کے فور پروجیکٹ پر روٹ کے مسائل کی وجہ سے کام رک گیا ہے : وزیر اعلٰی سندھ

کے فور پروجیکٹ پر روٹ کے مسائل کی وجہ سے کام رک گیا ہے : وزیر اعلٰی سندھ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے مسائل کے حل کے لیے جمعہ کوکانفرنس کا انعقادکیاگیا ۔ سندھ سیکرٹریٹ میں بلائی گئی کانفرنس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، سندھ اسمبلی قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی،سندھ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈرحلیم عادل شیخ،مشیراطلاعات وقانون مرتضی وہاب،میئر کراچی وسیم اختر، قاری محمدعثمان،ثروت اعجازقادری،مصطفی کمال سمیت مختلف سیاسی جماعتوں جماعتِ اسلامی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، پی ایس پی، اے این پی، جے یو آئی اور سنی تحریک کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کراچی کی ضرورت کا آدھا پانی دستیاب ہے، اگر آدھا پانی کا گلاس ہو گا تو اس کی تقسیم بھی اسی حساب سے ہو گی ۔ سب سے اہم مسئلے پانی پر ایم ڈی واٹر بورڈ نے شرکا کو بتایا کہ 406 ایم جی ڈی یعنی ضرورت سے آدھا 44 فیصد پانی دستیاب ہے ۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کانفرنس میں بتایا کہ کے فور پروجیکٹ پر روٹ کے مسائل کی وجہ سے کام تقریبا رک گیا ہے، کراچی کی ضرورت کا صرف آدھا پانی دستیاب ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایاکہ جب وزیر داخلہ تھا تو کے 4 کے روٹ بنانے والے کا پوچھا تھا، اجلاس میں سب نے کہا تھا مشکل روٹ کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ مجھے کہا گیا آپ اس پر اعتراض نہ کریں ، پروجیکٹ میں تاخیر ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایف ڈبلیو او کو روٹ 2 سال میں مکمل کرنے کی درخواست کی تھی، روٹ 25 بلین روپے میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ ایف ڈبلیو او نے کہا کہ یہ پروجیکٹ 42 بلین روپے کا ہے ۔ اگر نظر ثانی میں جاتے تو مزید تاخیر ہوتی ۔ وزیر اعلی نے کہاکہ اس وجہ سے منصوبے کو 2 حصوں ایک سول اور دوسرا ٹیکنیکل میں تقسیم کیا، جب اس کی قیمت آگئی تو میں وزیر اعلی سندھ بن گیا تھا، پتہ چلا کہ پروجیکٹ پر 31 بلین مزید خرچ ہوگا تو کابینہ نےخود کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ پر سندھ حکومت نے 21 بلین روپے خود دینے کا وعدہ کیا ۔ عام انتخابات کے بعد جیسے ہم واپس آئے تو کچھ مسائل ہوئے ۔ ہ میں ماہرین نے کہا کہ 12;46;9 بلین روپے کی جو لاگت کی ہے وہ ٹھیک نہیں ۔ وزیر اعلی نے کہاکہ ہم نے 3 پمپ رکھے تھے، آپ نے لاگت کم کرنے کے لیے ایک پمپ کم کردیا، فیز ٹو کے لیے نیا چینل بنانا ہوگا تو کس طرح بلاسٹنگ کریں گے، ہم نے نیسپاک کو تھرڈ پارٹی ڈیزائن ویریفکیشن کے لیے کام دیا ۔ میئر کراچی وسیم اختر نے پانی کے انفرا اسٹرکچر کو دوبارہ تعمیر کرنے کی تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت اس کے لیے فنڈز مختص کرے ۔ کانفرنس میں سابق میئر کراچی مصطفی کمال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پانی پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیئے، واٹر بورڈ سندھ حکومت کو ہینڈل نہیں کرنا چاہیئے، کے 4 کا جب تصور کیا گیا تب کے 3 مکمل ہو رہا تھا، اگلے 50 سال کے لیے کے 4 کی ضرورت تھی ۔ انہوں نے کہا کہ 1000 فٹ کوریڈور کراچی کے پانی کی ضرورت کے لیے تھا، 130 کلو میٹر کے 4 اسٹرپ ہیں اس میں پمپنگ سب سے مہنگی چیز ہے ۔ سنہ 2014 میں 50 فیصد فنانشل شیئرنگ پر اتفاق ہوا، جو بھی نئی سڑک تعمیر ہو اس کو پانی کی لائن پہلے سے دی جائے ۔ کانفرنس میں پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال اور آباد کے رہنما محمد حسن بخشی نے بھی تجاویز پیش کیں ۔ کانفرنس کے شرکا نے پانی فراہم کرنے والے ادارے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو آڑے ہاتھوں لیا اور ادارے میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیا ۔

مزید : صفحہ اول


loading...