فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر470

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر470
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر470

  

اس زمانے میں ہم نے بھی خواجہ خورشید انور صاحب کے بارے میں فلمی حلقوں خصوصاً سازندوں اور جدی پشتی موسیقاروں کی زبانی یہی سناتھا کہ کوئی ساز بجانا نہیں جانتے اور نہ ہی گا سکتے ہیں۔ اس بات کو تقویت یوں ملی کہ دوسرے تمام موسیقار تو دھن بناتے وقت اوراپنی دھن فلم سازو ہدایت کار یا گلوکار کو سناتے وقت بذات خود ہار مونیم بجاتے تھے اور گاکردھن سنایا کرتے تھے مگر خواجہ صاحب کو ہم نے نہ تو کبھی کسی کو دھن سناتے ہوئے دیکھا اور نہ ہی ہارمونیم یا کوئی اور ساز بجاتے ہوئے پایا۔ اس لیے ہم نے بھی اس افواہ پر یقین کر لیا تھا حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ نوجوانی میں ہی ساز بجاتے اور گاتے تھے۔ بعد میں انہوں نے یہ طریقہ اپنا یا تھا کہ دھن بنا کر لاتے تو اپنے اسسٹنٹ اور سازندوں کو ساز بجانے کے لیے کہتے اور بذات خود صرف زبانی ہدایات کے ذریعے سازندوں اور گلوکاروں کو مطلوبہ تاثرپیدا کرنے کے لیے کہا کرتے تھے۔

ہم نے خود کئی بار خواجہ خورشید انور صاحب کو سوچوں میں گم ‘ خلا میں گھورتے اور ماچس کی ڈبیا کو میز پر مارتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس طرح وہ دھنیں تخلیق کیا کرتے تھے۔ ان کی اس عادت کو دیکھ کر اور فلمی صنعت کے پیشہ ور موسیقاروں اور سازندوں کی باتیں سن کر خود ہم بھی اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے تھے کہ خواجہ صاحب واقعی نہ تو کوئی ساز بجا سکتے ہیں اور نہ ہی گا سکتے ہیں۔ یہ تو ہمیں بعد میں اپنی حماقت کا احساس ہوا کہ جو شخص موسیقی سے نابلد ہو نہ ساز بجا سکے نہ گانا گا سکے ‘ وہ مہدی حسن اور نور جہاں جیسے گانے والوں کو موسیقی کی لہروں اور الفاظ کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں کیسے ہدایات دے سکتا ہے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر469پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

خواجہ صاحب جب تک ادائیگی سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوتے تھے اس وقت تک گلوکار کو بار بار ہدایت دیتے رہتے تھے اور اس کے بالکل نزدیک جا کر بذاتِ خود گار کر بھی مخصوص جگہ کی نشان دہی کر دیا کرتے تھے ۔ سازوں پر انہیں مکمل عبور حاصل تھا۔ چالیس پچاس سازوں کے درمیان میں اگر کوئی ایک ساز ندہ بھی کوئی غلطی کرتا تو بے چین ہوکر کھڑے ہوجاتے اور متعلقہ سازندے کے پا س جا کر اس کی اصلاح کرتے تھے۔

جہاں تک راگ راگنیوں اور سُر کا تعلق ہے خواجہ صاحب کو اس ہنر اور فن پر عبور حاصل تھا۔ کچھ تو خدا داد صلاحیت تھی اور کچھ اکتساب اور ریاض کا اثر تھا کہ وہ ہر راگ اور راگنی کے ساتھ پورا پوراانصاف کرتے تھے ۔

فلمی دنیا میں کچھ عرصے رہنے کے بعد ہمیں کچھ شعور آیا تو دیکھا کہ بڑے سے بڑ گلوکار ‘ سازندہ ‘ اور موسیقی اور استاد بھی خواجہ صاحب کے آگے دم نہیں مار سکتا تھا۔ اگر وہ کسی کی غلطی کی نشان دہی کرتے یا اس کی اصلاح کرتے تھے تو اس کے ساتھ ہی اس کو قائل بھی کرد یا کرتے تھے۔ وہ مہدی حسن کی اصلاح کردیا کرتے تھے۔ استاد شریف خاں پونچھ والے ستار نوازی میں برصغیر کے مانے ہوئے ستار نواز تھے بے حد منکسرالمزاج لیکن اپنے ہنر میں یکتا۔ خواجہ صاحب ان کے بے حد عزت کرتے تھے لیکن اگر وہ ان کی ضرورت کے مطابق نتائج دینے میں ناکام ہوتے تو خواجہ صاحب انہیں قریب آکر آہستگی سے بتاتے اور سمجھاتے اور شریف خان سر ہلا کر مان جاتے۔

بات یہاں سے شروع ہوئی تھی کہ میوزک کیا ہے ؟ اور یہ سلسلہ رشید عطرے صاحب اور خواجہ خورشید انور کے ایک یاد گار واقعے کی یاد تازہ کرنے تک پہنچ گیا۔ جس روز کا ہم نے ذکر کیا ہے اس روز خواجہ صاحب نے عطرے صاحب کے بار بار مطالبات کے باوجود ان کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ دراصل بحث مباحثہ کرنا ان کی عادت نہ تھی۔

وہ خاموشی سے اٹھ کر کھڑے ہوئے۔ سنتوش صاحب سے کہا ’’اچھا سنتوش۔ خدا حافظ۔‘‘اور کمرے سے نکل کر چلے گئے۔ مسعود پرویز صاحب بھی ان کے ساتھ ہی چلے گئے۔

اگلے روز عطرے صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو بہت نادم ہوئے۔ جب تک بذاتِ خود خواجہ صاحب کے پاس جا کر انہوں نے معذرت نہ کی انہیں چین نہ آیا۔

ان سے ہماری ملاقات ہوئی تو ہم نے انہیں گزشتہ رات کا واقعہ یاد دلایا۔ ایک رنگ سا ان کے چہرے پرآکر چلا گیا۔

آہستگی سے بولے ’’بس آفاقی۔ ایسا بھی ہوجاتا ہے۔ اسی لیے تونشے کو حرام قرار دیا گیا‘‘

ہم نے انہیں چائے پلائی اور کہا کہ چلئے ۔ جو ہونا تھا وہ تو ہوچکا مگر بہتر ہو اگر آپ آئندہ’’خطرے ‘‘ کے مرحلے میں داخل ہونے سے پرہیز کریں۔ انہوں نے فوراً غالب کا ایک شعر سنا دیا۔

مے سے غرض نشاط ہے کس روسیاہ کو

اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے

ہم نے عرض کی کہ حضرت ! مرزا غالب کو تو حالات و واقعات نے ’’گویا نہ بے خودی‘‘ کا طلب گار بنا دیا تھا۔ آپ تو اللہ کے فضل سے ہر طرح خوش و خرم اور مطمئن ہیں۔ زمانے کا ملال پھر آپ کو اس کی کیا حاجت پیدا ہوگئی۔

ہنس کر بولے ’’بس آفاقی ۔ یہ انسا ن کی کمزوریاں ہیں جو اسے رسوا کرتی ہیں۔ ‘‘ جب وہ اچھے موڈ میں اور سنجید ہ ہوتے تھے تو بہت اچھی ادبی قسم کی گفتگو کرتے تھے۔ مطالعہ تو ان کا زیادہ نہ تھا لیکن بڑے بڑے ادیبوں ‘ شاعروں اور فنکاروں کی صحبت میں رہے تھے ۔کچھ زمانے نے انہیں سکھا دیا تھا اس لیے بہت کچھ جان گئے تھے ۔

ہم نے کہا ’’ اچھا عطرے صاحب ! اب ہم آپ سے وہی سوال کرتے ہیں کہ وہاٹ ازمیوزک ۔ ایک فقرے میں اس کا جواب دیجئے۔ ‘‘

مسکرائے اور بولے ’’آرگنائزڈ نائس از میوزکORGANIZED NOISE IS MUSICٰؑ یعنی بے ہنگم آوازوں اور شور کو منظم کر دیا جائے تو وہ میوزک ہے۔‘‘

میوزک کی یہ جامع اور مختصر تعریف اور تشریح ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ اس کے بعد بھی ہم نے کئی لوگوں سے یہی سوال پوچھا اور جواب میں بہت طولانی گفتگو سے واسطہ پڑا جو کہ بے حد معلومات افزا بھی تھی لیکن پھر کسی نے ہمیں ایک فقرے میں میوزک کی جامع تعریف نہیں بتائی۔ اس بارے میں اگر آپ میں سے کسی کو علم ہو تو ضرور ہماری معلومات میں اضافہ کریں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -