیکرٹری عثمان غنی تاجر یونین مٹہ تحصیل کے صدر جہان نواب خان جرل سیکرٹری عبدالعزیز خان حسین شاہ میاں مقصود الحسن چپریال باراز کے صدر شاہ ولی خان اور دیگر نے کامیاب ہڑتال کرانے پر مٹہ بازار سمیت مٹہ تحصیل کی تمام دوکانداروں سبزی منڈھیوں فروٹ منڈھیوں اوردیگر تمام تاجر برادری کاشکریہ ادا کرکے کامیاب ہڑتال پر ان لوگوں کو مبارکباد دی اور عہد کیا کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن میں کسی قسم کی ٹیکس ماننے کو تیار نہیں اور ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حثیت کو ختم کرنے کی خلاف بھر پور کوشش کرکے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے *شانگلہ ضلع بھر میں شٹرڈاؤن۔ہڑ تال اور احتجاجی مظاہرے۔ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے،ٹیکسوں کی ظالمانہ نظام کو ماننے کیلئے تیار نہیں ، ریاست سوات کی پاکستان میں الحاق کے وقت سو سالہ معاہدہ کی پاسداری کرے ، اسی معاہدہ کے تحت سوات کو ضم کیا گیا تھا ۔مقررہ مدت تک عوام کو ریلیف دینے کے بجائے انہیں اذیت اور کرب میں مبتلا کرنے سے ایک اور بحران کا خطرہ۔ملاکنڈڈویژن کی خصوصی حیثیت کوہر حال میں برقرار رکھنے کیلے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔قدرتی و مصنوعی آفات،زلزلے ،حادثات سے متاثرہ ڈویژن بھر کے عوام ٹیکس دینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔شانگلہ میں کوئی انڈسٹری یا کارخانہ نہیں غریب مزدوروں کے دیہاڑی پر ٹیکس لگانا سرار ظلم ہے۔صورت حال کا فی الفور ایکشن نہیں لیا گیا تو انتخابات سے بائیکاٹ کا اپشن موجود ہیں۔گزشتہ روز ملاکنڈ ڈویژن بھر کی طرح شانگلہ میں کامیاب شٹر ڈاؤن ہڑتال کیا گیا جس میں ضلع بھر کی بازاریں الپوری ،بیلے بابا ،ڈھیری، کروڑہ،چکیسر پورن ،الوچ ،مارتونگ ،شاہ پور،اولند ر، لیلونئی اور بشام کے بازاریں مکمل طور پر بند رہی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر الپوری کے بازار میں دکانیں ،ہوٹل ،میڈیکل سٹور اور تندور والوں سے لیکر موچی تک کا کاروبار بند رہا جس کی وجہ سے لوگوں کو شیدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ملاکنڈ ڈویژن میں اس سے پہلے صوبائی حکومت نے کسٹم ایکٹ لاگو کرنے کی ناکام کوشش کی تھی لیکن اس وقت کی کامیاب ہڑتال کے بعد اس فیصلے کو واپس لیا گیا ۔تاجر برادری اور عوامی حلقوں کا کہنا تھا کہ فاٹا مرکزی حکومت کا مسئلہ تھا فاٹا انضمام سے پاٹا کے مسئلے کو کیوں چیڑا گیا پا ٹا صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار سے یہ علاقے خصوصی مراعات یافتہ تھے ریاست سوات کے انضمام کے وقت سوسالہ معاہدہ کیا گیا تھا کہ ان علاقوں کو ٹیکسوں اور کسٹم فری زون کی حثیت حاصل تھی عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یک طرفہ طور پر کس طرح معاہدہ کو ختم کیا جارہا ہے یہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سے سراسر ظلم ناانصافی ہے دہشت گردی اور قدرتی آفات کے ستائے ہوئے مصیبت زدہ عوام اس ظالمانہ فیصلے کو ماننے کیلئے تیار نہیں اور ٹیکس لاگو کرنے کے خلاف احتجاجوں کا دائرہ اختیار کوبڑھایا جائے گا ان کا کہنا ہے کہ اس ظالمانہ فیصلوں کے خلاف احتجاج کے علاوہ اخری حد تک جائینگے ۔عوام ہڑتال کو کامیاب بنانے کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کریں*سخاکوٹ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران زبردستی دکانیں بند کرانے اور دکانداروں پر تشدد کے خلاف تاجر سراپا احتجاج بن گئے ۔ موجودہ ٹریڈ یونین کے عہدیداروں کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہیں اس لئے فوری طور پرجمہوری طریقے نئے الیکشن کرائے جائیں ۔ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس اور کسٹم ایکٹ لاگو کرنے کی اجازت نہیں دینگے تاہم اگر مقامی لوگو ں کو فائدہ نہیں ہے تو اسٹیل ملز ، گھی ملز اور سی این جی سٹیشنوں سمیت دیگر کارخانوں پر ٹیکس لگانے کی حمایت کرینگے تاکہ مقامی لوگوں کو ریلیف مل سکیں ۔ سخاکوٹ بازار میں ٹریڈ یونین الیکشن کا مطالبہ ممتاز تاجروں عالمگیر خان ، رحم بادشاہ لالا ، رحمان زیب ، حاجی حمید اﷲ ، تاج بادشاہ اور وزیر باچہ نے ڈیگئی مارکیٹ میں احتجاج اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کلب آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹریڈ یونین کے نام پر قبضہ گروپ کے خلاف ہیں اور دکانداروں کے مرضی سے نئے یونین عہدیداروں کے چناؤ کے حق میں ہیں اس لئے پورے بازار میں نئے سرے سے ٹریڈ یونین کے انتخابات کرائیں جائیں کیونکہ موجودہ یونین کا آئینی معیاد ختم ہو چکاہے اور اب یہی یونین غیر آئینی طور پر عہدوں پر قابض ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس اور کسٹم ایکٹ کے خلاف ہیں تاہم شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران ڈیگئی مارکیٹ کے دکانداروں کی مار پٹائی، جبر و زیادتی اور زبردستی دکانیں بند کرانے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیگئی مارکیٹ کے دکانداروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ٹریڈ یونین کے انتخابات جلد کرائینگے تاکہ دکانداروں کے مسائل بہتر انداز میں حل کئے جاسکے کیونکہ موجودہ یونین عہدیداروں نے تاجر برادری کے مسائل کے حل کے لئے کچھ نہیں کیا اور صرف ذاتی مفادات کے لئے کام کیا ہے جس کی وجہ سے تاجروں کے مسائل میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے *سوات کی تاریخ کا کامیاب ترین ہڑتال ، مکمل شٹر ڈاؤن پر پہلی بار ہوٹل اور ریسٹورنٹ بھی بند رہے ، عبدالرحیم کا اظہار تشکر ، ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے خلاف تاجر برادری کی اپیل پر سوات کی تاریخ کا کامیاب ہڑتال رہا اور شٹر ڈاؤن کے وجہ سے سوات کی تاریخ میں پہلی بار ہوٹل اور ریسٹورنٹ بھی بند رہے جس کے وجہ سے لوگوں کو کھانے پینے کے اشیاء کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، کامیاب ہڑتال پر سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے تمام تاجر برادری کا شکریہ ادا کیا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -