” ساڑھے 9 مہینے تک کیس چلا لیکن اس دوران نواز شریف کی جانب سے یہ اہم ترین کام نہیں کیا گیا “ سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے ایسی بات کہہ دی کہ لیگی کارکن تشویش میں مبتلا ہوجائیں گے

” ساڑھے 9 مہینے تک کیس چلا لیکن اس دوران نواز شریف کی جانب سے یہ اہم ترین کام ...
” ساڑھے 9 مہینے تک کیس چلا لیکن اس دوران نواز شریف کی جانب سے یہ اہم ترین کام نہیں کیا گیا “ سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے ایسی بات کہہ دی کہ لیگی کارکن تشویش میں مبتلا ہوجائیں گے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)شریف فیملی کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی فیصلہ موخرکرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ہونے پر رد عمل دیتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کا ر ارشاد بھٹی کاکہنا تھا کہ ساڑھے 9 مہینے تک کیس چلا لیکن اس دوران نواز شریف کی جانب سے کوئی ثبوت نہیں دیاگیا،کیس کی سماعت کے دوران شریف فیملی سے کل 390سوال کئے گئے جن میں سے 350سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ان کا میرے سے متعلق نہیں جس پر سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ اگر آپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں تو پھر آپ کے خلاف مقدمہ کیوں بنا،جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے ایٹمی دھماکے کئے اس لئے کیا گیا مقدمہ، مریم نے کہامیرے پر مقدمہ اس لئے کیا گیاکیونکہ میں نواز شریف کو بیٹی ہوں اور کیپٹن (ر)صفدر بولے کے میرے خلاف اس لئے مقدمہ کیا گیاکیونکہ میں نواز شریف کا داماد ہوں اور حسن نواز اور حسین نواز پاکستان میں نہیں ہیں ، وہ اس ملک کے شہری نہیں ہیں اس لئے ان پر کیس بنتا ہی نہیں اور نہ ہی یہاں کا قانون ان پر لاگو ہوتا ہے ۔سپریم کورٹ کا مزید کہنا تھا کہ پھر یہ ہی بتا دیں کہ قطری شہزادے کا خط کیا ہے ثابت کر دیں،اس پر بھی کہا گیا کہ مجھے یاد نہیں،اور قطر ی خط کا بھی کوئی ایگریمنٹ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اب عدالت نے دیکھنا ہے کہ قانون میں فیصلہ موخر کرنے کی کوئی شق موجود ہے یا نہیں کیونکہ عدالت کا ہر فیصلہ قانون کے مطابق ہوتا ہے ۔ سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے سپریم کورٹ کے کہنے کے باوجود کوئی ایک بھی ثبوت عدالت میں نہیں دیا اورانہوں نے کیس کو ہمیشہ قانونی جنگ کی بجائے سیاسی جنگ کے طور پر لڑااور قانونی جنگ تو وہ کیس شروع ہوتے ہی ہار گئے تھے ۔

مزید :

اسلام آباد -سیاست -