اگر نوازشریف کو سزا ہوتی ہے تو ن لیگ کی انتخابی مہم پر اثر پڑے گا اور توقع کی جارہی ہے کہ ن لیگ کی حکومت نہیں بنے گی : سہیل وڑائچ

اگر نوازشریف کو سزا ہوتی ہے تو ن لیگ کی انتخابی مہم پر اثر پڑے گا اور توقع کی ...
اگر نوازشریف کو سزا ہوتی ہے تو ن لیگ کی انتخابی مہم پر اثر پڑے گا اور توقع کی جارہی ہے کہ ن لیگ کی حکومت نہیں بنے گی : سہیل وڑائچ

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر و معرو ف تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہاہے کہ اگر نوازشریف کو سیاسی طور پر سزا ہو جاتی ہے تو مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم پر اثر پڑے گا اور ممکنہ طور پر ن لیگ آئندہ حکومت نہیں بنا سکے گی ۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہاہے کہ اگر نوازشریف کو سیاسی طورپر سزا ہو جاتی ہے تومسلم لیگ ن کی انتخابی مہم پر برا اثر پڑے گا ،جو توقع کی جارہی ہے کہ مسلم لیگ ن کی آئندہ حکومت نہیں بنے گی، سزا کے بعد اس پر مہر تصدیق لگ جائے گی اور اس سے کئی فیصد ووٹ کم ہوجائے گا‘فواد حسن فواد کی گرفتاری ن لیگ کو پیغام ہے۔

سہیل وڑائچ کا کہناتھا کہ نوازشریف کی غیر موجودگی کے باعث ن لیگ کا ووٹ بہت شدید متاثر ہواہے ، اور اگر وہ واپس نہیں آتے تو زیادہ فرق پڑے گا اور اگر وہ واپس آجاتے ہیں تو اس سے فائدہ ہوگا ۔ان کا کہناتھا کہ بزنس اور تاجر برادری احتجاج کیلئے سڑکوں پر نہیں آتے کیونکہ وہ اسٹبلشمنٹ ، پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ بنا کر رکھتے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ اگر نوازشریف کو سزا ہو جاتی ہے تو شہبازشریف کے پاس کوئی چوائس نہیں ہو گی کہ وہ اپنے بھائی کے بیانیے کو بڑھائیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور اگر شہبازشریف ایسا نہیں کرتے تو ان کی سیاست غیر متعلقہ ہو جائے گی ۔

لندن سے نجی ٹی وی جیو نیوز کے نمائندہ مرتضیٰ علی شاہ نے کہا ہے کہ لندن میں پچھلے 22دن سے سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز روزانہ صبح 10بجے اسپتال آتے ہیں اور شام 6بجے تک چلے جاتے ہیں جبکہ رات 9بجے آکے 1سے ڈیڑھ گھنٹہ گزارنے کے بعد چلے جاتے ہیں۔

منیب فاروق نے کہا کہ قانون میں اس کی گنجائش نہیں ہے کہ فیصلہ مﺅخر کردیا جائے خاص طور پر احتساب عدالت ایک ٹرائل کورٹ ہے اگر اس میں کوئی فیصلے کا دن مقرر کیا ہوتا ہے تو اس دن فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔

مزید :

قومی -