یوم آزادی پر امریکہ میں کورونا وباء کا خوف، سوگواری نمایاں رہی

یوم آزادی پر امریکہ میں کورونا وباء کا خوف، سوگواری نمایاں رہی

  

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) پورے امریکہ میں اس بار بھی یوم آزادی منایا گیا لیکن فضاء سوگوار رہی اور کورونا وائرس کے خوف کے باعث شہری بہت کم باہر نکلے۔ تاہم روایت کے مطابق واشنگٹن سمیت تمام شہروں میں ہفتے کی شب آتش بازی ضرور ہوئی لیکن چار جولائی کو ہونیوالی آزادی پیریڈ کہیں نہیں ہوئی جو ہر شہر میں ہوتی تھی جس میں امریکی شہریوں کی پرجوش شرکت پوری دنیا کے سامنے مثال کے طور پر پیش کی جاتی تھی۔ اس مرتبہ آتش بازی کے مظاہرے ضرور ہوئے لیکن اس کو دیکھنے کیلئے پارکوں میں شہریوں کے جو اجتماعات ہوتے تھے وہ نہیں ہوئے۔ اگرچہ اس مرتبہ روایت کے مطابق واشنگٹن کی سال پر بے مثال پیریڈ منسوخ ہوگئی اور لیکن میموریل پارک میں تاریخی اجتماع نہیں ہوا تاہم صدر ٹرمپ نے پھر بھی وائٹ ہاؤس میں محدود پیمانے پر سماجی فاصلہ قائم کرتے ہوئے یوم آزادی منایا۔ وائٹ ہاؤس میں ہفتے کی شب چراغاں ہوا اور اس کے قریب آتش بازی کا مظاہرہ ہوا۔ اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے فوجی افسروں کے اعزاز میں ایک دعوت کی اور اس موقع پر جیٹ طیاروں کے ذریعے فضائی مظاہرہ ہوا جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لان میں کھڑے ہو کر دیکھا۔ واشنگٹن سمیت تمام شہروں میں کورونا کے خوف سے زیادہ تر شہری گھرو ں میں ہی رہے،تاہم نوجوانوں سمیت کچھ لوگ باہر بھی نکلے جو آتش بازی کا مظاہرہ دیکھتے رہے، امریکی پرچم اور اس کا لباس پہن کر سڑکوں پر گھومتے رہے۔ تاہم اہم عما ر توں اور شہریوں کے بیشتر گھروں پر روایتی چراغاں بھی ہوا۔ واشنگٹن ڈی کی سیاہ فام ڈیموکریٹک خاتون میئر مورئیل باؤسر نے جو صدر ٹرمپ کی بہت مخالف ہیں ہدایت کی تھی کہ دارالحکومت میں کورونا وائرس کے باعث یوم آزادی کی کوئی تقریب نہیں ہونی چاہئے، لیکن وائٹ ہاؤس نے اس ہدایت کی پرواہ نہیں کی اور آتش بازی کے ایک بھر پور مظاہرے کا اہتمام کیا۔ یوم آزادی کی تقریبات کیساتھ نسلی منافرت کیخلاف ملک بھر میں مظاہروں کا جو سلسلہ مئی کے مہینے سے شروع ہوا تھا وہ ہر ویک اینڈ میں ہوتا ہے۔ واشنگٹن، شکاگو اور فلاڈلفیا میں چار جولائی کے ویک اینڈ میں بھی یہ مظاہرے ہوئے۔ 25 مئی کو منی سوٹا میں سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت کیخلاف مظاہرے ملک بھر میں پھیل کر نسلی منافرت کیخلاف احتجاج میں تبدیل ہوگئے تھے۔ یوم آزادی کا سب سے بڑا مظاہرہ واشنگٹن ڈی سی میں ہوا۔ وفاقی حکام نے وائٹ ہاؤس کے سامنے 35 منٹ کے آتش بازی کے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا گیا جس میں دس ہزار سے زائد آتشیں اشیاء استعمال ہوئیں۔ نیویارک کے علاقے بروکلین میں یوم آزادی کے موقع پر نسلی منافرت کیخلاف کافی بڑا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان میں فوجی افسروں کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا۔ جہاں انہوں نے تقریر میں اپنے مخالفوں پر تنقید کا موقع نہیں کنوایا۔ انہوں نے امریکی قوم سے وعدہ کیا کہ وہ ”بائیں بازو کے انقلابوں“ کو شکست دیکر ہی دم لیں گے۔ صدرٹرمپ نے اس موقع پر کورونا وائرس کی وباء کو ختم کرنے کیلئے سرکاری اقدامات کا بڑے فخر سے ذکر کیا۔ صدر ٹرمپ نے ان افراد پر بھی سخت تنقید کی جو تاریخی نشانیاں ختم کرنے اور مجسمے گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس موقع پر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے چین پر بھی نکتہ چینی کی جس نے کورونا وائرس کے آغاز اور پھیلاؤ کے معاملے کو پر اسرار رکھا۔ بیرونی دنیا کو ضروری معلومات فراہم نہیں کی جس کی وجہ سے یہ وباء زیادہ زور دار طریقے سے دنیا میں پھیل گئی۔

امریکہ یوم آزادی

مزید :

صفحہ اول -