بالٹی مور، مظاہرین نے کولمبس کا مجسمہ رسوں سے گرا ک سمندر میں بہا دیا

  بالٹی مور، مظاہرین نے کولمبس کا مجسمہ رسوں سے گرا ک سمندر میں بہا دیا

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی دارالحکومت کی نواحی ریاست میری لینڈ کے ایک اہم ساحلی شہر بالٹی مور میں احتجاجی مظاہرین نے امریکہ دریافت کرنے والے کرسٹوفر کولمبس کا یادگار مجسمہ رسوں سے گرا کر سمندر میں پھینک دیا۔ بحر اوقیانوس کی ایک شاخ اس شہر تک پہنچتی ہے جہاں Inner Harborکہلانے والی بندرگاہ کے کنارے پر اس مجسمے کو سابق صدر رونالڈریگن اور سابق میئرولیم شیفر سے منسوب کر کے 1984ء میں پیوست کیا گیا تھا جو اب بالٹی مور شہر کی ملکیت تھا۔ امریکہ کی ریاست منی سونا کے شہر مینالس میں 25مئی کو ایک واقعہ پیش آیا جب ایک سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ ہلاک ہوا۔ اس کے خلاف احتجاج آہستہ آہستہ ملک گیر مظاہروں اور پھر نسلی منافرت کی تحریک کی صورت اختیار کر گیا۔ ہرویک اینڈ پر مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اب بھی ہو رہے ہیں۔اس تحریک کے تحت حال ہی میں واشنگٹن سمیت دیگر شہروں میں ایسے مجسمے گرائے گئے جو مظاہرین کے مطابق ایسے افراد کی نشانی تھے جو سیاہ فاموں کے خلاف نسلی منافرت کی نشانی تھے۔ بالٹی مور میں اتوار کو یوم آزادی کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ ہوا جب مظاہرین نے امریکہ دریافت کرنے والے کرسٹوفر کولمبس کے مجسمے کو گرانے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کے خیال میں اس سیاح نے امریکہ کی سرزمین پر رہنے والے باشندوں کو محکوم بنانے کے اقدام کا آغاز کیا۔ مظاہرین نے مجسمے کو رسوں سے باندھا اور پھرگرا کر سمندر میں پھینک دیا۔ قبل ازیں ریاست فلوریڈا کے صدر مقام میامی، ریاست ورجینیا کے صدر مقام رچمنڈ۔ ریاست منی سوٹا کے شہر سینٹ پال اور ریاست میساچیوسیٹس کے صدر مقام بوسٹن میں بھی کرسٹوفر کولمبس کے مجسموں کو گرایا یا نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔

کولمبس مجسمہ

مزید :

صفحہ اول -