آٹا مہنگا، روٹی مہنگی

آٹا مہنگا، روٹی مہنگی

  

آٹے کی قیمت میں 35فیصد اضافے کے بعد متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن نے روٹی کی قیمت میں دو روپے، جبکہ نان کی قیمت میں تین روپے کا اضافہ کر دیا ہے، قیمتوں میں اضافے کے بعد روٹی اور نان کی قیمت بالترتیب8روپے، اور15روپے ہو گئی ہے، اضافے کے بارے میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر دانش افضال نے کہا ہے کہ قیمتیں بڑھانے کے متعلق کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گندم کی قیمت1400روپے سے بڑھ کر1900روپے فی من تک پہنچ چکی ہے،84کلو فائن آٹے کی بوری کی قیمت3900 روپے سے بڑھ کر 4500 روپے ہو چکی ہے، بیس کلو آٹے کا تھیلا1050 روپے اور کہیں 1100روپے میں بک رہا ہے، روٹی اور نان کی قیمتیں اُس وقت مقرر کی گئی تھیں جب بیس کلو کے آٹے تھیلے کی قیمت765روپے تھی، موجودہ حالات میں وہ تین سال پرانی قیمت پر روٹی اور نان نہیں بیچ سکتے، متحدہ نان روٹی ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ پرانی قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے، تو وہ پہلے والی قیمتوں پر نان روٹی فروخت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ محکمہ خوراک کے مطابق گذشتہ بائیس مہینوں میں سرکاری گوداموں سے جاری ہونے والی گندم کی قیمت میں دو بار اضافہ کیا گیا،جس کی وجہ سے سرکاری قیمت میں 75 روپے فی من اضافہ ہو چکا ہے،جبکہ جمعرات کے روز پنجاب حکومت نے فی من قیمت میں 100روپے فی من اضافہ کیا تھا۔ علاوہ ازیں گندم ریلیز کرنے کی پالیسی کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

سرکاری حلقوں کے تمام تر دعوؤں اور اعلانات کے باوجود نہ تو مقررہ نرخوں پر آٹا مارکیٹ میں دستیاب ہے اور نہ ہی یہ اعلانات اپنا کوئی رنگ جما سکے ہیں کہ کسی کو آٹا مہنگا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ بلند بانگ دعوے بھی کئے جا رہے ہیں کہ ”آٹا مافیا“ کے عزائم ناکام بنا دیئے جائیں گے۔یہ البتہ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ نہیں روک سکے اور نتیجے کے طور پر نان روٹی کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیا گیا ہے، ضلعی انتظامیہ بے شک کہتی رہے کہ اس نے روٹی اور نان کی قیمتیں بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا،لیکن اگر آٹے کی قیمت بڑھے گی تو سادہ سی بات ہے کہ نان روٹی کیسے پرانی قیمتوں پر بکتی رہے گی لامحالہ اس میں اضافہ ہو گا،آج تک کا تجربہ تو یہی ہے کہ حکومت آٹے سمیت اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں ناکام ہو گئی،چینی کی مثال ہی لے لیں، کیا کیا تحقیقات نہیں ہوئیں،کمیٹیاں بنیں، کمیشن تشکیل پائے ان کی ضخیم رپورٹیں سامنے آئیں، ان رپورٹوں کو پبلک کرنے کے کریڈٹ لئے گئے، ”مافیاز“ کو جی بھر کر بُرا بھلا کہا گیا،لیکن آج تک چینی کی قیمت کم نہ ہو سکی،جن دِنوں اسلام آباد ہائی کورٹ میں آل پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی درخواست زیر سماعت تھی،ہائی کورٹ نے مشروط حکم ِ امتناعی جاری کیا تھا اور شرط یہ تھی کہ اس عرصے میں ملیں چینی 70روپے کلو فروخت کریں گی، سرکاری ادارے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کو مل مالکان نے اس نرخ پر چینی فروخت کرنے کی پیش کش کی تو یوٹیلٹی سٹورز کی انتظامیہ نے بچوں کی طرح ضد کی کہ ہم تو 63روپے کلو خریدیں گے، لیکن عملاً کیا ہوا اب 70روپے کلو تو کیا ملتی یوٹیلٹی سٹورز کو78روپے سے بھی زیادہ قیمت پر خریدنا پڑ ر ہی ہے یہ صارفین کو کس بھاؤ ملے گی، اس کا پتہ تو اُس وقت چلے گا جب یہ چینی پیک ہو کر سٹوروں پر پہنچے گی، ابھی تک یہ سٹور اس جنس ِ گرانمایہ سے خالی ہیں، بے تدبیریوں پر مبنی حکمت سے خالی اقدامات اگر ہوتے رہیں گے تو آٹا ہو یا چینی، یا کوئی بھی دوسری چیز سستی نہیں ہو گی۔تیل کا تجربہ کر کے حکومت نے دیکھ لیا،جونہی قیمت کم ہوئی پٹرول غائب ہو گیا اور اُس وقت تک غائب رہا جب تک قیمت میں اکٹھے25روپے کا اضافہ نہیں کر دیا گیا، تیل کے بحران میں حکومت کی ناکامی دیوار پر جلی حروف میں لکھی ہوئی نظر آئی، پھر بھی دعوے یہ ہیں کہ کسی کو قیمت بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو چاہے آپ کا حسُن ِ کرشمہ ساز کرے۔

فلور ملیں مارکیٹ میں جو آٹا سپلائی کرتی ہیں اس میں سے فائن، میدہ، سوجی، چوکر وغیرہ نکالا جاتا ہے، جب یہ آٹا مارکیٹ میں آتا ہے تو ایسی شکایات بھی سامنے آتی ہیں کہ آٹے میں سے میدہ سوجی مقررہ مقدار سے زیادہ نکالا گیا ہے،ایسے آٹے سے تیار ہونے والی روٹی جلد سوکھ جاتی ہے اور اگر اس کا وزن کم ہو تو یہ روٹی سے زیادہ پاپڑ لگتی ہے اور دستر خوان پر پڑے پڑے سخت ہو جاتی ہے، حکومت نے فلور ملوں کو آٹے میں سے25فیصد میدہ وغیرہ نکالنے کی اجازت دی ہے تاکہ ملیں حکومت کے طے کردہ نرخوں پر آٹا سپلائی کریں،لیکن ابھی تک نرخ ہی طے نہیں ہوئے، فلور مل مالکان کہتے ہیں کہ سیکرٹری خوراک کے ساتھ، جنہیں اب تبدیل کر دیا گیا ہے،20کلو آٹے کے تھیلے کا نرخ865 روپے طے ہوا تھا،لیکن انہوں نے کابینہ کو بتایا کہ نرخ650روپے طے ہوئے ہیں،مل مالکان اس ریٹ پر آٹا فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں،جب معاملات طے ہوں گے تو پتہ چلے گا کہ بالآخر یہ کن نرخوں پر بکتا ہے،لیکن یہ تو معلوم ہی ہے کہ زیادہ سوجی میدہ نکالنے سے آٹے کی غذائیت بھی متاثر ہو گی اس طرح لوگوں کو سستے آٹے کا جھانسا دے کر ایسا آٹا سپلائی کیا جائے گا، جو کم غذائیت کا حامل ہو گا۔ ہول ویٹ آٹا، جس میں سے سوجی میدہ نہیں نکالا جاتا پہلے ہی مارکیٹ میں مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔اگر حالات یہی رہے تو بعید نہیں ایف بی آر ان لوگوں کو جو چکی آتا کھاتے ہیں انکم ٹیکس کے نوٹس بھیجنا شروع کر دے کہ وہ یہ مہنگا آٹا کھانے سے پہلے حساب دیں کہ وہ حکومت کو کتنا ٹیکس دیتے ہیں۔حبیب جالب کو تو شکایت تھی کہ آٹا 20 روپے من ہے اور پھر بھی سناٹا ہے آج وہ پندرہ روپے کے ایک نان کے دور میں زندہ ہوتے تو نہ جانے لوگوں کے جذبات کی عکاسی کس طرح کرتے؟

حکومت اگر روٹی اور نان کی قیمتیں پرانی سطح پر رکھنا چاہتی ہے تو اس کا اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ نان بائیوں کو پرانی قیمت پر آٹے کی سپلائی یقینی بنائے۔ اگر ایسا نہیں ہوگا تو سستی روٹی کا خواب نہیں دیکھنا چاہئے۔ 44ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں جو کاریگر دہکتی آگ کے سامنے بیٹھ کر تنور پر روٹی لگاتا ہے اُسے اگر روٹی کی فروخت سے معمولی منافع بھی نہ ملے تو اُسے کسی پاگل کتے نے نہیں کاٹا کہ وہ پھر بھی یہ کاروبار جاری رکھے، سرکاری افسر، افسرانہ رعب داب کو بالائے طاق رکھ کر جھلسا دینے والی گرمی میں اپنے ائر کنڈیشن کمروں سے باہر نکل کر جائزہ لیں تو اُنہیں معلوم ہو کہ کس بھاؤ بکتی ہے، اِس لئے ہماری گزارش یہ ہے کہ مافیاز کی مذمت کی گردان بے شک جاری رکھیں، لیکن کوئی ایسی تدبیر بھی کریں جس سے غریب روکھی سوکھی تو کھا سکیں، ایسا نہ ہو یہ بھی ان کی پہنچ سے دور ہو جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -