”صاف چلی، شفاف چلی“ کے دو سال

”صاف چلی، شفاف چلی“ کے دو سال
”صاف چلی، شفاف چلی“ کے دو سال

  

”صاف چلی، شفاف چلی“ پاکستان تحریک انصاف کا نعرہ نما دعویٰ تھا۔ اگلے مہینے ان کی حکومت کے دو سال پورے ہو جائیں گے۔ اپنے دعویٰ کے برعکس یہ ”ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا“ حکومت ثابت ہوئی ہے۔ ان دو سالوں میں عمران خان حکومت ہر لحاظ سے ایک ناکام حکومت ہے۔ کورونا کی وبا کے آنے کے بعد یہ کورونا کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن سرکاری اعدادو شمار چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ کورونا آنے سے پہلے ہی، اپنے پہلے 19 ماہ میں یہ حکومت معیشت کا بٹھہ بٹھا چکی تھی۔ تمام کے تمام اقتصادی اعشارئیے، روپیہ کی قدر اور سٹاک مارکیٹ زمین بوس ہو چکے تھے۔ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کا جن لوگوں کو زندہ ہڑپ کر رہا تھا، ہر قسم کے کاروبار کا پہیہ رک چکا تھا۔ کہاں چار سال پہلے پاکستان کا شماردنیا کی چند ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ہو رہا تھا اور اسے اقتصادی لحاظ سے ایشین ٹائیگر بننے کی پیش گوئیاں ہو رہی تھیں لیکن اس حکومت کے آنے کے بعد ٹائیگر تو دور کی بات ہے، یہ بلّی بننے کے قابل بھی نہیں رہا۔ اقتصادی ترقی کی شرح جو پچھلے دور حکومت میں 5.8 فیصد تھی، کرونا سے پہلے ہی موجودہ حکومت کے دور میں 1.9 فیصد رہ گئی تھی اور اب کرونا کے بعد یہ منفی میں چلی گئی ہے۔ عمران خان حکومت 1951ء کے بعد پہلی حکومت ہے، جس میں اقتصادی ترقی کی شرح منفی میں گئی ہے۔ یہ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے بعد بھی منفی میں نہیں گئی تھی۔ پاکستان کے 1971ء میں دو ٹکڑے ہوگئے، لیکن اقتصادی ترقی کی شرح‘ آدھا ملک گنوانے کے بعد بھی منفی میں نہیں گئی تھی۔ اپنے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے پاکستان پابندیوں کی زد میں رہا، لیکن ایٹمی پروگرام بھی جاری رہا، پاکستان ایٹمی طاقت بھی بن گیا،لیکن اقتصادی ترقی کی شرح اس دوران بھی کبھی منفی میں نہیں گئی۔ اندازہ کیجئے کہ ”صاف چلی، شفاف چلی“ کتنی نکمی اور نا اہل ہے کہ تقریباً 70 سال بعد پہلی دفعہ ملکی معیشت کو منفی میں لے گئی ہے۔

دو سال میں وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم نے جتنے سکینڈل اکٹھے کر لئے ہیں، دوسری حکومتوں سے تو پندرہ بیس سال میں بھی اکٹھے نہیں ہوتے۔ ہر شعبہ میں ناکامیاں اس کے علاوہ۔گوورننس صفر، معیشت صفر، شفافیت صفر……کہیں تو ایک آدھ نمبر لے لیتے۔دو صوبے‘ پنجاب اور خیبر پختونخوا، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے ان میں ہر دوسرے چوتھے مہینے چیف سیکرٹری اور آئی جی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کیا حسن انتظام ہے کہ دونوں صوبوں کے نا اہل وزرائے اعلیٰ جوں کے توں موجود ہیں،لیکن چیف سیکرٹری اور آئی جی کو ٹکنے ہی نہیں دیا جاتا۔موجودہ آئی جی پنجاب اس حکومت کے پانچویں آئی جی ہیں۔ ڈاکٹر سید ثقلین امام، محمد طاہر، امجد جاوید سلیمی، کیپٹن عارف نواز اور ڈاکٹر شعیب دستگیر۔ اوسط دورانیہ چار ماہ فی آئی جی۔ زیادہ تر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لئے وزیراعظم عمران خان سے شکائت کرکے ہٹوائے۔ اسی طرح پنجاب میں چیف سیکرٹری کا اوسط دورانیہ عمران خان عثمان بزدار حکومت میں پانچ ماہ کا ہے۔ اکبر حسین درانی، یوسف نسیم کھوکھر، میجر اعظم سلیمان اور جواد رفیق ملک۔پنجاب میں تقریباً ہر محکمہ کے سیکرٹری ان دو سالوں میں کئی کئی بار تبدیل ہو چکے ہیں۔ کسی کے چار یا چھ بار، اور کسی کے آٹھ یا دس بار۔ کمانڈو سٹائل میں راتوں رات سیکرٹری تبدیل کر دئیے جاتے ہیں۔ سنیچر کی شام کو چھٹی کے دن وفاق نے چیئرپرسن ایف بی آر تبدیل کیا اور پنجاب میں چند گھنٹے بعد اسی رات کو ایک بار پھر سیکرٹری فوڈ تبدیل ہو گئے۔ آدھی رات کو ہنگامی طور پر وقاص علی محمود کو او ایس ڈی بنا دیا گیا اورٹرانسپورٹ سیکرٹری اسد رحمان گیلانی کو ان کی جگہ سیکرٹری فوڈ۔ آٹے کا بحران ہے کہ بزدار حکومت کی تمام تر آنیوں جانیوں کے باوجود روز بروز سنگین سے سنگین تر اور دس روپے والا نان پندرہ روپے کا فروخت ہو رہا ہے۔ یہ تو نمونے کے طور پر ایک محکمہ کا ذکر ہے۔عثمان اکھاڑ پچھاڑ (بزدار) حکومت میں سارے محکموں کا یہی حال ہے اور ایسی ہی صورت حال سے ”صاف چلی، شفاف چلی“حکومت والے خیبر پختونخوا اور اسلام آباد بھی دوچار ہیں۔

عمران خان حکومت نے سنیچر کی شام اچانک چیئرپرسن ایف بی آر نوشین جاوید امجد کے ہاتھ میں ایف بی آر سے رخصتی کا پروانہ پکڑا دیا۔ وہ ان لینڈ ریونیو گروپ میں 22 گریڈ کی سب سے سینئیر بیوروکریٹ ہیں اور اگر حکومت نے اپنے ٹیکس کے ٹارگٹ پورے کرنے ہیں تو ان سے زیادہ تجربہ کار افسر اس وقت ایف بی آر میں موجود نہیں ہے، لیکن ان لینڈ ریونیو کی اس سب سے سینئر افسر کو قومی ورثہ اور ثقافت کا سیکرٹری لگا دیا گیا ہے۔ چھٹی کے دن شام کے وقت نوشین جاوید امجد کو اچانک ہٹائے جانے سے بہت سے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔انہیں ہٹانے کے لئے کابینہ کے اجلاس کا انتظار بھی نہیں کیا گیا،بلکہ سرکولیشن کے ذریعہ کابینہ سے سمری منظور کرائی گئی۔ ان کی جگہ کسٹم گروپ کے ممبر کسٹم پالیسی جاوید غنی کو تین ماہ کے لئے چیئرمین ایف بی آر لگا دیا گیا ہے۔ تانے بانے بننے والے انہیں خاتون اول کے شوہر اول خاور فرید مانیکا کے ساتھ بن رہے ہیں،جو خود بھی کسٹم گروپ سے 21 گریڈ میں گذشتہ برس ریٹائر اور جاوید غنی کے بہت قریب بتائے جاتے تھے۔ اگر یہ تانے بانے مکمل طور پر درست نہ بھی ہوں تو جاوید غنی کی صرف تین ماہ کے لئے تقرری نے بہت سے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں نوشین جاوید امجد کو اچانک اس لئے ہٹایا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کیس اب ایف بی آر کے کورٹ میں ہے،جو اس کی بابت سپریم کورٹ کو رپورٹ بنا کر دے گا اور اسی رپورٹ کی بنیاد پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے کیس کا سپریم جوڈیشل کونسل میں فیصلہ ہو گا۔ ہٹائی جانے والی نوشین جاوید امجد کے بارے میں تاثر یہ تھا کہ وہ حقائق پر مبنی رپورٹ دیں گی اور کوئی دباؤ قبول نہیں کریں گی۔ اسی لئے لوگ سوچ رہے ہیں کہ اس احتمال کو ختم کرنے کے لئے ایسے چیئرمین کی صرف تین ماہ کے لئے عارضی تقرری کی گئی ہے، جن سے من مانی رپورٹ بنوائی جا سکے۔ سپریم کورٹ نے ایف بی آر کو رپورٹ دینے کے لئے تین ماہ کا وقت دیا ہے اور جاوید غنی کی تقرری بھی تین ماہ کے لئے کی گئی ہے۔

لگتا ہے عمران خان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے تین ماہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے متعلق رپورٹ پر توجہ دی جائے اورپھر اس کے بعد کے نو مہینوں میں ٹیکس کے ٹارگٹوں کے بارے میں سوچا جائے۔ شنید ہے کہ ایف بی آر کے ایک سابق چیئرمین طارق پاشا کے بارے میں سوچا جا رہا ہے کہ تین ماہ بعد انہیں چیئرمین بنایا جائے گا۔ طارق پاشا کا شمار ایف بی آر کے کامیاب سربراہوں میں ہوتا ہے۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں چیئرمین ایف بی آر تھے۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور میں ٹیکس کلیکشن دوگنا کردی تھی جس میں طارق پاشا کا کردار بہت اہم تھا۔ اس وقت وہ سرحدی اور شمالی علاقہ جات کے وفاقی سیکرٹری ہیں اور دو تین ماہ میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔اس تمام ٹائمنگ کو ملا کر دیکھا جائے تو منصوبہ یہی نظر آتا ہے کہ پہلے جاوید غنی سے تین ماہ میں بیگم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ بھجوائی جائے اور پھر تین مہینے بعد طارق پاشا کی بعد از ریٹائرمنٹ کنٹریکٹ پر چیئرمین ایف بی آر کے طور پر تقرری کرکے ٹیکس ریوینیو کے ٹارگٹ پورے کئے جائیں۔ خیر، تین ماہ بعد اصل تصویر واضح ہو ہی جائے گی، لیکن اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ دو سال سے بھی کم عرصہ میں عمران خان حکومت میں پانچ چیئرپرسن ایف بی آر رہے یعنی رخسانہ یاسمین، ڈاکٹر جہانزیب خان، شبر زیدی، نوشین جاوید امجد اور اب جاوید غنی۔ اس طرح یہ اوسط سوا چار مہینے فی چیئرمین کی بنتی ہے۔ اب چار مہینوں میں کوئی چیئرمین کیسے ریوینیو ٹارگٹ پورے کرسکتا ہے، اس کا بہتر جواب تو دو سال سے ملک پر مسلط ”صاف چلی، شفاف چلی“ ہی دے سکتی ہے۔ ساری ناکامیوں کا ملبہ بے چارے عوام پر گر رہا ہے۔ عمران خان حکومت جس طرح چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اسے دیکھتا ہوں تو جعفر رضوی کا شعر ذہن میں آتا ہے……

پردے میں ڈوریوں کے لگاتار کھیل سے

بیزار خلق و چشمِ تماشائی ہو چکی

”’صاف چلی، شفاف چلی“ کا طرہ امتیاز آئے دن نئے نئے سکینڈل ہیں۔ گندم، چینی، آٹا، ادویات، پی آئی اے، پی ٹی ڈی سی وغیرہ وغیرہ۔ ایک لمبی فہرست ہے جس میں کوئی سکینڈل سینکڑوں ارب سے کم کا نہیں ہے۔جب یہ حکومت جائے گی تو ہزاروں ارب کی کرپشن کی داستانیں سن کر لوگ پریشان ہو جائیں گے اور ماضی کے تمام سکینڈل اور تمام کرپشن بھول جائیں گے۔ کیا مائنس ون ہونے جا رہا ہے؟ یا پھر اپنے آپ کو مائنس ہوتے دیکھ کر وزیراعظم عمران خان خود ہی اسمبلیاں توڑ دیں گے۔ مجھے نہیں معلوم لیکن کسی اور کے منہ سے نہیں، ”مائنس ون“ پچھلے ایک ڈیڑھ ہفتے میں سب سے زیادہ خود عمران خان کے منہ سے ہی سنا ہے۔ عمران خان نے جو بڑے بڑے وعدے کئے تھے لوگ وہ توبھولتے جا رہے ہیں، بس ایک ہی دعا سب کی زبان پر رہتی ہے کہ یا اللہ آج کا دن کسی طرح خیریت سے گذر جائے۔

مزید :

رائے -کالم -