آئیڈیاز، دنیا کی بڑی طاقت ، جو دنیا کو جنگوں سے دور لے جائیگی،شیری رحمن

آئیڈیاز، دنیا کی بڑی طاقت ، جو دنیا کو جنگوں سے دور لے جائیگی،شیری رحمن

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)جناح انسٹیٹیوٹ کی جانب سے آئیڈیاز کانکلیو 2 کا انعقاد مقامی ہوٹل میں گیا گیا160 جس میں نامور سفارتکاروں،شخصیات ، ماہرین ، تجزیاکار اور رہنماؤں نے ابھرتے ہوئے چیلینجز سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔تقریب میں امن، کشیدگی، پاکستان۔ بھارت اور افغانستان تعلقات جیسے موضوعات پر مثبت گفتگو کی گئی۔ موسمیاتی تبدیلی اور اس کے پاکستان پر اثرات پرماہر اسپیکرز نے بات چیت کی۔160 جناح انسٹیٹیوٹ کے اس آئڈیاز کانکلیو میں قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر شیری رحمان پاکستان میں چین کے سفیر یاہو جنگ سینیٹر اعتزاز احسن، طارق فاطمی, عزیز احمد خان, عائشہ جلال اور اعجاز حیدر نے شرکت کی۔ پاک افغانستان تعلقات سے متعلق سیشن میں پاکستان میں افانستان کے سفیر ڈاکٹر عمر زخیلوال اور ریاض کھوکھر, پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر یژاں فوانسوا کوتان سابق سفیر اور ڈی جی آئی ایس پی آر اطہر عباس اور عارفہ نور نے شرکت کے اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پاک، بھارت کے حوالے سے ایک سیشن میں سابقہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل (ر) نصیر خان جنجوعہ بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ, عائشہ جلال سلمان بشیر اور نسیم زہرا نے شرکت کی۔ ایک سیشن میں پاکستان میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر, عدیل نجم اور رافع علم نے موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ جناح انسٹیٹیوٹ کی جانب سے آئڈیاز کانکلیو 2 کا اختتام قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر شیری رحمان اپنے خطاب سے کیا۔ شیری رحمان نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ آئیڈیاز، دنیا کی بڑی طاقت ہے جو دنیا کو جنگوں سے دور لے کر جائے گی۔ آئیڈیاز و خیالات نئی دنیا کا جنگ کا میدان ہے۔160 آئیڈیاز اور خیالات کو سیاسی مزاکرے کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان جنرل الیکشن کے لئے جا رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سب پر پڑ رہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسائل کا سامنا ہے۔ عوام آئیڈیاز اور خیالات کے زریعے اپنے مسائل کا حل دیکھنا چاہتے ہیں۔ جنوبی ایشیا غذائی قلت کا شکار ہے۔ پرامن، ترقی پسند اور جمہوری پاکستان ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ آئیڈیاز صرف سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور میں نہیں اس پر عمل بھی ہونا چاہئے۔ ہمارے معاشرے میں انتہاء پسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔ انتخابات کے بعد ملک میں اصلاحات اور عوامی مباحثہ کی ضرورت ہے۔ جمہورت میں عوامی مباحثہ کو اہمیت دینا ہوگا۔ نئی منتخب کو نئے مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -