نیب کو مالم جبہ، بلین ٹری، بی آر ٹی منصوبوں کی تحقیقات کرنی چاہئے: عارف علوی

نیب کو مالم جبہ، بلین ٹری، بی آر ٹی منصوبوں کی تحقیقات کرنی چاہئے: عارف علوی

  

اسلام آباد (این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)صدر پاکستان عارف علوی نے کہا ہے کہ سکول اور کالجز کو کھولنے کا تعلق کورونا وائرس کے گراف سے ہوگا۔صوبوں اور وفاق کے درمیان تکرار چلتی رہے گی، جیسے جیسے معیشت بہتر ہوگی صوبوں کے حصے پر ہم آہنگی بڑھتی جائے گی۔ آئین میں ترامیم آتی رہتی ہیں اسی طرح اگر 18 ویں ترمیم پر بھی نظر ثانی کی جائے تو یہ بہتر ہوگا۔ اٹھارویں ترمیم نظرثانی سے بہتر ہو سکتی ہے۔ایک انٹرویومیں صدر مملکت نے کہا کہ سندھ حکومت کے اختیارات سلب کرنے کی تجویز کبھی زیرغور نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے میں اختلافات چلتے رہتے ہیں، وسائل کی تقسیم پراختلافات معمول کی بات ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ نیب کو مالم جبہ، بلین ٹری اور بی آر ٹی جیسے منصوبوں کی تحقیقات کرنی چاہیے۔ نیب اگر ان کیسز کی تحقیقات نہیں کرتا تو کسی کو تو پٹیشن دائر کرنی چاہیے کہ نیب ایسا کیوں نہیں کر رہا۔ کرپشن جاری رہی تو اداروں کا حال اسٹیل ملز جیسا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کی کرپشن کے خلاف جنگ جاری ہے، پہلی بارحکومت نے اسکینڈلز کی تحقیقات کے بعد رپورٹس جاری کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1300 نیب مقدمات میں سے صرف 5 بیوروکریٹس کے خلاف تھے، نیب کا قانون مناسب ہے، بار ثبوت ملزم پر ہی ہونا چاہیے، اگر کسی کو نیب قانون پر اعتراض ہے تو وہ پٹیشن دائر کر دے۔ صدر عارف علوی نے مالم جبہ، بلین ٹری اور بی آرٹی سمیت سب منصوبوں کی تحقیقات کی حمایت کی اور کہا کہ جہانگیر ترین کو حکومت نے باہر نہیں بھیجا، وہ واپس آجائیں گے۔ وہ اپنا ہر طریقے سے دفاع کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بطور صدر انہوں نے اپنے خلاف مقدمات میں استثنیٰ لینے سے انکار کیا۔ملک میں کورونا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حرم میں حج کے موقع پر لوگ پیسے دے دیتے ہیں اور قربانی ہوجاتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہمارے ملک میں بھی اجتماعی قربانی کو فروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ 'مجھے لگتا ہے کہ عید الاضحیٰ اور محرم میں اگر ہم کورونا کو کنٹرول کرلیں تو سب ہمارے کنٹرول میں آجائے گا۔ عیدالاضحی پر اجتماعی قربانی کرنی چاہیے، حکومت نے کورونا کے باعث عیدالفطر کی طرح عیدالاضحی کیلئے بھی پالیسی بنالی ہے۔انہوں نے کہاکہ شکر ہے کورونا سے اموات کم ہوئی ہیں، میں تو چاہتا تھا کورونا میں سب کچھ بند ہوجائے لیکن وزیراعظم نے مجھے بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پر قائل کیا۔تعلیمی اداروں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے عید کے بعد کورونا صورتحال دیکھ کر کھولنے چاہئیں۔کشمیر پالیسی کے بارے انہوں نے کہا کہ حکومت کی کشمیر پالیسی کمزور نہیں ہے، مودی حکومت مسلمانوں کیخلاف نفرت کی پالیسی روا رکھے ہوئے ہے جب کہ 3سالہ بچے کی تصویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ دنیا ہوش کرے کیوں کہ مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی کا خطرہ ہے۔

اجتماعی قربانی

مزید :

صفحہ اول -