صحت سہولت کارڈ پروگرام کیلئے سندھ حکومت تعاون نہیں کر رہی، ڈاکٹر ظفر

صحت سہولت کارڈ پروگرام کیلئے سندھ حکومت تعاون نہیں کر رہی، ڈاکٹر ظفر

اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفر مرزا نے کہا ہے کہ ملک بھر کے 43 اضلاع میں صحت سہولت کارڈ فراہم کر دیئے گئے ہیں،حکومت سندھ کی طرف سے عدم تعاون اور رابطہ نہ کیے جانے پریہ سہولت وہاں فراہم نہیں کی جاسکی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی وجوحات کی بنا پر یا صوبائی حکومت کی جانب سے (بقیہ نمبر37صفحہ12پر)

دلچسپی نا لینے کے باعث سندھ کے عوام اس سہولت سے فایدہ نہیں اٹھا پائے۔ وزیر اعظم نے سندھ میں اعلان کیا تھا کہ تھر پارکر میں یہ پروگرام پہنچائینگے۔انہوں نے کہا کہ تھر پارکر کے تمام خاندانوں کو یہ سہولت فراہم کرنے کے لیے کوششیں کیں جائیگی۔ تھرپارکر میں امیدی نامی خاتون کا صحت سہولت پروگرام کے تحت علاج کیا گیا ہے۔معاون خصوصی برائے قومی صحت نے کہا کہ سندھ حکومت صحت انصاف پروگرام میں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہی لیکن وفاقی حکومت سندھ حکومت کی جانب سے عدم تعاون کی وجہ سے آنکھیں بند نہیں کرے گی،سندھ کے عوام بھی ہمارے عوام ہیں ان کے لیے بھی صحت سہولت پروگرام میں حصہ موجود ہے جو انہیں بہم پہنچایا جائیگا۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ملک کے 2 سو 80 نجی اسپتالوں کو صحت سہولت کارڈ کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے،ہم مشکل معاشی حالات سے گزر رہے ہیں. پھر بھی کوشش ہے عام شہریوں کو علاج کی بہتر سہولیات دی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام میں 190 ارب روپیے کے منصوبے رکھے گیے ہیں۔ ستر سالوں میں کسی حکومت نے صحت کی سہولیات پر اتنا کام نہیں کیا،پورے پاکستان میں مریض اس صحت انصاف کارڈ کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزانے کہا کہ وزیراعظم کا ویژن ہے کہ اسی صورت قائم رہ سکتی ہیں جب وہ معاشرے کے پسماندہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔

ڈاکٹر ظفر

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...