چڑیا گھراورسفاری پارک کے ٹکٹس سے کراچی نہیں چل سکتا، میئر کراچی

چڑیا گھراورسفاری پارک کے ٹکٹس سے کراچی نہیں چل سکتا، میئر کراچی

کراچی(آئی این پی) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ چارجڈ پارکنگ، چڑیا گھر اور سفاری پارک کے ٹکٹس سے کراچی نہیں چل سکتا۔ جمعہ کو کے ایم سی بلڈنگ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کراچی میونسپل کمیٹی کے ریوینو پیدا کرنے والے محکمے حکومتِ سندھ نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایس ایل جی او 1979 میں جو اختیارات تھے اب وہ بھی نہیں رہے۔ بلدیہ کا سب سے بڑا ریونیو آکٹرائے ٹیکس بھی ختم کردیا گیا اور اب آکٹرائے ٹیکس کی مد میں 6 ارب روپے کم دیے جا رہے ہیں۔میئر کراچی نے یہ بھی کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے 2 ارب سے زیادہ رقم سندھ حکومت وصول کرتی ہے جو بلدیہ کا حق ہے۔ ماسٹر پلان سے بھی 2 ارب رو پے صوبائی حکومت لیتی ہے۔لوکل ٹیکسز ڈیپارٹمنٹ جو کے ایم سی کے تھے وہ اٹھا کر ڈی ایم سی کو دے دیے گئے۔وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ریوینو کے مختلف مدوں میں کے ایم سی کے حصے کے 14 سے 15 ارب روپے کے ٹیکس زبردستی سندھ حکومت لے رہی ہے، بلدیہ عظمی کراچی کے 14 سے 15 ارب کے یہ ٹیکسز اگر ہمیں واپس مل جائیں تو کسی امداد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ شہری ٹیکس دینے کے لئے تیار نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صفائی ستھرائی، سیوریج اور سڑکوں کی صورت بہتر نہیں۔سفاری پارک اور چڑیا گھر کے ٹکٹ پر کراچی کو نہیں چلایا جا سکتا اور 2013 کے ایکٹ میں دیے گئے اختیارات سے بلدیہ عظمی اپنے حصے کے ریونیو حاصل نہیں کرسکتی ہے۔

وسیم اختر

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...