عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 16

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 16
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر 16

  

وہ چند ثانیے بعد عمارت کی چھت پر تھا ۔ لیکن یہاں آکر اسے مایوسی ہوئی۔ ترک باز کو قتل کرنے والا چھلاوہ دوسری جانب سے چھلانگ لگا کر غالباً چھت سے کود گیا تھا۔ قاسم نے آغا حسن کو چھت پر آتے دیکھا تو چیخ کر کہا۔

’’بھاگو!یہاں نہیں ہے.........پرلی طرف ...........جھاڑیوں کی طرف دیکھو۔ وہ چھٹ سے کود گیاہے۔‘‘

قاسم خود بھی الٹے پاؤں بھاگا اور کسی آندھی کی طرح عمارت کی شمالی سمت میں دوڑ لگا دی۔ لیکن یہاں آکر بھی آغاحسن اور قاسم کو مایوسی ہوئی۔ دشمن نکل چکا تھا۔ قاسم اور آغاحسن ایک پورے دستے کے ہمراہ شام تک معسکر کا سارا علاقہ چھانتے رہے لیکن ترک باز کا قاتل ایسے غائب ہوچکا تھا جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ وہ مغرب کے بعد کمرے میں لوٹے تو قاسم نے کہا۔

’’ترک باز کی لاش کا کیا ، کیا ہے؟‘‘

’’اسے خفیہ محکمے کا سربراہ بہرام خان اپنے ساتھ لے گیا ہے۔ ہم جس وقت قاتل کو تلاش کر رہے تھے، بہرام خان یہاں اپنی کاروائی مکمل کر رہاتھا۔ ‘‘ آغاحسن نے جواب دیا ۔ اور قاسم نے ایک لمبی...........ہوں کی۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔ قسط نمبر15پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قاسم نے پھر پوچھا ۔ ’’اچھا یہ بتاؤ ، تمہاری سمجھ میں کچھ آیا کہ یہ’’اسودی‘‘ کون ہے؟ ترک باز نے مرنے سے پہلے اسودی کا نام لیا تھا ۔‘‘

’’نہیں !مجھے بھی معلوم نہیں۔ وہ جب اٹک اٹک کر ..............اس، اس کہہ رہاتھاتو میں سمجھا تھا کہ اسلم خان کہنا چاہتاہے۔ لیکن اس نے اسودی کہہ دیا..............معلوم نہیں یہ اسودی کون ہے؟ ‘‘آغاحسن کے چہرے پر گہرے غور وفکر کا تاثر تھا۔ قاسم نے کسی خیال کے تحت آغاحسن سے کہا۔

’’آغا! تم اسلم کی کمان میں کام کرنے والے کسی اور سپاہی کو بلاؤ۔ہوسکتا ہے اسلم کے ماتحت اسے اسودی کہہ کر پکارتے ہوں۔کیونکہ عموماً فوج کے سپاہی اپنے سالاروں کے خود ہی من پسند نام رکھ لیتے ہیں۔اسلم کے چہرے کی رنگت سیاہ ہے۔ ہوسکتا ہے اس کے ماتحت اس کو سیا ہ رنگ کی وجہ سے اسودی کہہ کر پکارتے ہوں۔‘‘

قاسم کی بات سے آغاحسن چونک گیا اور اس کے تحسین آمیز انداز میں قاسم کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

’’بخدا ! تم بہت زیادہ ذہین ہو۔ تمہیں تو خفیہ محکمے کا سربراہ یا پھر شاہی سراغ رساں ہونا چاہیے ۔ تم با لکل ٹھیک کہتے ہو۔ اسلم خان کا نام اس کے ماتحتوں نے نہیں رکھا بلکہ ایک موقع پر سلطان نے اسے اسودی کہہ کر پکارا تھا۔ تب سے اسلم اپنے نام کے ساتھ کبھی کبھی اسودی کا لقب لکھ دیتا ہے۔ لیکن کمال ہے مجھے پہلے یہ بات کیوں نہ یاد آئی۔ دراصل قاتل کے تعاقب نے میرا دماغ ماؤف کر رکھا تھا ۔‘‘ آغاحسن نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے پرجوش لہجے میں بات کی۔ قاسم کی حالت بھی عجیب تھی۔ ایک بہت اہم سراغ ا س کے ہاتھ لگ گیا تھا۔ اس نے کسی قدر ٹھہرے ہوئے لہجے میں آغا حسن سے کہا۔

’’آغا! دھیان رہے ابھی اسلم خان کو خبر نہ ہونے پائے۔ میں اس پر کسی خاص ترتیب سے ہاتھ ڈالنا چاہتا ہوں۔‘‘ قاسم نے کہا تو آغاحسن کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔

’’ہاتھ ڈالنا چاہتے ہو؟ کیا مطلب ؟ تم کس حیثیت سے ہاتھ ڈالو گے؟‘‘

اب قاسم کو احساس ہو اکہ سے آغاحسن کے سامنے اسلم خان پر ہاتھ ڈالنے کی بات نہ کرنا چاہئے تھی۔ لیکن اب وہ کرچکاتھا چنانچہ اس نے جھوٹ پہ جھوٹ بولنے کی بجائے آغاحسن جیسے مجاہد سپاہی کو اعتماد میں لینا مناسب سمجھا اور کہا ۔

’’دراصل سلطان نے مجھے وقتی طور پر سراغ رسانی کے کام پر متعین کیا ہے۔ مجھے اس سلسلے میں تمہارا تعاون درکار ہے۔ میری نظر پہلے سے کچھ لوگوں پر ہے، لیکن کوئی واضح ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے میں ابھی تک کسی پر ہاتھ نہیں ڈال سکا۔ اب پہلی بار میرے ہاتھ اس سازش کا ایک سرا آیا ہے۔ میں اسلم خان اسودی کو بے خبری میں گرفتار کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

قاسم کے نئے فرائض سن کر آغاحسن کو کچھ زیادہ حیرت نہ ہوئی، بلکہ وہ کسی حد تک خوش ہوا۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’لیکن اسلم خان اسودی کوتو پتہ چل چکا ہوگاکہ اس کے بھیجے ہوئے سپاہی نے مرتے وقت اسودی کا لفظ ادا کرلیا تھا۔‘‘

آغاحسن کی بات بالکل ٹھیک تھی۔ قاسم نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر کہا ۔’’میرا خیال ہے جب تک اسلم خان کو یہ یقین ہے کہ ہمارے ہاتھ اسے پکڑ نے کے لیے کوئی ثبوت نہیں آیا وہ فرار ہونے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اور اس سے پہلے کہ وہ فرار ہو، میں اس کی گردن دبوچ لوں گا۔‘‘

معاً کسی خیال کے تحت قاسم نے پھر کہا۔ ’’آغا! کیا تمہیں اسلم خان اسودی کی رہائش کا پتہ معلوم ہے؟‘‘

’’کیا مطلب؟..........تم کہیں آج رات ہی اسے پکڑنا تو نہیں چاہتے؟‘‘ آغاحسن نے تجسس سے کہا۔

قاسم نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ’’بے شک ! میں نیکی کے کام میں دیر کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ میں آج ہی اس غدار پر صاعقہ بن کر ٹوٹ پڑوں گا۔ مجھے اس دشمن ملک و ملت سے قیصر کے تمام جاسوسوں کے نام اگلوانے ہیں۔‘‘

آغاحسن پورے تجسس اور دلچسپی سے قاسم کی بات سن رہا تھا ۔ اس نے فوراً کہا ۔

’’ٹھیک ہے۔ میں بھی تمہارے ہمراہ چلوں گا۔‘‘

’’صرف تم ہی نہیں ، ہم کماندار امیر خان کو بھی لے چلیں گے۔ ہو سکتا ہے اسلم خان مدافعت کرے یا اس کے کچھ سپاہی اس کی حفاظت پر مامور ہوں۔‘‘

اس کے بعد دیر تک قاسم اور آغا حسن اپنے آئندہ لائحہ عمل پر بات چیت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ رات ہوگئی۔ قاسم نے اٹھتے ہوئے کہا۔

’’ہم آدھی رات کے وقت اپنے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے روانہ ہوں گے۔ یہ اچھا ہوا کہ تمہیں اسلم خان کے گھر کا پتہ معلوم ہے.......... اب تمہارے ذمے صرف یہ کام ہے کہ امیر خان کو واردات کا لائحہ عمل سمجھا کر رات کے پہلے پہر فوجی چھاؤنی کے دروازے پر لے آؤ۔‘‘

قاسم نے آغا حسن کو اس کی ذمہ داری سمجھائی ۔ قاسم کی ہر بات پر آغا حسن اثبات میں سر ہلاتا رہا۔ تمام معاملات طے کرنے کے بعد قاسم، آغاحسن سے اجازت لے کر گھر کی جانب چل دیا۔

رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ ادرنہ کی فوجی چھاؤنی کے علاقہ میں افسروں کی رہائش گاہوں کے نزدیک تین گھڑ سوار سائے دکھائی دیئے ۔ یہ ان افسروں کی رہائش گاہیں تھیں جو شادی شدہ تھے۔ ان رہائش گاہوں کی پچھلی جانب شہتوت کے بہت سے گھنے درخت تھے۔ جہاں دن بھر افسروں کے بچے شہتوت جنتے نظر آتے۔ تینوں گھڑ سوار سائے شہتوت کے درختوں کے پاس پہنچ کر رک گئے۔ یہاں تاریکی اور زیادہ گہری تھی۔ یہ لوگ گھوڑوں سے اترے اور گھوڑوں کو شہتوت کے درختوں کے ساتھ باندھ دیا۔ اب تینوں سائے عمارتوں کی جانب بڑھ رہے تھے۔

عمارتوں کی تیسری رو میں پہلا مکان اسلم خان کا تھا۔ تینوں سائے اسی جانب جاتے ہوئے نظر آئے۔ وہ اسلم خان کے مکان کے قریب پہنچے تو رک گئے۔ یہ پکی اینٹوں کا بنا ایک چھوٹا سا مکان تھا جس کا بیرونی دروازہ گلی کی جانب سے چودہ فٹ بلند تھا۔ عقبی جانب مکان کے کمروں کی پچھلی دیوار تھی۔ امیر خان کا سایہ مکان کی عقبی جانب چلا گیا۔ آغاحسن اور قاسم دروازے کی جانب بڑھ گئے۔ ینی چری کے ان تینوں افسروں نے اپنے چہروں پر ڈھاٹے باندھ رکھے تھے۔ وہ چیتے کی طرح چالاکی سے چلتے ہوئے مکان کے دروازے کے قریب آئے اور دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑے ہوگئے۔اب مکان کے دروازے کے قریب آئے اور دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑے ہوگئے ۔ اب وہ مکان کے اندر کسی قسم کی آہٹ سننے کی کوشش کر رہے تھے۔ کافی دیر تک دروازے سے کان لگائے رکھنے کے بعد قاسم کو یقین ہوگیا کہ اسلم خان اور اس کے اہل خانہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ اگلے لمحے وہ چھپکلی کی طرح دروازے سے چپک کر اوپر چڑھنے کی کوشش کر رہاتھا ۔ قاسم آہٹ پیدا کئے بغیر دیوار کے سرے پر پہنچ گیا۔ اس کے بدن پر گہرے رنگ کا لباس تھا۔ کمر پر باندھی ہوئی کپڑے کی پٹی میں دو عدد خطرناک خنجر اڑسے ہوئے تھے۔دائیں کولہے کے ساتھ خالی نیام لٹک رہا تھا۔ کیونکہ تلوار قاسم کے دانتوں میں دبی ہوئی تھی۔ اس کی پشت پر تیروں سے بھرا ترکش اور میان جھول رہی تھی۔ قاسم خاموشی سے پرلی جانب اترنے لگا۔ آغاحسن باہر گلی میں کھڑا اسلم خان کے گھر کا دروازہ کھلنے کا انتظار کر رہاتھا ۔ قاسم نے انتہائی احتیاط سے آواز پیدا کئے بغیر اندر سے دروازہ کھولا اور آغا حسن کو بھی اندر بلا لیا۔

ادھر امیرخان نے کمال پھرتی کا مظاہرہ کیا تھا۔ وہ مکان کی عقبی دیوار میں موجود اینٹوں کے رخنوں میں ہاتھ اور پاؤں کی انگلیا ں پھنساتا کسی چھپکلی کی طرح دیوار ہی دیوار پر بلی کی سی چال چلتا ہوا صحن میں اترتے ہوئے زینوں تک جاپہنچا۔ یہاں سے گھر کا تاریک صحن نظر آرہا تھا۔ امیر خان سب سے اوپر والے زینے پر دیوار کی اوٹ میں دبک کربیٹھ گیا۔ یہاں سے اسے آغاحسن اور قاسم کی کاروائی پر نظر رکھنا تھی۔

قاسم اور آغا حسن بیرونی دروازے سے اندر داخل ہوئے تو سب سے پہلے مکان کا صحن تھا۔ مکان کے صحن میں شہتوت کا ایک بہت بڑا درخت لگا ہوا تھا جس کا سایہ رات کی تاریکی میں کسی بھوت کی طرح دیواروں پر پڑرہاتھا ۔ آج چاندنی رات تو تھی لیکن چاند اپنی کئی منزلیں طے کرتاہوا سورج کے تعاقب میں شفق پار چھلانگ لگانے والا تھا۔ قاسم اور آغاحسن بڑھ کر برآمدے میں داخل ہو گئے۔ یہاں تاریکی تھی اور مکان کے دونوں کمروں کے دروازے اندر سے بند تھے۔ قاسم اور آغاحسن نے الگ الگ دروازوں پر کان لگائے اور اندر کسی قسم کی آہٹ محسوس کر نے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن کمروں میں بلا کی خاموشی تھی۔ قاسم کو کچھ غیر قدرتی سا لگا۔ لیکن وہ نہ سمجھ سکا۔ بالآخر اس نے دروازے پر دباؤڈالا تو یہ جان کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ دروازہ کھلاتھا۔ اس نے چونک کر ہاتھ ہٹا لیا اور آغاحسن کو ہاتھ کے اشارے سے اپنے قریب بلالیا۔ دونوں بے حد احتیاط کر رہے تھے۔ آغاحسن قریب آیا تو قاسم نے اسے باہر رکنے کا اشارہ کیا اور خود تاریک کمرے میں داخل ہونے کے لیے دروازے کو یکلخت چوپٹ کھول دیا۔

اگلے لمحے وہ کمرے کے اندر تھا۔ لیکن اپنے اندر داخل ہوتے ہی گویا اس پر آفت ٹوٹ پڑی۔ کسی نے تلوار کا بھرپور وار کرکے اس کی گردن تن سے جدا کردینا چاہی۔ لیکن نہ جانے وہ کون سی طاقت تھی جس نے دل سے قاسم کو چھلانگ لگا دینے پر آمادہ کیا۔ قاسم اچھل کر ایک جانب ہوا اور اندھیر ے میں موجود دشمن کا وار خالی چلا گیا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -سلطان محمد فاتح -