’اس رات میں نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ طلاق دینا چاہتا ہوں، مجھے کوئی اور لڑکی پسند آگئی تھی، میری بیگم نے کہا صرف ایک مہینہ اکٹھا رہ لو، پھر مجھے معلوم ہوا کہ۔۔۔‘ آدمی کی وہ کہانی جو ہر شوہر کو ضرور پڑھنی چاہیے

’اس رات میں نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ طلاق دینا چاہتا ہوں، مجھے کوئی ...
’اس رات میں نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ طلاق دینا چاہتا ہوں، مجھے کوئی اور لڑکی پسند آگئی تھی، میری بیگم نے کہا صرف ایک مہینہ اکٹھا رہ لو، پھر مجھے معلوم ہوا کہ۔۔۔‘ آدمی کی وہ کہانی جو ہر شوہر کو ضرور پڑھنی چاہیے

  

لندن(نیوز ڈیسک)اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ، آپ کو یہ کہانی ضرور پڑھنی چاہیے کیونکہ یہ آپ کو سوچنے پر مجبور کردے گی کہ زندگی میں ہم کیا اپنے لئے اہم سمجھتے ہیں اور وہ کیا ہے جو حقیقت میں ہمارے لئے اہم ہوتا ہے ۔ یہ ایک شادی شدہ جوڑے کی کہانی ہے، جسے شوہر نے خود اپنے الفاظ میں کچھ یوں بیان کیا ہے: 

ایک رات ڈنر کے وقت میں نے اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑا اورکہا میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ میں اس کی آنکھوں سے چھلکتے درد کو دیکھ سکتا تھا لیکن مجھے معلوم تھا کہ یہ سب اس سے کہنا پڑے گا۔ میں نہیں جانتا کہ میں نے یہ بات کس طرح کی لیکن بہرحال میں نے اسے بتادیا کہ میں اسے طلاق دینا چاہتا تھا۔ اس نے پوچھا کہ میں کیوں ایسا چاہتا ہوں۔ میں مزید کچھ نا کہہ سکا اور وہ خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ میں کیا سوچ رہا ہوں اور کس ذہنی کیفیت سے گزررہا ہوں۔ میں نے اسے بتایا کہ میرے دل سے اس کی محبت ختم ہوگئی تھی او رمجھے ہوان نامی ایک اور خاتون سے محبت ہوگئی تھی۔ 

میں اپنی بیوی کو دکھ پہنچانے پر خود کو مجرم محسوس کرتا تھا لہٰذا طلاق کے معاہدے میں میں نے لکھا کہ گھر اس کا ہوگا جبکہ ہمارے کاروبار میں سے بھی 30 فیصد حصہ اسے ملے گا اور کار بھی اس کے حصے میں آئے گی۔ دس سال اکٹھے گزارنے کے بعد اب ہم اجنبی بننے والے تھے۔ طلاق کا معاہدہ تیار ہونے کے بعد اگلے روز میں گھر آیا تو میں نے دیکھا کہ وہ بیٹھی کچھ لکھ رہی تھی۔ میں تمام دن ہوان کے ساتھ گزار کر آیا تھا اور بہت تھکا ہوا تھا۔ جب میں سوکر اُٹھا تو دیکھا کہ وہ ابھی بھی کچھ لکھ رہی تھی۔ 

میری توقع کے بالکل برعکس میرے بیوی مجھ سے مخاطب ہوئی اور کہنے لگی کہ وہ مجھ سے کچھ بھی نہیں چاہتی۔ وہ صرف یہ چاہتی تھی کہ طلاق کو ایک ماہ کیلئے مؤخر کردیا جائے۔ اس کا کہنا تھا کہ ہمارے بیٹے کے امتحانات ہورہے ہیں اور وہ اس موقع پر اسے دکھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ میں نے اس بات سے اتفاق کیا، لیکن پھر اس نے ایک اور عجیب بات کہہ دی۔ وہ چاہتی تھی کہ ہم جتنے دن ساتھ ہیں میں رات کو سونے سے قبل اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کر بیڈروم میں لے جایا کروں۔ اگرچہ مجھے یہ بات احمقانہ لگی لیکن میں اس پر بھی تیار ہوگیا۔ 

پہلے دن جب میں نے اسے اپنی بانہوں میں اُٹھایا تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ پہلے کی نسبت بہت ہلکی پھلکی ہو چکی تھی۔ جب میں اسے اٹھا کر لیجارہا تھا تو اس نے آنکھیں بند کیں اور کہا ’’ہمارے بیٹے کو ابھی مت بتانا کہ ہم جدا ہورہے ہیں۔‘‘ اگلے د ن میں نے اسے اٹھایا تو اس نے اپنا سر میرے سینے سے لگادیا اور میں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر دکھ کے آثار تھے اورہ بہت کمزور لگ رہی تھی۔ میرے دل کو ٹھیس پہنچی اور میں نے سوچا کہ میں ہی اس کے دکھوں کا ذمہ دار ہوں۔ تیسرے دن جب میں اسے اُٹھا کر بیڈروم کی جانب بڑھ رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ ہم نے 10 سال اکٹھے گزارے ہیں اور اب ہم جداہورہے ہیں۔ یہ سوچنا بہت اداسی بھرا تھا۔

دن بدن میں یہ زیادہ محسوس کررہا تھا کہ اس کا وزن پہلے کی نسبت بہت کم ہوچکا ہے اور یہ احساس بھی شدید ہو رہا تھا کہ میں اسے نظر انداز کر کے بے حسی کا مرتکب ہو رہا تھا۔ ایک ماہ مکمل ہونے کوتھا کہ جب ایک دن میں نے اسے بیڈ روم لیجاتے ہوئے بے اختیار گلے سے لگالیا۔ ہم کافی دیر تک بے حس و حرکت رہے۔ اس دن میں دفتر گیا اور ہوان سے ملاقات ہوئی تو اسے بتایا کہ میں اپنی اہلیہ کو طلاق نہیں دے رہا۔ یہ بات سنتے ہی اس نے میرے منہ پر تھپڑ مارا اور دروازہ بند کرکے وہ وہاں سے چلی گئی۔ 

دفتر سے واپسی پر میں نے اپنی اہلیہ کیلئے ڈھیروں پھول خریدے، لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس روز میں گھر پہنچا تو دروازے پر میرا انتظار کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ خاموشی سے دنیا سے رخصت ہوگئی تھی۔ اس کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ وہ کینسر کی مریضہ تھی۔یہ بات مجھے اس روز پہلی بار پتا چلی تھی، لیکن اسے معلوم تھا کہ وہ مررہی تھی۔ اسی لئے اس نے طلاق کو ایک ماہ کے لئے مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ہمارا بیٹا یہ دیکھے کہ اس کے ماں باپ کے درمیان طلاق ہوگئی تھی۔ اسی لئے اس نے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اسے ہر روز اپنی بانہوں میں اٹھا کر بیڈروم میں لیجایا کروں۔ وہ چاہتی تھی کہ ہمارے بیٹے کے ذہن میں صرف یہ بات نقش ہو کہ اس کا باپ آخر دن تک اس کی ماں سے شدید محبت کرتا تھا۔ وہ اس کے دل میں ایک شفیق اور محبت کرنے والے باپ اور شوہر کا نقش ثبت کرنا چاہتی تھی جس پر وہ ہمیشہ فخر کر سکے۔کاش میں پہلے جان پاتا کہ اس کی محبت، میرے لئے اور اپنے بیٹے کے لئے، کس قدر بے لوث تھی۔ اب میں عمر بھر ملول تو رہ سکتا ہوں لیکن بیتے دنوں کو واپس نہیں لا سکتا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -