بھارت کی ایل اوسی اور مقبوضہ وادی میں جارحیت، 22سالہ پاکستانی شہری زخمی، 2کشمیری نوجوان شہید چین سے پھر چھیڑ چھاڑ، لداخ میں غیر معمولی فوجی نقل و حرکت، لڑاکا طیارے، اپاچی ہیلی کاپٹر بھی پنچا دیئے

بھارت کی ایل اوسی اور مقبوضہ وادی میں جارحیت، 22سالہ پاکستانی شہری زخمی، ...

  

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) بھارتی فوج نے ایک مرتبہ پھر کنٹرول لائن پر بلااشتعال فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر 22 سالہ شہری زخمی ہو گیا، پاک فوج نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی توپوں کو خاموش کروا دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کنٹرول لائن پر بھاری ہتھیا روں سے فائرنگ کی، بٹل سیکٹر میں مارٹروں کی شیلنگ کر کے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کی زد میں آ کر ایک 22 سالہ نوجوان زخمی ہو گیا،جسے بعد ازاں طبی امداد کیلئے قریبی مرکز صحت منتقل کردیا گیا۔ترجمان پاک فوج کے مطابق دشمن کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ پر مؤثرجوابی کارروائی کی گئی اور بھارتی توپوں کو خاموش کروا دیا گیا۔واضح رہے بھار ت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سرحدی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، پاکستان کی متعدد بار بھارتی سفارت کار کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمانے کے باوجود فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات میں کمی نہیں آئی۔ گزشتہ ماہ بھی اسی طرح کے واقعے میں ایک 13 سالہ لڑکی جاں بحق جبکہ اس کی ماں اور بھائی شدید زخمی ہوئے تھے۔

بھارت فائرنگ

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کرکے مزید دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا، جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں شوپیاں پلوامہ روڈ پر گونگوں علاقے میں سرکلر روڈ کے نزدیک ایک میوہ باغ میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں بھارتی پیرا ملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس کا ایک اہلکار ز خمی ہوگیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دونوں نوجوانوں کو جنت نظیر وادی کے ضلع کلگام میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران قابض بھارتی فوج نے فائرنگ کرکے شہید کیا۔ جا ر حیت پسند بھارتی فوج نے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوجوانوں کی لاشوں کو لواحقین کے حوالے کرنے سے بھی انکار کردیا جس پر اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے شدید احتجاج کیا۔کٹھ پتلی بھارت نواز انتظامیہ نے قابض بھارتی فوج کے ظلم و بربریت پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے نوجوانوں کی دہشتگرد ثابت کرنے کی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا،تاہم علاقہ مکینوں نے جھوٹ کا پردہ فاش کردیا۔قبل ازیں بھارتی فوج نے ایک ضعیف شخص کو کم سن نواسے کے سامنے گولی مارکر شہید کردیا تھا جبکہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے سہما ہوا بچہ اپنے مردہ نانا کے سینے پر بیٹھ گیا اور روتے ہوئے انہیں اْٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس منظر نے جہاں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا وہیں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔واضح رہے مودی سرکار نے مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ تیز کردیا ہے، رواں کے آغاز میں ہی قابض بھارتی فوج کی دہشت گردی میں شہید ہونیوالے نوجوانوں کی تعداد 6 ہوگئی ہے جبکہ گزشتہ ماہ شہداء کی تعداد 54 تھی۔ ادھرمقبوضہ کشمیر میں جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں شوپیان پلوامہ روڈ پر گونگوں علاقے میں سرکلر روڈ کے نزدیک ایک میوہ باغ میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں بھارتی پیرا ملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب بھارتی فورسز علاقے سے گزر رہی تھیں۔ زخمی اہلکار کی شناخت جی ڈی پردیپ داس کے نام سے ہوئی ہے۔دھماکے کے فورا بعد قابض فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی شروع کردی۔ اس سے پہلے وہاں سے سی آر پی ایف کی 182 بٹالین کی کانوے بھی گزر رہی تھی جو اس آئی ای ڈی دھماکے سے پہلے ہی وہاں سے نکل گئی تھی۔اس سے قبل ہفتے کی شام مقبوضہ کشمیرضلع کو لگام میں سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونیوالی جھڑپ میں 2کشمیری نوجوان عسکریت پسند شہید ہوگئے۔ تصادم کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔جبکہ ایک جے سی او سمیت تین فوجی زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاج کیلئے سرینگر میں فوج کے بیس ہسپتال منتقل کیا گیا۔شہید ہونیوالوں میں علی بھائی عرف حیدر شامل ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق علاقے سے گزرنے والی شاہراہ سے سی آر پی ایف کی 18بٹالین گزر رہی تھی، اس دوران عسکریت پسند و ں کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے بعد سے فورسز اور کشمیری نوجوانوں کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ شروع ہوا۔جائے تصادم کے آس پاس نوجوانوں کی ایک بھیڑ جمع ہوگئی جنہوں نے فوجی آپریشن کو درہم برہم کرنے کی کوشش کی۔ یہ نوجوان سکیورٹی فورسز کیخلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ فوج اور پولیس نے انہیں بھگانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا۔جھڑپوں کے دوران، ایک نوجوان کی دائیں آنکھ میں گولیوں کا زخم آیا ہے اور اسے ہفتے کی رات ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سری نگر منتقل کردیا گیا۔ہسپتال ذرائع نے زخمی نوجوان کی شناخت 20 سال کے عارف بشیر راتھر کے نام سے کی۔ ان کا کہنا تھا چھروں نے عارف کی دائیں آنکھ کو نشانہ بنایا گیا۔مقامی لوگوں نے بتایا عارف اپنے گھر جارہا تھا کہ اس کوچھرے لگے۔ادھر مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو گیارہ ماہ بیت گئے، اس دوران بھارتی فوج نے 192 کشمیری نوجوانوں کو شہید اور 1326 کو زخمی کیا۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 کو بھارت نے آرٹیکل 370 کو ختم کر کے مقبوضہ وادی میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن اور کرفیو لگا دیا جسے گیارہ ماہ گذر گئے۔اس دوران غاصب فوج نے 192 کشمیریوں کو شہید کیا، 9 خواتین بیوہ ہوئیں، 22 بچے یتیم اور935 گھروں کو مسمار کر دیا گیا، ہزاروں سیاسی کارکن اور رہنما گھروں میں نظر بند اور گرفتار کر لیے گئے، وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہے، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز پر تالے پڑے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر

لداخ(این این آئی) بھارت نے ایک بار پھر چین سے ملحقہ سرحد پر چھیڑ چھاڑ شروع کردی اور سرحدی علاقے میں فضائی قوت بڑھانا شروع کردی۔بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کیساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی)پر بھارتی فضائیہ کے روسی ساختہ ایس یو تھرٹی ایم کے آئی اور مگ 29طیاروں نے مسلسل پروازیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں چینی سرحد کے قریب واقع ایئر بیس پر امریکی سی 17اور سی 130جے کے علاوہ روسی ساختہ الیوشن 76اور اینتونوو 32بھی موجود ہیں۔ یہ طیارے اہلکاروں اور جنگی ساز و سامان کی منتقلی کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔مشرقی لداخ سیکٹر میں بھارت کے اپاچی ہیلی کاپٹر بھی موجود ہیں جو اس علاقے میں جنگی مقاصد کیلئے موزوں تصور کیے جاتے ہیں۔ رواں برس مئی کے دوران چین کیساتھ شروع ہونیوالی کشیدگی میں یہ ہیلی کاپٹر استعمال کئے گئے تھے۔ اس علاقے میں بھارتی عزائم سے متعلق اس ہیلی کاپٹر کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ چینی سرحد کے نزدیک ایئر بیس پر غیر معمولی نقل و حرکت نظر آرہی ہے اور جنگی طیاروں کی فضا میں پروازیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔ بھارتی فضائیہ کے حکام نے کہا کہ جنگی طیاروں کی پروازیں کارروائیوں کی تیاری میں انتہائی مددگار ہوتی ہیں اور بھارتی فضائیہ چینی سرحد پر تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق رواں برس مئی میں چین کیساتھ ہونیوالی کشیدگی کے بعد بھارت مشرقی لداخ کے علاقے میں اپنی فضائی قوت میں اضافہ کررہا ہے۔

بھارت چھیڑ چھار

مزید :

صفحہ اول -