پھر ریلوے حادثات

پھر ریلوے حادثات

  

فاروق آباد(شیخوپورہ) کے قریب مسافر ریل گاڑی اور مسافر کوچ کے درمیان حادثہ میں ہلاک ہونے والے سکھ یاتریوں کی لاشیں سی ون تھرٹی جہاز کے ذریعے پشاور منتقل کر دی گئیں،اِس حادثے میں 22افراد ہلاک ہوئے، ان میں 21سکھ یاتری تھے، جو خیبرپختونخوا سے گوردوارہ بابا گورونانک یاترا کے لئے آئے تھے، واپسی میں فلائنگ کوچ کے ڈرائیور نے ریلوے پھاٹک بند ہونے کے باوجود کچے راستے سے ریلوے لائن پار کرنے کی کوشش کی اور ریل گاڑی کی زد میں آ گیا، اس المناک حادثے میں 22افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے، ابھی ان لاشوں کو منتقل کیا ہی گیا کہ ایک اور حادثہ ہو گیا۔ جب کراچی سے آنے والی شالیمار ایکسپریس رحیم یار خان سے قریباً56کلو میٹر کے فاصلے پر جیٹھا بھٹہ ریلوے سٹیشن کے قریب مال گاڑی سے ٹکرا گئی، اس میں مسافر گاڑی کے انجن ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور زخمی ہوئے، انجن کو نقصان پہنچا اور سیمنٹ سے لدی دو ویگنیں بھی پٹری سے اُتر گئیں، اس حادثے کی وجہ سے کئی گھنٹے تک ٹرینوں کی آمدورفت معطل رہی۔ ریلوے میں گاڑیوں کے حادثات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ریلوے وزیر شیخ رشید کورونا سے صحت یاب ہونے کے بعد بھی سیاست پر ہی گفتگو کر رہے ہیں۔فاروق آباد کا افسوسناک حادثہ تو فلائنگ کوچ کے ڈرائیور کی غلطی تھی تو اب ریلوے ہی کی دو گاڑیوں کا تصادم واضح فنی نوعیت کا ہے کہ شالیمار ایکسپریس خود کار سگنل کے ذریعے پٹڑی تبدیل کر رہی تھی کہ مال گاڑی سے ٹکرا گئی جس کی بوگیاں غیر معمولی طور پر اس طرح کھڑی تھیں کہ کانٹا بدلتے وقت شالیمار ایکسپریس اس کے ساتھ جا ٹکرائی، اِس حوالے سے تحقیقات شروع کرنے کی اطلاعات ہیں۔ ریلوے کو اپنے پورے نظام پر نظرثانی کر کے نقائص دور کرنے کی ضرورت ہے کہ عوام کے لئے ٹرین کا سفر محفوظ تصور کیا جاتا ہے،لیکن پے در پے حادثوں سے یہ بھی مشکوک ہو گیا، ریلوے کے نظام کو جلد سے جلد درست کرنے کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔وزیر ریلوے اپنے بیانات اور سیاست سے ذرا ہٹ کر توجہ ریلوے کے نظام کی ترقی کے لئے بھی دیں،لیکن سیاسی بیانات اُن کی ترجیح ہیں تو اُنہیں وزیراعظم سے کہہ کراپنے ساتھ کوئی جونیئر وزیریا مشیر وغیرہ لگوا لینا چاہئے، جو ریلوے کے معاملات پر توجہ دے اور شیخ صاحب اپنی سیاسی پھلجھڑیوں کے لئے مواد اکٹھا کرتے اور اپنے سامعین کو محظوظ کرتے رہیں۔بیماری سے صحت یاب ہوتے ہی انہوں نے مائنس ون اور مائنس تھری کا ذکر کر دیا، مگر پے در پے ریلوے حادثات کی طرف ان کا دھیان نہیں گیا۔

مزید :

رائے -اداریہ -