گلگت بلتستان انتخابی تیاریاں

گلگت بلتستان انتخابی تیاریاں

  

الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے شیڈول کا اجراء کر دیا ہے۔ جن کے مطابق امیدواروں کی جانب سے اس ماہ کی تیرہ تاریخ سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جا سکیں گے اور ووٹنگ کا دن پہلے سے نوٹیفائی شدہ تاریخ 18 اگست ہی ہوگا۔ شیڈول کے اجراء کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سیاسی عمل میں تیزی آئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے مختلف حلقوں سے ٹکٹ کے امیدواروں سے آن لائن درخواستیں طلب کی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے پارٹی امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دینے کے لئے فریال تالپور کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صوبائی صدر سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے اپنی سابقہ کابینہ کے ارکان کے ہمراہ بلتستان کا اچانک دورہ کیا اس دوران پارٹی کی دیگر سرگرمیوں کے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن سید مہدی شاہ سے بھی ملاقات کی ہے۔ یوں جولائی کے موسم میں دن بہ دن موسم کے لحاظ سے درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ساتھ سیاسی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یوں تو 18 اگست کو انتخابات بہت ہی خوش آئند ہیں، کیونکہ آئینی تقاضا یہ ہے کہ سابق اسمبلی اور حکومت کے برخاست ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر انتخابات ہونے چاہئیں، اس لحاظ سے 24 ستمبر سے پہلے پہلے اسمبلی کے انتخابات ہونے چاہئیں۔

لیکن دو مہینے سے بھی کم عرصے میں انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ ہی کئی ایک سوالات جنم لے رہے ہیں جو اپنی جگہ نہایت اہم ہیں۔ گلگت بلتستان اسمبلی کے سال 2009ء اور سال 2015ء دونوں انتخابات میں غلطیوں سے پاک انتخابی فہرستوں کی دستیابی سب سے بڑا چیلنج رہا ہے۔ مذکورہ دونوں انتخابات میں انتخابی فہرستوں میں ایسے افراد کے نام شامل تھے جو اس دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ بہت سارے لوگوں کے نام ایک سے زیادہ انتخابی حلقوں میں درج تھے۔ ایسے لوگوں نے صبح ایک حلقے میں ووٹ کاسٹ کیا تو شام کو دوسرے حلقے میں جا کر ووٹ ڈالا۔ اس سال ابھی تک انتخابی فہرستوں کی تیاری اور چھپائی سے متعلق کوئی کام ہوتا ہوا نہیں دیکھا گیا ہے کیونکہ ایک بار جب فہرست تیار ہوتی ہے تو عوام کے ملاحظے کے لئے پیش کی جاتی ہے تاکہ غلطیوں کی نشاندہی ہو سکے مگر اب انتخابات سر پر ہیں ابھی تک ایسا عمل سامنے نہیں آیا۔ ہر حلقے کے ووٹرز کی تعداد کے تازہ اعداد و شمار حاصل کرنے کے حوالے سے بھی کام کی ضرورت ہے۔ سب سے قابل اعتبار اعداد و شمار تو مردم شماری میں سامنے آتے ہیں مگر وفاق نے 2017ء میں ہونے والی مردم شماری میں گلگت بلتستان کے نتائج کاتا حال اجراء نہیں کیا۔ لہٰذا الیکشن کمیشن کو خود سے تازہ اعداد و شمار گھر گھر جا کر حاصل کرنے ہوں گے اور اپ ڈیٹ انتخابی فہرستوں کی تیاری کرنی ہو گی جو کہ بہت زیادہ وقت والا کام ہے۔ دیگر انتخابی میٹریل کی تیاری اور چھپائی بھی اپنی جگہ اہم اور وقت طلب کام ہے۔

اس حوالے سے اللہ کرے کہ اندرون خانہ تیاری ہوتی رہی ہو اور مقررہ وقت تک انتخابات قوائد و ضوابط کے مطابق اور کم سے کم نقائص کے ساتھ ممکن ہو ں، وگرنہ اب تک انتخابات سے متعلق جو کام وفاقی یا صوبائی سطح پر ہوئے ہیں ان میں ہوم ورک اور تیاری نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ نگراں وزیر اعلیٰ اور نگراں کابینہ کے ارکان کے چناؤ کے معاملے کو ہی لیجئے۔ قوائد کی رو سے وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن راہنما جس نام پر اتفاق کریں اسے نگراں وزیر اعلیٰ بنانا ہوتا ہے اور یہ دونوں کسی ایک نام پر متفق نہ ہو سکے تو پھر وزیر اعظم بطور چیئرمین GB کونسل اپنا اختیار استعمال کر سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر کے پاس دو ناموں افضل علی شکری اور دیدار علی پر اتفاق تھا اصولاً ان دونوں میں سے ایک کو نگراں وزیر اعلیٰ ہونا چاہئے تھا چلیں وزارت امور کشمیر نے اپنی دانست میں ان دونوں کی نسبت زیادہ مناسب اور اہل شخصیت کو وزیٰر اعلی بنایا جسے سب نے تسلیم بھی کر لیا۔ لیکن نگراں وزراء کی نامزدگی کے لئے جو کچھ پورا ایک ہفتہ اسلام آباد میں ہوتا رہا وہ باعث شرمندگی ہے۔ اگرچہ یہ اختیار صوبائی نگراں وزیر اعلیٰ اور کیبنٹ ڈویژن کا تھا لیکن یہ اختیارات اسلام آباد سے نہ صرف استعمال ہوتا رہا بلکہ ایک ایک فرد کو اسلام آباد بلا کر انٹرویو ہوتا رہا۔ یہ کسی ایل ڈی سی کی تقرری تو نہیں تھی کہ امیدواروں کا انٹرویو کیا جاتا بلکہ حکومت نے اہلیت اور تجربے کی بنیاد پر شخصیات کو نامزد کرنا تھا۔ اس سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ایک دن کوئی صاحب کابینہ کے لئے فہرست میں ان ہوتا تو دوسرے دن وہ صاحب آؤٹ ہوتے۔

عارف اسلم خان وزارت کے لئے پہلے ان تھا پھر آؤٹ ہوا۔ اگر اس کا جواز سوشل میڈیا پر ہونے والے کچھ اعتراضات کو بنایا جا رہا ہے تو یہ قابل قبول اس لئے نہیں کیونکہ سابق سیکرٹری اور شکر سے رائیل فیملی کی معزز ترین شخصیت کو پہلے نامزد کر کے انہیں دنیا جہاں سے مبارکبادیں دلائی گئیں پھر ان کو آؤٹ کر دیا گیا یہ کس جواز کے تحت ہوا۔ انٹرویو کے تقاضے کیا تھے اور کیا معیار مقرر کیا تھا جس پر یہ اہم ترین شخصیت پورا نہ اتر سکی یہ سامنے آنا چاہئے۔ مقامی اہم ترین شخصیت حسن خان اماچہ کے لئے کس نے اعتراض کیا تھا؟ گلگت سے سینئر صحافی جو وزارت امور کشمیر کی جانب سے نگراں وزیر اعلیٰ کے لئے وزیر اعظم کو بھیجی گئی سمری میں سیریل نمبر 2 پر تھا۔ جب سیریل نمبر 1 والے میر افضل نگراں وزیر اعلیٰ بنا دیئے گئے تو ایمان شاہ اور سیریل نمبر 2 والے ناصر زمانی کو نگراں وزراء بنانے کے اعلانات کئے گئے مگر اس سینئر صحافی کو آخری وقت میں ڈیلیٹ کرنے کا سبب،کن لوگوں کا احتجاج بنا۔ پھر ایک بار سات روز کے صبر آزما مراحل طے کرنے کے بعد یہ وزراء بنے تو ان کے محکموں کی تقسیم کے مرحلے پر جو بار بار تبدیلیاں ہوئیں یہ سارے عوامل حکومت کی عدم سنجیدگی اور عجلت میں کام کرنے کو ظاہر کرتا ہیں جو سب کے لئے قابل قبول انتخابات کے لئے سود مند نہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی راہنما اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے ذریعے وزارت اسلام آباد انٹرویوز اور انتخابی شیڈول کے اعلان کے ساتھ گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر آفیسر ان کے تبادلوں

کو پری پول رگنگ کا سلسلہ قرار دیا ہے اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے مرحلے پر گلگت بلتستان کے انتخابات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے یہاں مبینہ دھاندلی کو شہ رگ کے لئے نقصان کے مترادف قرار دیا ہے،لہٰذا حکومت کو ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی کو انگشت نمائی کا موقع نہ مل سکے۔ویسے اس وقت انتخابات کے ساتھ ساتھ پہلی ترجیح کورونا سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات کی ہے۔کورونا مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ہسپتالوں میں سہولیات ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ گلگت اور سکردو میں کورونا ٹیسٹ کی سہولت میں بھی کمی ہے۔سکردو میں صرف سی ایم ایچ میں کورونا ٹیسٹ ہو رہے ہیں، جہاں روزانہ بہت ہی محدود تعداد میں ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سکردو میں ٹیسٹنگ مشین دیئے ہوئے مہینہ ہو گیا، مگر ہسپتال ذرائع سے معلوم ہوا کہ خالی مشین سے ٹیسٹ نہیں ہو سکتے، اس کے دیگر لوازمات ساتھ نہیں دیئے گئے، جس کے باعث ٹیسٹ شروع نہیں کئے جا سکے۔یہی صورت حال جب اس ہسپتال کو این ڈی ایم اے کی جانب سے وینٹی لیٹر مشین دی گئی تب بھی تھی اُس وقت ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ جو مشین اس ادارے نے دی ہے وہ پورٹ ایبل ہے جس کے ساتھ کارڈ مانیٹر وغیرہ نہیں،لہٰذا عوامی چندہ مہم کے ذریعے بڑی وینٹی لیٹر مشین مع کارڈ امانیٹر خرید کر آئی سی یو قائم کیا گیا، جہاں اب تک کورونا کے شدید حالت والے مریض وہاں لائے گئے درجنوں مریض استفادہ کر چکے ہیں۔ پٹرول کی قیمتیں کم کیں تو پٹرول سیاچن سے کراچی تک غائب اور جس روز فی لیٹر25 روپے کا اضافہ کیا گیا، تب اسی لمحے ہر پٹرول پمپ سے گویا پٹرول اُبلنے لگا، ایسے موقعوں پر حکومت یا انتظامیہ نام کی کوئی چیز نظر نہ آئی۔ویسے جب انتخابات پر سر ہوں تو پٹرول کی قیمتوں میں بیک وقت فی لیٹر25روپے کا اضافہ اور پھر اب تمام پی ٹی ڈی او ہوٹلز کو بند کر کے اُن کے ملازمین فارغ کرنے جیسے اقدامات عوام دوست نہیں،جو انتخابی نتائج پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔(بشکریہ روزنامہ ”کے ٹو“گلگت بلتستان)

مزید :

رائے -کالم -