’’اگر مریم نواز کی جانب سے پیش کی جانے والی ویڈیو کے اندر کوئی ٹیمپرنگ نہیں ہے تو ۔۔۔۔‘‘سینئر تجزیہ کار اور معروف صحافی ندیم ملک نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

’’اگر مریم نواز کی جانب سے پیش کی جانے والی ویڈیو کے اندر کوئی ٹیمپرنگ نہیں ...
’’اگر مریم نواز کی جانب سے پیش کی جانے والی ویڈیو کے اندر کوئی ٹیمپرنگ نہیں ہے تو ۔۔۔۔‘‘سینئر تجزیہ کار اور معروف صحافی ندیم ملک نے تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر تجزیہ کار اور معروف صحافی ندیم ملک نے کہا ہے کہ آج مریم نواز کی بڑی اہم پریس کانفرنس تھی ،جج  کی ویڈیو لیک کے بعد معاملہ دوبارہ عدالتوں میں جائے گا ،اگر اس ویڈیو کے اندر کوئی ٹیمپرنگ نہیں ہے تو یہ عدالت میں کافی مضبوط شہادت کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے،مجھے لگتا یہی ہے کہ اس معاملے کو  اسلام آباد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کو بہت جلد دوبارہ ٹیک اَپ کرنا پڑے گا اور پھر  کیس بھی  نیا رخ اختیار کر سکتا ہے،مسلم لیگ ن کی احتجاجی سیاست کو شہباز شریف کی بجائے مریم نواز لیڈ کرتی نظر آئیں گی ۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ندیم ملک کا کہنا تھا کہ  مریم نواز کی جانب سے میڈیا میں پیش کی جانے والی اس ویڈیو  میں جس طرح کی گفتگو جج صاحب نے فرمائی ہے اس سے فیصلے کی ساکھ تو متاثر ہوئی ہے،اب فیصلے پر سوالیہ نشان بھی اٹھیں گے،کسی سیٹنگ جج پر آپ چھوٹا سا الزام عائد کر دیں تو سارے کیس کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے،مسلم لیگ ن کے دور میں ایک واقعہ ہوا تھا ،کوٹیکنا کیس میں آصف زرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو سزا دلانے کے لئے جج صاحب کو دو ٹیلی فون کالز گئی تھیں جن میں سےایک کال سیف الرحمن اور دوسری شہباز شریف نے کی تھی ،ان دونوں ٹیلی فون کالز  کی آڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر آ گئی تھی جس کے بعد جسٹس قیوم اپنی ججی سے بھی گئے تھے اور سارے کیس کا بھی بیڑہ غرق ہو گیا تھا،اس وقت آڈیو کلپ سامنے آیا تھا لیکن اب یہ معاملہ آڈیو کلپ کے ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ  کابھی ہے ،یہ معاملہ  رکے گا نہیں ،اب دوبارہ ہائی کورٹ میں جائے گا اور بہت سے لوگوں کی جانبداری پر منتج ہو گا ، مجھے لگتا یہی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کو بڑی جلدی ہی اس معاملے کو  دوبارہ ٹیک اَپ کرنا پڑے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پھر  کیس کوئی نیا رخ اختیار کر لے،اگر اس ویڈیو کی اندر کوئی ٹیمپرنگ نہیں ہے تو  عدالت میں یہ کافی مضبوط شہادت کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے،اس ویڈیو ریکارڈنگ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ عدالت کو اس معاملے کی انویسٹی گیشن کروانا پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن جب بھی پنجاب کی سڑکوں پر احتجاج کرے گی اور میدان سجائے گی تو اس احتجاج کو  شہباز شریف لیڈ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں،ایک فنامنا تھا جو کسی دور میں نواز شریف کو فیور کرتا تھا کہ وہ پاپولر ووٹ کو کھینچتے تھے،الیکشن کمپئین میں جس جس حلقے میں ضرورت پڑتی تھی اور دباؤ محسوس ہوتا تھا وہ نواز شریف کا نام لیتے اور ان کو بلاتے تھے،شہباز شریف بہت اچھے ایڈمنسٹریٹر  کے طور پرجانے جاتے ہیں لیکن پاپولر ووٹ اب بھی نواز شریف کے ساتھ ہے ،جولائی 2018 کے انتخابات سے پہلے جتنے پاپولر جلسے نظر آئے وہ مریم نے لیڈ کئے تھے،مجھے لگتا ہے کہ احتجاجی سیاست کو بھی مریم نواز شریف ہی لیڈ کرتی نظر آئیں گی۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد


loading...