آصف زرداری جب بطور صدر روس کا دورہ کررہے تھے تو ہیلری کلنٹن نے فون کرکے ایسا کرنے سے منع کیا لیکن پھر پاکستان نے کیا فیصلہ کیا؟ سینئر صحافی نے انکشاف کردیا

آصف زرداری جب بطور صدر روس کا دورہ کررہے تھے تو ہیلری کلنٹن نے فون کرکے ایسا ...
 آصف زرداری جب بطور صدر روس کا دورہ کررہے تھے تو ہیلری کلنٹن نے فون کرکے ایسا کرنے سے منع کیا لیکن پھر پاکستان نے کیا فیصلہ کیا؟ سینئر صحافی نے انکشاف کردیا

  


اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری ان دنوں بے نامی اکاؤنٹس کیس میں نیب کی تحویل میں ہیں اور ایسے میں سینئر صحافی ان کے بطور صدر اقدامات اور امریکی نظریات کو بھی سامنے لے آئے ہیں۔ سلیم صافی نے روزنامہ جنگ میں لکھا کہ ’’ نواز شریف حکومت کے آخری سالوں میں امریکہ کے ساتھ تعلقات نہایت خراب رہے۔ تب اسے غصہ تھا کہ پاکستان ایک طرف افغانستان میں اس کی منشا کے مطابق کردار بھی ادا نہیں کررہا اور دوسری طرف چین اور روس کے کیمپ میں جارہا ہے۔ مغرب کی جگہ مشرق اور شمال کی طرف رخ کرنے کا عمل پیپلز پارٹی کے دور میں شروع ہوا تھا اور جب آصف علی زرداری روس کا دورہ کررہے تھے تو ہیلری کلنٹن نے خود ٹیلی فون کرکے انہیں جانے سے منع کیا تھا لیکن وہ نہ مانے۔ چین اور روس کے ساتھ قربت کے اس سفر کو نہ صرف وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف نے پیپلز پارٹی کے دور کی طرح برقرار رکھا بلکہ اس میں تیزی بھی لے آئے۔ سی پیک منصوبے کے آغاز کے بعد تو امریکہ کو شک ہوگیا کہ پاکستان اب اسٹرٹیجک حوالوں سے مکمل طور پر اس کے مخالف یعنی روسی اور چینی کیمپ میں جارہا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ بھی میاں نواز شریف کے تعلقات بدمزہ ہوگئے تھے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تو معاملات بے حد خراب ہوگئے تھے چنانچہ سعودی عرب اور یو اے ای بھی پاک امریکہ تعلقات کی بہتری کے لئے کوئی کردار ادا کرنے سے گریزاں تھے۔ اسی تناظر میں جب ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آئے تو وہ پاکستان اور نواز شریف حکومت سے متعلق نہایت برہم نظر آرہے تھے اور پہلی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان سے متعلق سخت ترین الفاظ استعمال کرکے دھمکیاں تک دیں۔ تاہم اس دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو نہایت بہتر بنا چکے تھے۔ حکومت میں تبدیلی کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید فری ہینڈ مل گیا چنانچہ ان ممالک نے بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ٹریک پر لانے میں اپنا کردار ادا کیا لیکن اصل عامل یہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے کسی حد تک افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی واضح کردی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ واضح الفاظ میں پاکستان اور دیگر فریقوں کو پیغام دیا کہ وہ افغانستان سے اپنی افواج کا انخلا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے پاکستان سے کردار ادا کرنے کا نہ صرف تقاضا کیا بلکہ ڈیلیوری کی صورت میں اس کے تحفظات کو دور کرنے کا بھی اشارہ دیا۔ دوسری طرف امریکہ نے سعودی عرب اور یو اے ای سے بھی پاکستان پر دبائو ڈلوایا۔ پاکستان طالبان سے متعلق اپنا پورا اثر و رسوخ اس شرط کے ساتھ استعمال کرنے پر آمادہ ہوا کہ امریکہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کرے۔ اگرچہ امریکہ نے اس مطالبے پر اصولی آمادگی شاہد خاقان عباسی کے دور میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ایلس ویلز کی ملاقات میں ظاہر کی تھی لیکن اس کے لئے عملی اقدامات پاکستان میں نئی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد کیے گئے۔ چنانچہ امریکہ نے قطر میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کردیا اور پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے لگا جس کی وجہ سے نہ صرف امریکہ کی برہمی وقتی طور پر ختم ہوگئی بلکہ اعلیٰ امریکی عہدیدار پاکستان کے کردار کی تعریف کرنے لگے‘‘۔

مزید : قومی


loading...