غلط حکومتی پالیسیوں سے ملک میں آٹا بحران پیدا ہو رہا ہے: محمد احمد وحید

  غلط حکومتی پالیسیوں سے ملک میں آٹا بحران پیدا ہو رہا ہے: محمد احمد وحید

  

اسلام آباد (پ ر) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید نے کہا کہ پنجاب حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے گندم کی سرکاری خریداری کا ٹارگٹ 45لاکھ ٹن رکھا تھا لیکن آڑھتیوں اور مل مالکان کی مہنگی خریدی گئی گندم ذخیرہ اندوزی ایکٹ کی آڑ میں قبضہ میں لی گئی لیکن پھر بھی ٹارگٹ پورا نہ ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ گندم کی خریداری کا سرکاری ریٹ 1475روپے فی 40کلو ہے جبکہ نجی شعبے کو گندم 1950روپے فی 40کلو کے ریٹ پر خریدنی پڑ رہی ہے۔ ان حالات میں مل مالکان مہنگی گندم خرید کر سستا آٹا کیسے فراہم کر سکتے ہیں۔ گذشتہ روز سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سرکاری گندم آبادی کے تناسب سے دی جائے گی۔ لیکن فلور ملز ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ گندم ملوں کی استطاعت کے تناسب سے فراہم کی جائے۔ محمد احمد وحید نے کہا کہ 1950روپے فی 40کلو خریدی گئی گندم سے 20کلو آٹے کا تھیلا 850روپے میں فروخت کرنا مل مالکان کیلئے نا ممکن ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ مل مالکان 48.75روپے فی کلو کے ریٹ پر گندم خرید کر 42.50روپے فی کلو کے ریٹ پر آٹا فراہم کریں جبکہ ان کو مل چلانے کیلئے متعدد اخراجات کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کوئی بھی کاروبار مہنگی چیز خرید کر اور اس کی پراسسنگ کر کے سستے داموں فروخت نہیں کر سکتا اور حکومت کو اس حقیقت کا احساس ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے نجی شعبے کو گندم امپورٹ کرنے کی اجازت دے دی ہے لیکن گندم کی امپورٹ میں کم از کم تین ماہ لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا حکومت کو چاہیے کہ ملوں کی استطاعت کے مطابق ان کو گندم کا کوٹہ جاری کیا جائے اور خبر دار کیا کہ اگر زبردستی کرنے کی کوشش کئی گئی تو آٹے کا بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کی کہ وہ فلور ملز ایسوسی ایشن کو اعتماد میں لے کر گندم جاری کرنے کی پالیسی بنائیں کیونکہ وہ اس معاملے میں اہم سٹیک ہولڈرز ہیں لہذا ان کی مشاورت سے پالیسی کو حتمی شکل دی جائے۔

تا کہ مسائل پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 2018-19میں پنجاب فوڈ ڈیپارٹمنٹ روزانہ 55ہزار ٹن گندم جاری کرتا تھا جبکہ 2019-20میں روزانہ 35ہزار ٹن گندم جاری کی جاتی تھی جس وجہ سے آٹے کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب حکومت 1475روپے فی 40کلو کے ریٹ پر روزانہ 15ہزار ٹن گندم جاری کرنا چاہتی ہے اور آٹے کی ریٹیل پرائس 850روپے فی 20کلو برقرار رکھنا چاہتی ہے جو کسی بھی لحاظ سے ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشہ چھ ماہ سے ملک میں پہ در پہ بحران پیدا ہو رہے ہیں اور اب آٹے کا بحران جنم لے رہا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں اور آٹے کے بحران سے بچنے کیلئے ملوں کو ان کی استطاعت کے مطابق کوٹہ جاری کرنے کے احکامات جاری فرمائیں

مزید :

کامرس -