پاکستان میں کورونا سے 54فیصد تنخواہ دار طبقہ متاثر، 32فیصد کی نوکری چلی گئی: گیلپ سروے

پاکستان میں کورونا سے 54فیصد تنخواہ دار طبقہ متاثر، 32فیصد کی نوکری چلی گئی: ...

  

اسلام آباد (آئی این پی) کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ پر پاکستانی عوام کی اکثریت کو کافی تشویش ہے لیکن مایوس نہیں، حالات میں بہتری کی امید رکھتے ہیں، کورونا کے منفی اثرات سے تنخواہ دار طبقے کے 54 فیصد افراد متاثر ہوئے، 27 فیصد بے روزگار ہوئے اور مزید 27 فیصد نے تنخواہ میں کٹوتی کا بتایا۔عوامی آراء جاننے کے حوالے سے معروف ادارے گیلپ نے پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال پر تازہ ترین سروے کے نتائج جاری کر دیے ہیں۔گیلپ پاکستان نے نیا سروے 4 سے 16 جون 2020 کے درمیان کیا جس میں ملک بھر سے 12 سو سے زائد افراد نے حصہ لیا۔نئے سروے میں انکشاف ہوا کہ کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ پر پاکستانی عوام کی اکثریت کو کافی تشویش ہے لیکن عوام مایوس نہیں اور حالات میں بہتری کی امید رکھتے ہیں۔کورونا کے پھیلاؤ کے سوال پرسروے میں 80 فیصد افراد نے تشویش کا اظہار کیا جبکہ 15 فیصد نے اس بارے میں فکر مند نہ ہونے کا بتایا۔جس کے بعد گیلپ پاکستان نے پوچھا کہ ان کو کس حوالے سے تشویش ہے؟تو جواب میں 94 فیصد افراد نے گھر والوں کی صحت کی حفاظت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔91 فیصد نے اپنے مالی انتظامات، 87 فیصد نے سیونگز کے متاثر ہونے، 87 فیصد نے قوت خرید میں کمی، 84 فیصد نے بنیادی ضروریات پوری کرنے میں پریشانی اور 59 فیصد نے بے روزگار ہونے کے ڈر کو اپنی تشویش کی وجہ بتائی۔ البتہ سروے میں یہ دیکھا گیا کے 41فیصد افراد پْرامید تھے کے کورونا کا مسئلہ 6 ماہ میں حل ہوجائے گا۔ 20 فیصد کا خیال تھا کے اس میں ایک سال لگ سکتا ہے جبکہ 13 فیصد کی رائے تھی کے اس میں دوسا ل یا اس سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے۔پرامید افراد میں نوجوانوں کی شرح زیادہ دیکھی گئی اور 30 سال کی عمر کے 43 فیصد 6ماہ میں حالات میں بہتری ہونے کی امید کرتے نظر آئے جبکہ 30 سے 49 سال کے 41فیصد اور 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں پرامید ہونے کی شرح 31 فیصد تھی۔ سروے میں 25 فیصد افراد 3 سے 4 ماہ میں معاشی حالت میں بہتری کے حوالے سے بھی پرامید تھے البتہ 26 فیصد کا خیال تھا کے کورونا کے منفی معاشی اثرات دیرپا ہوں گے۔ 25 فیصد کا خیال تھا کے معیشت پر کورونا کے منفی اثرات 6 سے 12 ماہ کیلئے ہوں گے جبکہ 24 فیصد کا خیال تھا کے وہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہ سکتے۔کورونا کے منفی اثرات سے تنخواہ دار طبقے کے 54 فیصد افراد متاثر ہوئے، 27 فیصد بے روزگار ہوئے اور مزید 27 فیصد نے تنخواہ میں کٹوتی کا بتایا۔ بے روزگاری کا بتانے والوں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرح سب سے زیادہ یعنی 32 فیصد ہے۔ خیبرپختونخوا میں یہ شرح 23 فیصد جبکہ بلوچستان اور سندھ میں 22، 22 فیصد نظرآئی۔

گیلپ سروے

مزید :

صفحہ اول -