مولانا ضیا القاسمیؒ کی خوشبو

مولانا ضیا القاسمیؒ کی خوشبو
مولانا ضیا القاسمیؒ کی خوشبو

  

علمائے ختم نبوت کے دلکش" گدستے" کی بات ہو اور مولانا ضیا القاسمیؒ  کی "خوشبو "نہ آئے یہ کیسے ہو سکتا ہے!!!امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ کے بعد وہ پاک وہند کے بڑے خطیبوں میں سے ایک تھے بلکہ اُن کی سحر انگیز خطابت کا ڈنکا تو سات سمندر پار بھی بجتا.... اسی لئے انہیں خطیب ایشیاو یورپ بھی کہا جاتا ہے...

ختم نبوتﷺ کے پہریداروں کا تذکرہ ہورہا تو عرض ہے کہ 14اگست 1995 انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کا یوم تاسیس ہے . ...اس روز لندن میں بیٹھ کر شمع رسالتﷺ کے چار پروانوں نے اس عالمگیر تنظیم کی بنیاد رکھی...یوم تاسیس کے حوالے سے بڑی" خوش خبری" بھی ہے لیکن پہلے ان بانی بزرگوں کے اسمائے گرامی ...حضرت مولانا عبدالحفیظ مکیؒ...سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ...خطیب ایشیا و یورپ مولانا ضیاالقاسمیؒ اور ڈاکٹر علامہ خالد محمودؒ....یہ ہیں وہ اکابرین جنہوں نے 25سال پہلےاپنےہاتھوں انٹرنیشنل ختم نبوتﷺ موومنٹ کا پودا لگایا...یہ چاروں درویش صفت ہستیاں تو اپنے حصے کی آبیاری کے بعد ایک ایک کرکے اپنے رب کے پاس چلی گئیں مگر اللہ کے فضل و کرم اور جناب رسول کریم ﷺ کی نظر کرم سے اب یہ شجر سایہ دار اتنا پھیل گیا ہے کہ شرق سے غرب،شمال تا جنوب اپنی چھاؤں کی چھتری تانے ارتداد کی دھوپ کی تلخیاں مٹا رہا ہے ...

انٹرنیشل ختم نبوتﷺ کے قیام کی کہانی بھی بڑی خوب صورت ہے کہ اس کا خاکہ حرم کعبہ میں بنا.....مولانا عبدالحفیظ مکی....ڈاکٹر سعید عنایت اللہ اور مولانا ضیاالقاسمی بین الاقوامی سوچ رکھتے تھے اور ملک ملک ختم نبوتﷺ کا پیغام عام کر رہے تھے .....جناب علی میاں ندوی اور جناب اسعد مدنی کا ان علما سے یہی کہنا تھا کہ آپ لوگ عالمی سطح پر کام کرنے کے آداب سے آگاہ ہیں ....آپ لوگوں کو انٹرنیشنل لیول کی جماعت بنانی چاہئیے.....پھر ایک دن ڈاکٹر سعید نے مولانا مکی حجازی اور الحاج فصل حق کشمیری کی موجودگی میں مسجد الحرام کے صحن میں بیٹھے یہ تجویز خواجہ خان محمدؒ کی خدمت میں پیش کی کہ اگر اجازت دیں تو اس مقدس کاز کے لئے بین الاقوامی جماعت بنائی جائے.....خواجہ خان محمدؒ نے نا صرف یہ آئیڈیا پسند فرمایا بلکہ فرمایا آپ کام شروع کریں میں آپ کے ساتھ ہوں....یوں خواجہ صاحب کی منظوری سے یہ جماعت معرض وجود میں آئی...یہی وجہ ہے کہ ایک عرصہ تک اس جماعت کی عالمی سرگرمیوں کی رپورٹ حضرت خواجہ خان محمدؒ اور مولانا یوسف لدھیانویؒ کو پیش کی جاتی جسے وہ بہت سراہتے اور دعا فرماتے.....

اب خوشخبری کہ علمائے ختم نبوتﷺ کو مبارک ہو اگلے مہینے 14اگست 2020کو انٹرنیشنل ختم نبوتﷺ کی سلور جوبلی ہے. .کسی ملک ، ادارے اور تنظیم کے قیام کے پچیس سال مکمل ہونے پر جو تقریبات منائی جاتی ہیں اسے سلور جوبلی کہا جاتا ہے .......کہہ لیں کہ یہ صد سالہ جشن کا پہلا سنگ میل ہوتا ہے تو اس حوالے سے انٹرنیشنل ختم نبوتﷺ موومنٹ کے لئے یہ سال بڑا اہم ہے...دوسرے معنوں میں یہ اپنے اکابرین کو خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرنے کا سال ہے. ........خراج عقیدت کی اس سیریز میں ہم مرشد عبدالحفیط مکیؒ....مولانا چنیوٹیؒ سے اظہار محبت کر چکے.....خواجہ خان محمدؒ اور سید نفیس الحسینی شاہؒ  کو بھی سلام عقیدت پیش کر چکے کہ وہ تو اکابرین کے بھی اکابرین تھے...آج ہمارا موضوع خطیب یورپ و ایشیا مولانا ضیا القاسمیؒ ہیں کہ ایک زمانے تک دنیا بھر میں جن کا طوطی بولتا رہا اور آئندہ بھی جب جب خطابت کے عنوان پر گفتگو ہوگی تو ان کے نام بغیر یہ باب مکمل نہیں ہوگا......

عجب معاملہ ہے کچھ لوگوں سے آپ زندگی میں نہیں ملے ہوتے مگر پھر بھی یوں لگتا ہے وہ آپ کے دل میں بستے ہیں... ایسی ہی ہماری کچھ کیفیت مولانا ضیا القاسمی کے بارے میں ہے..۔چند سال پہلے مولانا عبدالحفیظ مکیؒ  کی دعوت پر فیصل آباد میں ان کی خانقاہ حاضری ہوئی تو صاحبزادہ زاہد قاسمی صاحب بڑی چاہت کے ساتھ ہمیں گول مسجد اور جامعہ قاسمیہ لے گئے.. .ایک دفعہ پہلے بھی ہم اپنے "قبلہ دوست "کے ساتھ رکشے پر راستہ پوچھتے پوچھتے اس عظیم الشان مسجد اور تاریخی دینی درسگاہ گئے تھے ....جناب زاہد قاسمی نے دونوں مرتبہ سر آنکھوں پر بٹھایا...ان کا بہت بہت شکریہ ...دوسری بار تو جناب ڈاکٹر احمد علی سراج بھی ادھر ہی تھے اور ہمیں ان کے ساتھ مجاہدین ختم نبوت تاج محمودؒ  اور ان کے صاحبزادے طارق محمودؒ کی قبروں پر حاضری کا شرف بھی حاصل ہوا....

گول مسجد شہر کی سب سے بڑی جامع مسجد کہ جس کے منبر پر بیٹھ کر برسوں مولانا قاسمیؒ نے خطابت کے جوہرے دکھائے ... قلب و جگر گرمائے .....انہوں نے آدھی صدی دین کے دیوانوں کے دلوں پر راج کیا...ایسے ایسے شاہکار خطبے دیے کہ لوگ آج بھی عش عش کر اٹھتے ہیں....... مولانا قاسمیؒ نے 1960 میں گول مسجد اور 9کنال پر محیط جامعہ قاسمیہ کی بنیاد رکھی...ادھر ہی مولانا عبدالحفیظ مکیؒ کی زیر سر پرستی ختم نبوتﷺ اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا ...اب اکیڈمی کے بجائے گول مسجد کےپاس ختم نبوتﷺ اسلامک ریسرچ سنٹراورختم نبوتﷺ پبلک لائبریری بھی مقدس مشن کی ترویج و اشاعت میں پیش پیش ہے...خوب صورت قاسمیہ پارک اور شہر کی ایک سڑک بھی ان سے منسوب ہے...یہ فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ کا ان کو خراج عقیدت ہے...مولانا ضیا القاسمیؒ سے ہمارا پہلا تعارف میٹرک کی اسلامیات پر ان کا نام دیکھ کر ہوا. .. اسی زمانے میں ہم اپنے بزرگ دوست جناب عبدالحمید انصاری کی دکان پر بیٹھ کر ٹیپ ریکارڈر پر ان کے بیانات بڑے شوق سے سنتے اور سر دھنتے.....پھر پسرور میں ہمارے آبائی گاؤں کے مرحوم استاد قاری رمضان مظفرگڑھی کو اپنے خطبہ جمعہ کے لئے خطبات قاسمیؒ سے استفادہ کرتے پایا تو ہمیں بھی یہ کتاب پڑھنے کا موقع ملا... 6جلدوں پر محیط خطبات قاسمیؒ بلاشبہ علم کا وہ سمندر ہے کہ جس میں غواصی سے حکمت و دانائی کے قیمتی موتی نصیب ہو سکتے ہیں...یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گی کہ جب خطبات قاسمیؒ نے پاکستان اور ہندوستان میں دھوم مچائی تو دارالعلوم دیو بند ایسی عالی شان دینی درسگاہ بھی اس علمی شاہکار کو چھاپنے کے لئے تڑپ اٹھی...دارالعلوم کی انتظامیہ نے مولانا قاسمی کو ا جازت کے لئے خط لکھا اور ساتھ ساتھ رائلٹی کی بھی پیشکش کی....جب یہ مکتوب مولانا کو ملا تو وہ باغ باغ ہو گئے....آنسوؤں کی جھڑی میں اسے چوما اور جوابی لیٹر میں لکھا کہ آپ اسے ضرور چھاپیں...مجھے رائلٹی نہیں چاہئیے ...میرے لئے کیا یہ کم اعزاز ہے کہ ہماری مادر علمی اسے شائع کر رہی ہے....یوں انہوں نے کتاب کی آمدنی کے پیسے لینے سے انکار کر دیا.....

اسی طرح ختم نبوتﷺ مرکز لندن کے لئے ان کی خدمات کے پیش نظر جب مولانا عبدالحفیظ مکیؒ نے انہیں ٹرسٹی بنانا چاہا تو انہوں نےیہ کہکراپنانام لکھنے سےروک دیاکہ مجھےکسی چیز کی ضرورت نہیں،قیامت کےروز صرف رسول اللہﷺ کی شفاعت چاہئیے...مولانا قاسمیؒ1986میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے روح رواں جبکہ1985کی لندن ختم نبوتﷺ کانفرنس کے بھی بڑے محرک تھے...انہوں نے مولانا عبدا لحفیظ مکیؒ،مولانا منظور چنیوٹیؒ اور علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ کے ساتھ ملکر اس اجتماع کو تاریخ ساز بنایا...انہوں نے اس کانفرنس بارے 100صفحات پر محیط ختم نبوتﷺ ڈائری بھی لکھی جس میں اس تاریخ ساز پروگرام کی روئیداد ہے......

مولانا قاسمیؒ کی ایک اور کتاب "میرے دور کے علما اور مشائخ ،جنہیں میں نے قریب سے دیکھا "بھی پڑھنے لائق ہے جس میں انہوں نے شیخ العرب والعجم جناب حسین احمد مدنیؒ سے بیعت کی محبت بھری داستان سمیت 20جید علمائے کرام سے ملاقاتوں کااحوال بڑے دلنشین اندازمیں قلمبند کیاہے...ساڑھے پانچ سوصفحات پرمبنی ایک اورکتاب "مولانا ضیا القاسمیؒ اورختم نبوت ﷺ "بھی تیاری کےمراحل میں ہے... اتنی ہی تعدادمیں اُنکےخطابات"مولانا ضیا القاسمیؒ یو ٹیوب چینل"پر دستیاب ہیں جبکہ ویب سائٹ پر بھی ان کی تمام کتابیں اور ان کے نام اکابر علما کے 100 خطوط بھی موجود ہیں....

انٹرنیشنل ختم نبوتﷺ کے امیر جناب ڈاکٹر سعید عنایت اللہ مولانا ضیا القاسمیؒ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں "نظریے کا وفادار اور یاروں کا یار کیا ہی باوقار آدمی تھا......بتاتے ہیں میں نے بچپن میں اپنے والد گرامی کے ساتھ پہلی مرتبہ انہیں سیالکوٹ میں علامہ ڈاکٹرخالد محمود کی مسجد میں سنا...اس وقت وہ ابھرتے ہوئے نوجوان تھے...کیا انداز خطابت تھا.....پھر جب میں اور شیخ حرم کعبہ مولانا مکی حجازی برطانیہ دورے پر جاتے تو یہ بھی ادھر ہی ہوتے ...لیکن پھر ایشیا اور یورپ کا بڑا خطیب ہمارا ترجمان بن جاتا جیسے تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک مقامی بندہ رہبر کے فرائص سر انجام دیتا ہے اور گھر گھر جاکر بتاتا ہے کہ یہ جماعت آئی ہے ذرا ان کی بات سن لیجئیے....

مولانا قاسمیؒ خطاب کے لئے کھڑے ہوتے اور کہتے لوگو!تم بیت اللہ کی زیارت کو ترستے ہو ...کعبہ کو دن رات دیکھنے والے اللہ کے یہ دو بندے مکہ سے آئے ہیں.۔.ان کی بات سنیں...اور خو د بیٹھ جاتے اور پھر ہم دونوں کے خطاب ہوتے. . ایک بار ایک عالم دین سے کسی بات پر ان کی ناراضی ہو گئی...میری درخواست پر بغل گیر ہو گئے اور بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رودیے...میں نے زندگی میں دوستوں کا ایسا قدردان،مہربان اور پشتی بان کم ہی دیکھا ہے"...مولانا قاسمیؒ زندگی بھر توحید ورسالتﷺ اور صحابہؓ و اہلبیتؓ کے ایمان افروز نغمے گنگناتے رہے... انہوں نے اپنی خطابت سے واقعی قلوب کو فتح کیا...لوگ ان پر جان بھی نچھاور کرنے کیلئے تیار ہوتے...اسکی ایک جھلک ان کے آخری خطاب میں ملتی ہے. . انہی کی زبانی سنئیے .....گول مسجد میں" الوداعی تقریر" کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک دو نہیں 26افراد نے گردہ عطیہ کرنے کی پیشکش کی...ایک نوجوان نے تو اپنے دونوں گردے دینے کا کہا تو میں نے پوچھا پھر تو کیسے جیے گا؟؟؟اس نے کہا کہ بیشک میں مر جاؤں لیکن آپ زندہ رہیں...جذباتی ہو کر بولے کیا میں کوئی جاگیر دار...فیکٹری مالک یا بادشاہ ہوں کہ لوگ اتنی محبت کرتے ہیں؟؟؟؟نہیں میں اللہ اور رسولﷺ کے دین کا چوکیدار ہوں اور یہ اصول ہے کہ ہر کوئی اپنے چوکیدار کا خیال رکھتا ہے........

مولانا ضیا القاسمیؒ واقعی بڑے درویش منش اور خوددار تھے ...انہوں نے کبھی کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کیا. . اس کی گواہی دیتے ہوئے انٹرنیشنل ختم نبوتﷺ موومنٹ کے جنرل سیکرٹری جناب ڈاکٹر احمد علی سراج رو دیے . . .. کہتے ہیں کہ مولانا قاسمیؒ علیل تھے تو انہوں نے مجھے دو بڑے علما کی موجودگی میں کویت فون کیا کہ ڈاکٹر صاحب ! سرمایہ داروں اور پیسے والوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں لیکن میں کسی دنیا دار سے ایک پائی نہیں لوں گا......آپ میرے بھائی ہیں میرا سب کچھ آپ کا اور آپ کا سب کچھ میرا ہے.....یہ سن کر میری چیخیں نکل گئیں اور میں نے کہا حضرت آپ نے میرا سر فخر سے بلند کر دیا ....آپ کے لئے جان بھی حاضر ہے...پھر جب اللہ کریم نے علاج کے لئے بندوبست فرمادیا تو انہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھادیے کہ یا اللہ تیرا شکر ہے یہ ہاتھ کسی دنیادار کے سامنے نہیں پھیلے....ان کی یہ غیرت و حمیت جب بھی یاد آتی ہے آنکھیں بھیگ جاتی اور دل ادب سے جھک جاتا ہے...کیا ہی اخ مکرم تھا....!!!

میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر سعیدعنایت اللہ اورڈاکٹراحمدعلی سراج ایسے معتبر علمائے کرام کی اپنے ساتھی بارے یہ گفتگو سند کی حیثیت رکھتی ہے کہ دونوں ایک ایک لفظ تحقیق سے بولنے لکھنے والے مسلمہ پی ایچ ڈی سکالر ہیں ...اور شاید دینی جماعتوں میں یہ اعزاز بھی انٹرنیشنل ختم نبوتﷺ موومنٹ کو حاصل ہے کہ دونوں مرکزی قائدین ہومیو پیتھی نہیں بلکہ اسلامی امور میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔۔۔

سچی بات یہ ہے کہ مولانا قاسمیؒ رسول کریمﷺ کی ختم نبوت اور ناموس صحابہؓ و اہلبیتؓ کے سچے پہرے دار تھے..۔اور وہ یہی آوازہ دیتے دیتے اپنے اللہ کے حضور پیش ہو گئے......مولانا قاسمیؒ اپنی عزیز از جان جامعہ قاسمیہ کے احاطے میں" قال اللہ و قال قال رسول اللہﷺ" کی پرکیف صداؤں میں ابدی نیند سو رہے ہیں مگر قرآن و حدیث سے مزین ان کی مسحورکن آواز آج بھی دنیا کے چپے چپے میں گونج رہی ہے اور وہ آج بھی دین مبین کی روشنی پھیلاتے نظر آرہے ہیں... نوراللہ مرقدہ !!!!!!!

نوٹ:بلاگر کا یہ ذاتی نقطعہ نظر ہے،ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -