آئی ایم ایف کے قرض کی شرائط

آئی ایم ایف کے قرض کی شرائط

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لئے6ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری کے بعد شرائط بھی سامنے آ گئی ہیں،جن میں کہا گیا ہے کہ ڈالر آزاد ہو گا، ماضی میں ڈالر کو مصنوعی طور پر کنٹرول کیا گیا، بجلی، گیس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت نہیں ہو گی،ٹیکس آمدن میں اضافہ، گردشی قرضوں کا خاتمہ، واجبات کی وصولی یقینی بنائی جائے گی تاہم ملک میں مہنگائی بڑھے گی،ناقص پالیسیوں سے معیشت کمزور ہوئی،توانائی کے شعبے میں اصلاحات ضروری ہیں، ملک کا ٹیکس نظام بھی ٹھیک نہیں، آئی ایم ایف پروگرام ملنے سے عالمی شراکت داروں کی جانب سے رُکے ہوئے38ارب ڈالر کی بحالی شروع ہو جائے گی، جو آئندہ برسوں میں پاکستان کو ملیں گے، وزیراعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ایسٹ ایمنسٹی سکیم سے ایک لاکھ37 ہزار افراد نے استفادہ کیا، ان میں سے ایک لاکھ افراد پہلے ٹیکس نیٹ میں نہیں تھے،3ہزار ارب روپے کے غیر ظاہر شدہ اثاثے ڈکلیئر ہوئے اور کالے دھن کو سفید کیا گیا اور70 ارب روپے کا ٹیکس ریونیو حاصل ہوا،آئی ایم ایف کے قرض کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ 3فیصد سے کم شرح سود پر 10سال کے لئے آسان شرائط پر ملا۔آئی ایم ایف سے جو طے ہوا ہے وہ سامنے آ جائے گا، خسارے میں جانے والے یونٹوں کی نجکاری کا جامع پروگرام بنائیں گے،آئی ایم ایف کی نجکاری کے حوالے سے کوئی اضافی شرائط نہیں ہیں۔

آئی ایم ایف سے اس قرض کے حصول کی کوششیں تو اُسی وقت سے جاری تھیں جب سے موجودہ حکمرانوں نے اقتدار سنبھالا تھا تاہم سابق وزیر خزانہ اس سلسلے میں یا تو یکسو نہیں تھے یا بعض شرائط پر اُن کے تحفظات تھے جو اُن کے خیال میں سخت تھیں اور وہ نرم کرانا چاہتے تھے اس کوشش میں اُن کی وزارت ہی غفرلہ، ہو گئی اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ساتھ اُن کی طویل سیاسی وابستگی بھی کسی کام نہ آئی، اور اُنہیں عجلت میں وزارت سے ہٹاتے ہوئے کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ بھیا کِیستی؟ آپ کی پارٹی کے لئے کچھ خدمات بھی ہیں، بس اُن سے وزارت لے کر خزانہ کا کاروبار حفیظ شیخ کے سپرد کر دیا گیا، کہا جاتا ہے کہ وہ سٹیل ملز کی نجکاری نہیں چاہتے تھے اب بھی معلوم نہیں کہ جو ادارے فروخت کئے جا رہے ہیں کیا اُن میں سٹیل ملز بھی شامل ہے، جو اگرچہ اس قابل ہے کہ اُسے فروخت کر دیا جائے،کیونکہ مسلسل خسارہ حکومت کے لئے ناقابل ِ برداشت ہو چکا ہے اور اب بھی اگر اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کیا گیا تو یہ اُس ٹیکس ریونیو کا ایک بڑا حصہ کھا جائے گی جو بڑی مشکلوں سے جمع ہوتا ہے اور اس کا اندازہ اِس بات سے لگایئے کہ ایک لاکھ 37ہزار لوگوں نے3ہزار ارب روپے کے جو اثاثے ڈکلیئر کئے ہیں اُن سے ٹیکس صرف70 ارب روپے ملا ہے،جو بظاہر ایک بڑی رقم لگتی ہے،لیکن ایک ایسی سکیم جس کا بڑا چرچا تھا اُس سے اتنے کم ٹیکس کا حصول لمحہ ئ فکریہ ہے۔

حفیظ شیخ نے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ مشکل فیصلے کریں گے،معلوم نہیں ان مشکل فیصلوں کی نوعیت کیا ہے، لیکن یہ فیصلے ایسے بھی مشکل نہیں ہونے چاہئیں جو ملکی معیشت کا ہی بھٹہ بٹھا دیں اور رہے سہے کاروبار بھی بند ہو جائیں، یہ ایک مبہم اصطلاح ہے جس کے پردے میں بہت کچھ چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے جو سامنے آنا چاہئے۔ اس وقت بجٹ کے خلاف صنعتکاروں اور تاجروں نے ہڑتالیں شروع کر رکھی ہیں،معلوم نہیں یہ سلسلہ کب تک جاری رہتا ہے،لیکن لطیفہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی سے پاس شدہ فنانس بل میں ایف بی آر من پسند تبدیلیاں بھی کر رہا ہے،جس کا اُسے کوئی اختیار نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایک دن ایف بی آر کا ایک حکم آتا ہے اور دوسرے دِن اس کی وضاحت آ جاتی ہے، سنا ہے ایف بی آر فنانس بل کی ”ٹائپ کی غلطیاں“ بھی درست کر رہا ہے، یہ غلطیاں ان پر کون واضح کررہا ہے کسی کو معلوم نہیں، اس کا نوٹس تو مشیر خزانہ کو لینا چاہئے کہ اسمبلی سے پاس شدہ بل کی من مانی تاویلات کوئی بھی ادارہ نہیں کر سکتا،لیکن حکومت کے مختلف اداروں میں جس طرح کا کنفیوژن موجود ہے شاید یہ ٹائپ کی اغلاط بھی اسی کا شاخسانہ ہوں،متعلقہ حضرات کو بہرحال اس کا نوٹس لینا چاہئے اور قومی اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھانے کی ضرورت ہے کہ کس اختیار کے تحت کوئی ادارہ اس کے پاس شدہ بل کی من مانی تشریحات کر سکتا ہے۔

اس وقت روپے کی جس انداز میں بے قدری ہو رہی ہے۔اگر یہ سلسلہ نہیں رُکتا تو قرضوں کا بوجھ بھی خود کار طریقے سے بڑھتا چلا جائے گا اور معلوم نہیں اس وقت آئی ایم ایف سے جو6 ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے اس پر اگرچہ سود کی شرح 3فیصد سے کم بتائی گئی ہے،لیکن دس سال بعد روپیہ کس مقام پر ہو گا اس کا بھی قرض سے گہرا تعلق ہے،اس وقت ملک پر جو قرضے ہیں سود در سود اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کے بعد ہی ان میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، ورنہ اتنی مقدار میں قرضے لئے نہیں گئے تھے، جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے اس کا طوفان تو تیزی سے بڑھتا ہوا نظر آتا ہے اور آئی ایم ایف نے بھی اس کی پیش گوئی کر دی ہے۔ اس وقت بھی مہنگائی کی شرح کم آمدنی والے کروڑوں عوام کے لئے ناقابل ِ برداشت ہے اور اُن کی آمدنیاں اخراجات کا ساتھ نہیں دے پا رہیں،حکومت نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جو 10فیصد اضافہ کیا ہے وہ بھی قطعاً ناکافی ہے،لیکن جتنا اضافہ بھی ہوا ہے وہ صرف سرکاری ملازمین کے ہے جن کی تعداد محدود ہے،جو لوگ نجی شعبے میں ملازمتیں کر رہے ہیں انہیں کوئی اضافہ نہیں ملا،بلکہ اُن کی تنخواہیں کم ہوئی ہیں، کیونکہ بحرانوں سے دوچار نجی ادارے بچت کر کے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے باوجود وہ اس میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

ماضی میں سٹیٹ بینک ڈالر کو کنٹرول کرنے کے لئے بعض اقدامات کرتا رہا ہے، جس کی وجہ سے ڈھلوان کا سفر کنٹرول رہا، شاید اسی کا نام آئی ایم ایف نے ”مصنوعی طریقے سے کنٹرول“ رکھا ہوا ہے۔ اب چونکہ قرضے نے پاکستان کے ہاتھ باندھ دیئے ہیں اِس لئے یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ڈالر کی اڑان اب کس طرح ہو گی اور اسے کیسے روکا جائے گا۔ بظاہر تو حکومت کے پاس ایسا کوئی پروگرام ہی نہیں لگتا، جب ڈالر گرنا شروع ہوا تو وزیراعظم نے صاف گوئی سے کہہ دیا تھا کہ انہیں خود ٹی وی کی خبروں سے پتہ چلا کہ ڈالر گر گیا ہے،اب اگر وزیراعظم کی بے خبری کا یہی عالم رہتا ہے تو خدا معلوم ”مشکل فیصلے“ کیا قیامت ڈھائیں۔بہرحال قہر درویش برجانِ درویش، یہ پتہ تو بہت بعد میں چلے گا کہ ان مشکل فیصلوں سے کچھ حاصل بھی ہوا یا نہیں، لیکن مہنگائی کے طوفان میں سب کچھ بہہ گیا تو اس کا ازالہ کون کرے گا؟

مزید : رائے /اداریہ