”اگر پیپلز پارٹی کو یہ چیز دیدی جاتی ہے تو وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جڑے رہیں گے “ سینئر صحافی سہیل وڑائچ تجزیہ کرتے ہوئے ایسی بات کہہ دی کہ سن کر نوازشریف کو یقین نہیں آ ئے گا

”اگر پیپلز پارٹی کو یہ چیز دیدی جاتی ہے تو وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جڑے رہیں گے “ ...
”اگر پیپلز پارٹی کو یہ چیز دیدی جاتی ہے تو وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جڑے رہیں گے “ سینئر صحافی سہیل وڑائچ تجزیہ کرتے ہوئے ایسی بات کہہ دی کہ سن کر نوازشریف کو یقین نہیں آ ئے گا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )سہیل وڑائچ نے کہاہے کہ اگر پیپلز پارٹی کو سندھ میں حکومت دیدی گئی تو پھر اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جڑے رہیں گے،ایون فیلڈ کے فیصلے سے پیپلز پارٹی کو کوئی بڑا فائدہ نہیں ہو گا اور نہ ہی کوئی نقصان ۔

سینئر تجزیہ کار اور صحافی سہیل وڑائچ نے نجی ٹی وی جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی ابھی بھی بڑی سیاسی طاقت ہے اور ان کا کوئی بڑ ا حریف بھی موجود نہیں ہے ، ایون فیلڈ کے فیصلے سے پیپلز پارٹی کو کوئی بڑا فائدہ نہیں ہو گا اور نہ ہی کوئی نقصان تاہم اگر سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں ، جیسا کہ ابھی آصف زرداری کے خلاف بالواسطہ طور پر منی لانڈرنگ کے کیس کا ذکر کیا جارہاہے اور بلاول نے بھی کہاہے کہ ہمارے ارکارن پر دباﺅ ڈالا جارہاہے اور اگر یہ مہم تیزہوتی ہے تو پھر وہ دوبارہ اپنے اینٹی اسٹبلشمنٹ بیانیے کی طرف جھکیں گے ، الیکشن تک تو نہیں اگرچہ اس دوران عمران خان کے ساتھ پیپلز پارٹی مفاہمت کی طرف بھی جاسکتے ہیں لیکن اگلے مرحلے میں وہ ن لیگ کے ساتھ مل کر اسٹبلشمنٹ اور عمران خان کے خلاف جدو جہد کر سکتے ہیں لیکن اگر پیپلز پارٹی کو سندھ میں حکومت دیدی گئی تو پھر وہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جڑے رہیں گے ۔

مزید :

قومی -