ایوان فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ، لیکن جج صاحب کمرہ بند کرکے فیصلہ نہیں سنا رہے بلکہ ۔ ۔ ۔ کیا کررہے ہیں؟ سب سے حیران کن خبرآگئی

ایوان فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ، لیکن جج صاحب کمرہ بند کرکے فیصلہ نہیں سنا رہے ...
ایوان فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ، لیکن جج صاحب کمرہ بند کرکے فیصلہ نہیں سنا رہے بلکہ ۔ ۔ ۔ کیا کررہے ہیں؟ سب سے حیران کن خبرآگئی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ کا فیصلہ سنانے کا وقت ساڑھے تین بجے کا دیا گیا تھا جس کے بعد یک دم میڈیا کو عدالت سے باہر نکال دیا گیا جس کے بعد یہ خبر آ ئی کہ کورٹ روم کو بند کر کے فیصلہ سنانا شروع کر دیا گیاہے تاہم اب عدالتی عملے کا کہناہے کہ ابھی فیصلہ نہیں سنایا جارہاہے بلکہ وکلاءاور جج کی مشاورت ہو رہی ہے ۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق عدالتی عملے کا کہناہے کہ ابھی فیصلہ نہیں سنایا جارہا ، وکلاء اورجج کی ڈسکشن ہورہی ہے، جب فیصلہ سنایا جائیگا تو میڈیا سمیت سب کو اندر بلایا جائیگا،فیصلہ میڈیا نمایندگان کی موجودگی میں سنایا جائیگا۔ نجی ٹی وی جیونیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاہے کہ فیصلے کے اعلان میں مزید 40 منٹ کی تاخیر ہو گئی ہے ۔ اس موقع پر فریقین کے وکلاءروسٹرم پر موجود ہیں ۔

دوسری جانب میاں نواز شریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس لندن میں بیٹھ کر سنا ۔ اس موقع پران کے صاحبزادے حسین نواز ، حسن نواز اور ان کی صاحبزادیاں مریم نواز اور اسما علی بھی موجود تھیں۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی فیصلے کے وقت ایون فیلڈ اپارٹمنٹس میں ہی موجود تھے ، وہ مریم نواز کے ہمراہ ایک ہی گاڑی میں بیٹھ کر اپارٹمنٹس پہنچے تھے۔

خیال رہے کہ احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ تین بار موخر کرنے کے بعد سنایا گیا ہے۔ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ دوپہر ساڑھے 12 بجے سنایا جانا تھا تاہم جمعہ کا وقفہ کرتے ہوئے اسے ڈھائی بجے تک موخر کردیا گیا جس کے بعد ایک بار پھر فیصلہ موخر کرتے ہوئے تین بجے کا وقت دیا گیا۔ سہہ پہر تین بجے مقررہ وقت پر جج محمد بشیر عدالت میں آئے تو انہوں نے فریقین کے وکلا کو مخاطب کرکے کہا صفحات کی ترتیب لگانے اور فریقین کو فیصلے کی فوٹو کاپیاں فراہم کرنے کیلئے کچھ وقت درکار ہے۔ وکلا نے جج محمد بشیر سے کہا کہ وہ ایک مقررہ وقت دے دیں جس پر جج محمد بشیر نے ساڑھے تین بجے تک کا وقت لیا اور دوبارہ اپنے چیمبر میں چلے گئے۔ جب ساڑھے تین بجے تو جج محمد بشیر ایک بار کمرہ عدالت میں آئے اور عدالت کا جائزہ لینے کے بعد دوبارہ اپنے چیمبر میں واپس چلے گئے۔

مزید :

قومی -