بکری چوری سے ہیروئن تک

بکری چوری سے ہیروئن تک
بکری چوری سے ہیروئن تک

  


اپوزیشن کے راہنما اور مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کو بھی بلآخر گرفتار کرلیا گیا،مگر اس دفعہ کیس بکری چوری کا نہیں ہیروئن سمگلنگ کا ڈالا گیا ہے۔ جس بات کا حکومت جواب نہ دے سکے اسکے سوال کنندہ کو گرفتار کرنا اوچھے ہتھکنڈوں میں آتا ہے لیکن میکاولی کے ناول “پرنس” کے مطابق ہر طریقے سے دستیاب اختیار کا استعمال کرتے ہوئے اقتدار پر قابض ہونا اور اس پر تادیر چمٹے رہنے کا کانام ہی راج نیتی ہے۔رانا ثناء اللہ ہمارے کلچر میں ایک ایسا پنجابی کردار ہے جسکی مزاحمت پر قصیدے لکھے جاتے ہیں اور فلم مولا جٹ کا یہ ڈائیلاگ کہ “مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہیں مردا” شائد انہی جیسے لوگوں کے لئے لکھا گیا ہے اور یہ افسانوی کردار کبھی کبھی حقیقت کا روپ دھار کر ہمارے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔ رانا ثناء کو دوسری دفعہ اس کسوٹی سے نہیں گزارا جانا چاہیے تھا یہ سوچنا ہماری ریاست کے اداروں کا کام ہے۔ انصاف کے دعویدار عوامی کٹہرے میں انصاف کے مجرم ہیں اور امید ہے کہ الزام چاہے کتنا بھی بھونڈا ہو حزب اختلاف کےراہنما کے ساتھ مکمل انصاف ہوگا اور ہوتا نظر آئیگا یہ ملک کے امیج ، قانون نافذ اور انصاف کی فراہمی کرنے والے اداروں اور اعلی عدلیہ کی لئے امتحان ہے۔سرکارمعیشت پر کمزور ہوتی گرفت سے حکومت کا اخلاقی جواز کھو رہی ہے اور جمہوریت اور جمہور کی نفی انکے زوال کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ انصاف اور احتساب کے طریقہ کار پر پہلے ہی انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور بلاامتیاز احتساب انکو کوئی کرنے نہیں دےگا ۔جس حساب سے حالات جارہے ہیں لگتا ہے جلد ساری اپوزیشن پروڈکشن آرڈر پہ اسمبلی آیا کرے گی اور یہ کر وہ رہا ہے جو ساری عمر برطانوی طرز حکومت کا دلدادہ ، حضرت عمرؓ کے “عمر لاز” اور مدینہ کی ریاست کا متمنی ہے۔رانا ثنااللہ اور حزب اختلاف کے لیڈران کی گرفتاریاں قابل مذمت ہیں اور بات ایشوز پر اور پارلیمان میں ہونی چاہیے ۔ حکمرانواں کے ساتھ حزب اختلاف کی قانون سازی پر جیل سے بات مزاکرات اور مشاورت نہیں ہوسکتی ۔ “آواز خلق نقارہ خدا” کے مقصد کو سمجھیں کیونکہ کب تک عوامی آواز دبائی جاسکتی ہے ۔ ایک شخص جیل میں خاموش بیٹھا ہے اور اسکی آواز ایوان ہلا رہی ہے اس میں چھپے راز کو سمجھیں۔اب اور کیا چمتکار رہ گیا ہے حزب اختلاف کی گاڑیوں سے کلوؤں کے حساب سے ہیروئن نکل رہی ہے،انٹرویوز اور کالم روکے جارہے ہیں،عوامی غصہ رپورٹ کرنے پر پابندی ہے،سب ڈبہ بند اور سکہ بند پلان کے مطابق ہے، سب غدار اندر ہیں،جالب کب کا مر چکا ہے اور راوی چین چین لکھ رہا ہے،کیاعمران خان صاحب نے کنٹینر سے عوام کے ساتھ اس مدینہ کی  ریاست کا وعدہ کیا تھا؟ پل بھر کے لئے زرا سوچئیے!

یہ برآمدگییاں اور سیاسی کیسز اس بات کے غمازی ہیں کہ عدالتی اور قانونی نظام مملکت میں اصلاحات لازم و ملزوم ہیں ۔بات ذہن سازی کی ہے اور اصلاحات پر ذہن تبدیل کرنے کی۔ پارلیمان کو شفاف ٹرائل اور اسکی جزویات، عدالتی اصلاحات اور حساس معاملات پر گواہان کا تحفظ،وقت پر ایک منصفانہ ٹرائل ، پیشی پر پیشی کا خاتمہ،لمبے سٹے آرڈروں سے نجات اور  ٹائمُ فریم میں عدالتی پراسس مکمل کرنے پر لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور دوسرے عدالتی فورمز کی آراء سے استفادہ کرتے ہوئے قانون سازی اور عوامی ذہن سازی کرنی چاہیے۔تفتیش کو استغاثہ اور انتظامیہ کو عدلیہ سے علیحدہ کرنا اور اب رکھنا چاہیے۔سپریم کورٹ کی لا ریفارمز کمیشن کو ہنگامی بنیادوں پر ایسے معاملات پر گائیڈ لائینز جاری کرنی چاہیے جوکہ پارلیمان میں اصلاحات پر قانون سازی کا باعث بن سکیں اور اس کام میں بار ایسوسی ایشنز مکالمے بحث اور مشاورت کا اہتمام کر سکتے ہیں ۔ ایسی اصلاحات کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز میں بامقصد مذاکرات، با معنی مشاورت اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔ہم یہاں لیٹ ہوئے تو اس خلا کو پر کرنے کے لئے لنگڑے لولے لاء انفورسمنٹ کے گروپس کئی سیاستدانوں کو شیر سے بکری بنانے کی پیدا واری صلاحیت سے آراستہ ہو چکے ہیں اور قانون کی عدم موجودگی یا غلط استعمال سے کیسز کا غلط اندراج اور ناانصافی عوامی میڈیا اور سمری ٹرائیل کا باعث بن سکتی ہے جسے “ماب جسٹس” کہا جا سکتا ہے جو کہ ہر جگہ جہاں مافیاز مضبوط ہوں گے انہیں سوٹ کرے گا۔ آج کل سڑکوں پر ویسے بھی ان عناصر کا غلبہ ہے جن سے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے پر بھی معاہدات کئے جاتے ہیں جیسا کہ دھرنا کیس میں ہوا۔یہ ایسا حساس معاملہ ہے جسے صرف انصاف اور مکمل انصاف کی فراہمی کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔اب آتے ہیں سرکار کی کارکردگی کی طرف ، اگر عمران خان اقتدار میں نہ آتے تو کچھ غلط فہمیاں مرتے دم تک آپ کی جان نہ چھوڑتیں کہ خان سچا ہے،روزانہ اس ملک میں 12 ارب کی کرپشن ہوتی ہے اور اگر عمران آیا تو وہ روزانہ خزانے کا 12 ارب کا نقصان بچائے گا اور دو سو بلئین ڈالر سوئیٹزرلینڈ سے لائے گا اور آئی ایم ایف کے منہ پہ مارے گا،اب بھی سرکاری جماعت سمجھ رہی ہیں 9 مہینوں میں 3400 ارب بچا لئے ؟ پہلے چیلینج کے ساتھ میٹرو 8 ارب میں بنتی تھی، لوگ اسی پاگل پن میں رہتے اور اب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ایک سو آٹھ ارب میں بھی نہیں بن رہی اور یہ کہ عمران خان غیرت مند ہے کبھی بھیک نہیں مانگے گا ،قرضہ نہیں لے گا ،خودکشی کر لے گا، آئی ایم ایف نہیں جائے گا،اسی غلط فہمی میں دوسروں کا جینا حرام کئے رکھا۔ انکی ٹیم میں شامل ڈاکٹر یاسمین راشد سے یہ سن کر کہ اب یہ ممکن نہیں کے “ہر کسی کو مفت علاج دیا جائے”۔دوائیں ایمرجنسی میں استعمال ہونے والی مہنگی ہوئی ہیں عام دوائیاں اتنی مہنگی نہیں ہیں“۔ایسے ہی بنے ڈاکٹرز کی امید بھی انہی کے ہاتھوں ٹوٹی ورنہ تو پرانی حکومت ہی ظالم لگتی تھی۔ اگر خان صاحب صاحب اقتدار نہ بنتے تو تحریک انصاف نے بحیثیت جماعت یہی سمجھنا تھا کہ واقعی یہ 350 ڈیم بنا دے گا ،اس کی صوبائی حکومت نے پورے ملک کو بجلی بیچنی تھی اور شکر ہے چھ سالوں کی کارکردگی دیکھ لی کوئی خلش نہیں رہے گی، اب تو ڈیم والا بابا رحمتا بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا ،سنا ہے لندن میں پایا جاتا ہے۔عوام کو یہ بتاتے رہے کہ اسد عمر بہت بڑا ارسطو ہے، پیٹرول 46 روپے کر دے گا،اس میں بھی 13 روپے گورنمنٹ کو ملیں گے،پوری دنیا میں گیس کی قیمت نیچے آرہی ہے یہ بھی سستی دے گا، پرانے چور تھے، بجلی کی اصل قیمت 10 روپے یونٹ ہے، اوپر والے 6 روپے نواز شریف کی جیب میں جاتے ہیں، وہ 16 کا یونٹ دیتا ہے، یہ 10 کا دے گا ؟ وائے بدنصیبی اب 22 کا کہ رہے ہیں اب 12 کس کی جیب میں جاتے ہیں ؟ خود ہی ارسطو اسد عمر کو فارغ کیا اور اسکے خلاف چارج شیٹ لکھ دی، معشیت کا چیتا اب اس پر کیا ارشاد فرماتا ہے؟ واللہ عالم۔ایک بات تو آپ بھول ہی گئے کہ بقول انصافی تنقید نگار موبائل کارڈ پر 100 روپے میں 25 روپے پرانی حکومت کی جیب میں جاتے تھے، اب کس کی جیب میں جاتے ہیں ابھی جاننا باقی ہے۔ بیرون ممالک سے لوگوں نے یہاں نوکریاں کرنے آنا تھا اور پچاس لاگ گھر کروڑوں نوکریاں اور اربوں درخت لگنے تھے لیکن اس کے لئے شاید وقت درکار ہے۔ انڈیا اور مودی کو ہم نے ایسا کرارا جواب دینا تھا اور اپنی تقریروں میں کلبھوشن یادیو کو دہشت گرد کہنا تھا ،پھانسی چڑھانا تھا لیکن اب خط پہ خط لکھ انڈیا کو شرمندہ کیا جارہا ہے ۔وزیراعظم ہاوس کو ہم نے یونیورسٹی میں تبدیل کرنا تھا اور اب اسکی تزئین و آرائش کی جارہی ہے۔ یہ سب خواب تھے جو شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔ آخر میں پتہ چلا کہ یہ سب راج نیتی ہے اور طاقت کے حصول اور اس پر چمٹا رہنے کے لئے کچھ بھی کہا اور بولا جا سکتا اور کوئی بھی چکمہ دیا جاسکتا ہےلیکن ایک سال کے بعد سرکاری اور پچھلی حکومت جو کہ موجودہ اپوزیشن ہے انکی کارکردگی کا تقابلی جائزہ ایک یادداشت کے لئے ضرور ی بنتا ہے تاکہ حکومت معاشی میدان میں کچھ بہتری لا سکے ۔ اگر ہم ڈالر کی پرانی قیمت دیکھیں تو 98 روپے سے 165 پہ آچکا ہے اور ابھی چڑھ رہا ہے، پاؤنڈ 200 کراس کر چکا ہے اور یہ شاید میری حیات میں پہلی دفعہ ہوا ہے۔ سونے کی قیمت 54 ہزار سے 82 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ پیٹرول کی قیمت 62 روپے سے 114 روپے ہوچکی ہے ۔ چینی کی قیمت 47 روپے سے 74 روپے تک جاچکی ہے۔ کوکنگ آئل 140 سے بڑھ کر 220 کراس کر چکا ہے۔ گیس سلینڈر 1000 روپے سے 1900 کا ہوچکا ہے اور آٹا 650 سے 1000 کا تھیلا بک رہا ہے۔ عام آدمی کا تعلق تو اصل میں آٹے کے تھیلے سے ہے۔ یہ وہ نشانیاں ہیں جن سے عام آدمی کی حالت زار کا پتہ چلتا ہے۔ میں نے قرضوں کی ادائیگی سود کی شرح اور پیداوار کا تناسب اور جی ڈی پی اور معاشی انڈیکیٹر کی بات نہیں کی تاکہ عوام کنفیوز نہ ہوں اور آسانی سے سمجھ سکیں۔ عمران خان کا مقابلہ اب عمران خان سے ہے، انہوں نے خود ہی اپنے آپ کو اڑانا یا گرانا ہے۔ یہ سیاست ہے اور جب خان صاحب کنٹینر پہ تھے تو ناتجربہ کار تھے، اب صحیح آیا ہے اونٹ پہاڑ کے نیچے اور اب انکے کہے اور کیے کا اصل امتحان ہے۔ اس کارکردگی پر ہی عوامی نتائج کا دارومدار ہے۔سوال ضرور اٹھتے ہیں ‏کہ غریب ملک کے امیر سیاستدانکے پاس اتنی دولت ہے تو ملک کی مدد کیوں نہیں کرتے؟ یہ سب مل کر چاہیں تو ملک کا قرضہ دو دنوں میں اتر جائے اور اسکی ذمہ داری کس پر ہے؟ میرے نزدیک اسکے ذمہ دارکمزور کرمنل جسٹس سسٹم،کچی پکی پارلیمان،سمت کا تعین نہ ہوناہے۔ ہم پارلیمانی جمہوری ہیں یا آمریت زدہ جمہوری؟ یہ بحث ملک کا آدھا وقت لے ڈوبی ہے۔ جو کرتا ہے وہ کریڈٹ نہیں لے سکتا ،جو لیتا ہے اسنے کچھ کیا نہیں، ایک دھڑکہ سا لگا رہتا ہے جمہوریت کے کھونے کا۔ آپکی اشرافیہ یا سیاست اور سیاستدان 1947 سے بادی النظر میں کرپٹ قرار دیے جاچکے ہے اور نااہل سمجھے جارہے ہیں ۔ اب بلی کے گلے میں گھنٹی کس نے باندھنی ہے ؟فیصلہ ہونا باقی ہے۔ ملک کی پارلیمان جوڈیشری اور سٹیک ہولڈرز اصل مسلے کی طرف توجہ دیں اور پاکستان کی پارلیمان ملک میں ایسی قانون سازی کرے اور پالیسیاں وضع کرے اور اعلی عدالت لاء جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ایسے اقدامات کی نشاندہی کرے جس کے نتیجے میں پارلیمان مکمل صاف شفاف انصاف کے لئے معنی خیز پر مغز اور بامقصد قانونی اصلاحات لا سکیں۔پاکستان میں جتنی قانونی اصلاحات کی ضرورت اب ہے پہلے کبھی نہ تھی، آبادی کا بڑھاؤ اور بدلتی دنیا میں اصلاحات کے بغیر انصاف کرنے کے ذرائع پر اعتماد مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ بے لاگ بلا امتیاز اور سب کا صاف شفاف اور منصفانہ احتساب اس ادارے اور انصاف کی فراہمی کے اداروں پر اعتماد کے لئے ازحد ضروری ہے  وگرنہ آج میری اور کل تیری باری ہوگی اور انصاف کرنے والے اسی طرح آخری ہنسی ہنستے رہیں گے۔ پاکستان میں اس وقت نچلی سطح پر انصاف کی فراہمی کا نظام بےحد تضادات کا شکار ہے، موجودہ صورتحال انصاف میں تاخیر ، کرپشن ، جانبداری، غیر پیشہ روانہ رویوں اور انصاف کی راہ میں رکاوٹوں کی وجہ سے سول اور کرمنل دونوں شعبوں میں اصلاحات کی متقاضی ہے، ملزمان کی مجرمان میں عدالتی ٹرائل کے ذریعے تبدیلی کی شرح انتہائی کم ہے جسکی وجہ غیر معیاری تفتیش اور پراسیکیوشن کا علیحدہ نہ ہونا ہے اور ججز کی کمی کے ساتھ ساتھ جج کے معیارات میں کمی اور جاری تربیت اور نچلی سطح پر عدالتی نظام کو زمانہ جدید کے خطوط پر آراستہ نہ کرنا ہے،سول نظام تو بیٹھتا محسوس ہوتا ہے کیونکہ مقدمات سول جج کی عدالت میں سالوں چلتے ہیں ،ہم نے انہیں کسی وقت کا پابند نہیں کیا اور نہ ہی برطانوی وولف ریفارمز کی طرز پر کسی کیس مینجمنٹ کے تحت طریقہ کار وضع کئے۔ اصلاحات کے لئے پارلیمنٹ میں اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی اشد ضرورت ہے۔ امید ہے چیف جسٹس عدالتی اخلاقیات کے قانونی معیار میں نیوکلیائی تبدیلی لیکر آئیں گے اور پارلیمان اس پر جامع قانون سازی پر توجہ دے گی جو کہ تمام پارٹیوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔آخر میں میں اتنا ہی کہوں گا کہ ناامیدی گناہ ہے مایوسی ایک دلدل ہے، آپ اس میں پہلا قدم رکھتے ہیں دوسرا قدم آپ کو نہیں رکھنا پڑتا کیونکہ دلدل کو ہمیشہ پہلے قدم کا ہی انتظار ہوتا ہے۔ پاکستان زندہ رہنے کے لئے بنا ہے دو سو ملین لوگ دیر یا بدیر اپنی سمت درست کرنے کا اختیار قابلیت ، صلاحیت اور طاقت رکھتے ہیں اور وہ ایک دن اپنی سمت درست کرلیں گے اور اپنی صحیح لیڈرشپ کا چناؤ بھی کرلیں گے انشا اللہ اور اپنے مستقبل کا بہتر تعین کریں گے اور وہیں سے ہماری ترقی کا آغاز ہوگا کیونکہ ؀آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک

(بیرسٹر امجد ملک  ایسوسی ایشن آف پاکستانی لائیرز برطانیہ کے چیئرمین ہیں جبکہ سپریم کورٹ بار اور ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کے تاحیات ممبر ہیں ۔)

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...