دھرنے میں اپوزیشن ساتھ دیتی تو آج نتائج کچھ اور ہوتے،فضل الرحمن

دھرنے میں اپوزیشن ساتھ دیتی تو آج نتائج کچھ اور ہوتے،فضل الرحمن

  

مظفر گڑھ (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہااگر اپوزیشن دھرنے کے وقت ساتھ دیتی تو آج ملک میں یہ حالات نہ ہوتے بلکہ نتایج کچھ اور ہوتے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے یوآئی کی طرح اپوزیشن اپنی قوت کا اظہارکرتی تو نتائج کچھ اور ہوتے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں معاشی جمود ہے، ہر وقت نیب اور ایف بی آر کی تلوار لٹک رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں احتساب صرف اپوزیشن کاہوتا ہے جب کہ 30 ارب روپے کا بی آر ٹی منصوبہ اب 120 ارب روپے سے زائد کا ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ 5 جولائی 1977ء کو جمہوریت کا قتل ہوا، ہم نے اس کا مقابلہ کیا، پاکستان جمہوری ملک ہے، یہاں ڈکٹیٹر شپ یاصدارتی نظام نہیں آسکتا جہاں ڈکٹیٹر شپ ہو، وہاں صحافت فروغ نہیں پاتی۔ مرکزی سطح پر آج پیر کو اے پی سی ہونی چاہیے جس میں اپوزیشن کی غلطیوں کا بھی محاسبہ کیا جاسکے۔بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہاکہ جہاں دھاندلی سے ملک کا نظام چل رہا ہو تو وہاں بلدیاتی الیکشن کیا ہوں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ جس جج کو اس کی عدلیہ نے غلط قرار دے دیا تو اس کے فیصلوں کو بھی نظر انداز کرنا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ہماری تجویز ہے کہ مرکزی سطح پر اے پی سی ہو تاکہ دو سالوں کی اپوزیشن کی غلطیوں کا بھی محاسبہ کیا جاسکے۔

نتائج کچھ اور

مزید :

صفحہ اول -