شہباز شریف نیب پیش، خاندانی کاروباری معاملات سے لاتعلقی کا اظہار، ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کیس میں بھی طلبی 

شہباز شریف نیب پیش، خاندانی کاروباری معاملات سے لاتعلقی کا اظہار، ویسٹ ...

لاہور(این این آئی)مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف آمدن سے زائد اثاثہ جات اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں نیب کے سامنے پیش ہو ئے، نیب کی تفتیشی ٹیم کی جانب سے شہباز شریف سے ڈیڑھ گھنٹے تک سوالات پوچھے گئے،نیب نے مطمئن نہ ہونے پر 12جولائی کو دوبارہ طلب کر لیا، لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے کیس میں بھی اسی تاریخ کو طلبی کا سمن جاری کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق شہباز شریف نیب کے نوٹس پر تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہو گئے جہاں ان سے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس اور مبینہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے۔ شہباز شریف نے بتایا کہ کاروبا ی معاملات سلمان شہباز دیکھتے ہیں۔ وراثت میں جو جائیداد اور کاروبار ملا اس کا زبانی یاد نہیں۔ اہل خانہ کو دئیے جانے والے تمام تحفوں کی ادائیگیاں قانونی طور پر کیں اور اس کا ریکارڈ جمع کرا چکا ہوں۔ شہباز شریف نے مزید بتایا کہ ملکی اور غیر ملکی اثاثہ جات کے بارے میں الیکشن کمیشن اور ایف بی آر کو گوشوراے میں سب ظاہر کیا جا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے مطمئن نہ ہونے پر شہباز شریف کو سوالنامہ دیا گیا ہے اور انہیں 12جولائی کو دوبارہ طلب کر لیا گیا جس میں انہیں اہل خانہ کے اثاثہ جات کی تفصیلات بھی لانے کا کہا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نیب نے شہباز شریف کیخلاف چوہدری شوگر ملز کا کیس بھی کھول دیا ہے۔نیب نے سوال کیا ہے کہ چوہدری شوگر ملز کی تعمیر کے لئے اثاثے کہاں سے آئے۔چوہدری شوگر ملز کے اکاؤنٹس کے ذریعے بھی مبینہ طور پر رقم بیرون ملک غیر قانونی طریقے سے منتقل کرنے کے شواہد ملے ہیں۔شہباز شریف سے سوال کیا گیا ہے کہ چوہدری شوگر ملز میں آپ کے کتنے شیئرز ہیں اور کون کون اس کا شراکت دار ہے۔

صدر مسلم لیگ (ن)

لاہور(آئی این پی)رمضان شوگر ملز کیس میں شہباز شریف بھی احتساب عدالت پیش ہوئے،دوران سماعت شہباز شریف نے عدالت سے اجازت لیکربتایا کہ وہ کرپشن میں ملوث نہیں،نیب نے من گھرٹ اور بے بنیاد کرپشن کا الزام لگا کر ریفرنس پیش کردیاہے،رمضان شوگر ملز ان کا اپنا کاروبار ہے،نیب نے ان پر 22کروڑروپے کا الزام لگایا ہے جوغلط ہے۔شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ میرے بچے خود مختار اور وہ کاروبار کو دیکھتے ہیں، جھوٹے مقدمے بنا کرعوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، خطاکار ترین انسان ہوں لیکن پبلک سروس میں دن رات ایک کیا، کاشتکاروں کو سندھ سے زیادہ ریٹ دیا تا کہ ان کی مدد ہوسکے، شوگر مل ٹرانسفر کے معاملے پر میرا خاندان مجھ سے ناراض بھی ہوا، میں نے اس معاملے پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ رمضان شوگر ملز کیس میں ایم پی اے کو فائدہ دینے کی بات درست نہیں ہے۔ مقامی ایم پی اے رحمت اللہ کی درخواست پر نالہ تعمیر کیا گیا۔نالے کی  تعمیر کامقصد مقامی افراد کیلئے سیوریج کی بہتر سہولت فراہم کرناتھا۔امجد پرویز نے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز انکوائری میں شامل ہوئے مگر گرفتار کرلیا گیا۔رمضان شوگر ملز کے معاملات میاں شریف اور عباس شریف دیکھتے تھے۔میاں شریف اور عباس شریف فوت ہو چکے ہیں۔الزامات مکمل بے بنیاد ہیں۔رمضان شوگر ملز نالے کی تعمیر میں شہباز شریف یا حمزہ شہباز کا کوئی کردار نہیں۔حمزہ شہبا زکے وکیل نے کہا کہ جن افراد کو شامل تفتیش کرنا چاہتے ہیں وہ نیب میں پیش ہو رہے ہیں۔ کمپنی کے سی ایف او کا آج تک کہیں بھی نام نہیں آیا۔ شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر اپنا بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں جو حقائق عدالت کو بتاؤں گا اس سے ثابت ہو گا کہ کیس جھوٹا ہے۔میں دنیا کا خطرناک ترین انسان ہوں گا مگر اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں عوامی خدمت میں کوئی بے ایمانی نہیں کی۔شہباز شریف نے کہامیں نے رمضان شوگر ملز کے حوالے سے کوئی فائدہ اٹھایا نہ تعلق ہے،میرے بچے خودمختار ہیں اور وہ کاروبار کو دیکھتے ہیں۔جھوٹے مقدمے بنا کر میری تذلیل کر رہے ہیں عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ میں خطا کار انسان ہوں۔ میرا اپنا کاروبار ہے اور ٹیکس ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اٹھارہ کروڑ کا فراڈ کیس بنایا گیاہے،جھوٹے کیس بنا کر یہ قوم کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟قوم کا ایک روپیہ بھی خوردبرد نہیں کیا،میرا فرض ہے کہ میں عدالت پیش ہوں۔مجھے بدنام کرنے کیلئے یہ الزام لگایا گیا ہے۔عوامی عہدہ رکھتے ہوئے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا۔وراثتی طور پر کاروبار ملا۔شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ وہ رمضان شوگر ملز کے شیئر ہولڈر نہیں ہیں۔ اٹھارہ کروڑ کافراڈ ریفرنس بنایا گیا ہے۔میرا اپنا کاروبار ضرور ہے پولٹری فارم وغیرہ کا لیکن رمضان شوگر ملز میرے بچے دیکھتے تھے۔شہباز شریف نے کہا یہ پراجیکٹ ٹوٹل 22کروڑ روپے کا تھا،میں یہاں پر دوسرے اپنے پراجیکٹ گنا کر آپکا وقت ضائع نہیں کرونگا جیسے میڑو یا اورنج ٹرین وغیرہ۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی جانتا ہے اگر میں ایک دھیلے کی بھی کرپشن کی ہو،میں نے توسندھ میں شوگر ملز اور گنے کی قیمت بڑھنے پربھی پنجاب میں اسکو کنٹرول میں رکھا،حالانکہ میں وزیر اعلی پنجاب تھا اور اپنی فیملی کو فائدہ نہیں پہنچایا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ سندھ کے گنے میں شیرا زیادہ تھا تو اسکی تو قیمت تو ویسے ہی بڑھ جانی تھی۔جسکی شوگر مل ہے وہ گنا دیکھ کر ہی اسکا زیادہ شیرے کے حوالے سے اندازہ لگا لیتا ہے۔شہباز شریف نے کہا میں نے پنجاب میں چینی کی قیمت نہیں بڑھنے دی۔میں آپکو آج عدالت میں کہہ دیتا ہوں کہ میں استعفی دے دونگا اگر بات غلط ہویہ 22 کروڑ کا جھوٹا کیس لے کے آتے ہیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ میں عدالت میں اسکے متعلق گواہ پیش کرونگا جو میرے اس بات کی تائید کرینگے۔ہم سب نے ایک دن قبر میں جانا ہے، اللہ مجھے سخت ترین سزا دے اگر میں جھوٹ بولوں۔شہباز شریف نے کہا کہ 2015 میں سندھ نے گنے کی قیمت 181 روپے فی من رکھی ہم نے 180 روپے فی من رکھی، سندھ حکومت نے قیمت 181 سے کم کر کہ 165 روپے فی من کر دی۔

شہبازشریف

مزید : صفحہ اول


loading...