قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے بین الاصوبائی ڈاکوؤں کا گروہ گرفتار

قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے بین الاصوبائی ڈاکوؤں کا گروہ گرفتار

  

پاکستان بالخصوص گجرات میں یہ معقولہ مشہور ہے کہ اگر نصیب اچھے ہوں تو چوری ڈکیتی کی واردات ہوتی ہی نہیں اور اگر ایسی کوئی واردات ہو جائے تو پولیس نہ صرف مقدمہ درج کرنے سے گریز کرتی ہے بلکہ سائل کو چکر لگوا لگوا کر اس قدر تھکا دیتی ہے کہ وہ اسے امر ربی قرار دیکر خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دیتا ہے اور اگر کسی کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہو تو وہ کسی نہ کسی طریقے سے مقدمہ درج کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے پھر مقدمہ درج ہو بھی جائے تو اس شخص کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان تصور کیا جاتا ہے جس کا مال مسروقہ یا ڈکیتی کی واردات میں چھینی گئی رقم پولیس من و عن برآمد کرلے ایک ایسی ہی انہونی تھانہ صدر لالہ موسی گجرات پولیس کے علاقے میں ہوئی جہاں پر بنیامین ولد محمد یوسف‘ پراپرٹی ڈیلر سکنہ نکیال کوٹلی آزاد کشمیر نے ایک ڈکیتی کی ایف آئی آر درج کراتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ شہاب عالم خان ولد شیر عالم خان سکنہ راولہ کوٹ ضلع پونچھ آزاد کشمیر اور احتشام سلیم ولد محمد سلیم سکنہ ڈاکخانہ خاص وضلع اسلام آباد کے ساتھ مختلف اضلاع میں پراپرٹی کا کاروبار کرتا ہے سائل اور ہمرائیاں نے محمد اخلاق احمداحمد ولد سید احمد قوم راجپوت سکنہ بھروڑی جموں والا ڈیرہ تحصیل کامونکی ضلع گوجرانوالہ کو اپنے پاس ملازم رکھا ہوا ہے جس نے سائل و ہمرائیاں کی رقم مبلغ 34لاکھ 60ہزار روپے نواز جٹ ولد جاوید بٹ کے ملازمین سے وصول کی جو اسے راہوالی تک گاڑی میں لائے وہاں بلاول رضا نے مزید رقم دینے کی غرض سے پنڈی بائی پاس بلایا جہاں سے ملازم رکشہ پر پنڈی بائی پاس پہنچا اور رقم مبلغ 2کروڑ 45لاکھ 88ہزار روپے بلاول رضا اور حارث محمود سکنائے گلشن لیبر کالونی انکم ٹیکس آفس جی ٹی روڈ گوجرانوالہ سے پنڈی بائی پاس گوجرانوالہ وصول کی اس طرح ملازم کے پاس کل رقم 2کروڑ 80لاکھ 48ہزار روپ اکٹھی ہوئی بلاول رضا واپس چلا گیا‘ جبکہ حارث محمود نے مورخہ 01.10.2019کو بوقت 07.20بجے شام سائل و ہمرائیاں ملازم کو میر پور آزاد کشمیر جانیوالے ٹیوٹا میں بٹھایا گاڑی جب لالہ موسی سے پہلے خٹک چراٹ ہوٹل بالمقابل کلیوال سیداں پہنچی تو ڈرائیورنے گاڑی کا یوٹرن لیا ملازم نے انہیں ایسا کرنے سے روکا تو گاڑی میں بیٹھے افراد نے ملازم کے منہ پر چادر ڈال دی اور اسے دبوچ لیا اور اسلحہ تان کر اس سے رقم مبلغ 2کروڑ 80لاکھ 48ہزار روپے چھین لیے اور اسے گاڑی سے باہر پھینک دیا لیکن سائل کو قومی شبہ ہے کہ اس واردات میں ملازم محمد اخلاق احمد اور دیگر ملوث ہیں گجرات پولیس کے سربراہ سید توصیف حیدر نے مذکورہ ڈکیتی کی واردات کے بعد تھانہ صدر لالہ موسی میں ایک ایسے کرائم فائٹر پولیس آفیسر فراست اللہ چٹھہ کو ایس ایچ او مقرر کر کے یہ ٹاسک دیا کہ کروڑوں روپے کی مذکورہ ڈکیتی کے ملزمان کو ہر صورت گرفتار کیا جائے ایس ایچ او فراست اللہ چٹھہ‘انکی ٹیم کے کرائم فائٹر آفیسر حافظ وقار محسن سب انسپکٹر‘ ودیگر عملے نے قبائلی علاقے میں فرار ہونیوالے مذکورہ ڈاکوؤں کی گرفتاری کو ایک چیلنج تصور کیا اپنے دن کا سکون اور رات کا چین انہوں نے مذکورہ ڈاکوؤں کی گرفتاری کیلئے قربان کر دیا تو دوسری طرف پی آر او برانچ کے سربراہ چوہدری اسد گجر ایڈووکیٹ بطور پی آر او وہ کردار ادا کر رہے ہیں جسے ڈویژن بھر میں مثالی قر ار دیا جاتا ہے بلاشبہ پولیس کی منفی کارکردگی میڈیا کے لیے پسندیدہ خبر ہوتی ہے مگر پولیس کی کارکردگی کو بہتر انداز میں پیش کرنے پر وہ مختلف پولیس افسران وآر پی او سے تعریفی اسناد اور نقد انعامات حاصل کر چکے ہیں انتہائی تحمل مزاج خلق خدا کی خدمت سے سر شار اس پولیس آفیسر پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے نماز روزہ کے پابند شرافت میں اپنا ثانی نہ رکھنے والے اسد گجر ایڈووکیٹ کے لیے ہر کوئی دعا مانگتا ہوا نظر آتا ہے اس برانچ کے تمام ملازمین جو اعلی تعلیم یافتہ ہیں ہر وقت مقدمات کی پیش رفت اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے متحرک رہتے ہیں پی آر او برانچ کو ڈی پی او سید توصیف حیدر کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور ایسے لوگ محکمہ پولیس کیلئے کسی اعزاز سے کم نہیں مذکورہ ڈکیتی کی دلیرانہ واردات کے بعد وہ ملزمان کی گرفتاری کے سلسلہ میں لمحہ بہ لمحہ ہدایات جاری کرتے اور صورتحال سے باخبر رہے اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے میں پویس کو طویل جدوجہد کرنا پڑی جو کئی مہینوں پر محیط ہے مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ایک دن تو اسے چھری کے نیچے آنا ہی ہے ان سطور میں ایس ایچ او تھانہ صدر فراست اللہ چٹھہ کا ذکر اس لیے اشد ضروری ہے کہ وہ گوجرانوالہ ڈویژن کے تقریبا تمام تھانہ جات میں ایس ایچ او کے فرائض ادا کر چکے ہیں اور اشتہاری مجرمان کے ساتھ متعدد مقابلوں میں ان کے جسم میں اس قدر گولیاں پیوست ہو چکی ہیں کہ جسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ پولیس آفیسر زندہ کیسے ہیں مگر جرات اور بہادری میں اپنا ثانی نہ رکھنے والے فراست اللہ چٹھہ‘ سب انسپکٹر حافظ وقار محسن‘ودیگر افسران و ملازمین تھانہ ہذا نے کسی نے خوفزدہ ہونے کی بجائے جرات اور بہادری کی انمٹ داستانیں رقم کی ہیں وہ جہاں بھی تعینات رہے انہیں لوگ آج تک یاد کرتے ہیں تھانہ صدرلالہ موسی پولیس نے اسلحہ کے زور پر 2کروڑ 80لاکھ 48ہزار روپے کی ڈکیتی کرنے والے اشتہاریوں کو گرفتار کر کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات شرو ع کر دی ہیں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گجرات توصیف حیدر کی زیر قیادت گجرات پولیس کی ضلع بھر میں مجرمان اشتہاریوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں حالیہ گرفتاریوں کو اہم کامیابی تصور کیا جا رہ اہے ایس ایچ او تھانہ صدر لالہ موسی سب انسپکٹر فراست اللہ چٹھہ اوران کی ٹیم سب انسپکٹر ریاض احمد ٹوپہ,سب انسپکٹر محمد لطیف نے پیشہ ورانہ مہارت سے خطرناک مجرمان اشتہاریوں کوگرفتار کرلیا مجرم اشتہاریوں میں سید رسول ولدماشائل خاں قوم پٹھان سکنہ پشاور‘ذیشان ولدسجیت گل‘دولت خاں ولد سجیت گل اقوام پٹھاں سکنائے اندرونی گلی آشیہ گیٹ پشاور شامل ہیں اشتہاریوں نے ایک سال قبل پراپرٹی ڈیلر بنیامین کے ملازم محمد اخلاق کو اسلحہ کے زور پر منہ پر چادر ڈال کر رقم 2کروڑ 80لاکھ 48ہزار روپے چھینے تھے اور بعد ازاں روپوش ہو گئے جسے پولیس ٹیم نے شب وروز محنت اور بہترین حکمت عملی سے گرفتار کرلیا مقدمہ بالا میں چھینی گئی رقم کی برآمدگی کیلئے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے باخبر ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ مذکورہ ڈاکو نہ صرف بین الصوبائی ڈکیتیوں میں ملوث تھے بلکہ انہوں نے مختلف اضلاع میں ات مچا رکھی تھی مگر اب وہ گجرات پولیس کے ہتھے چڑھ گئے ہیں نہ صرف مال مسروقہ برآمد کیا جا رہا ہے بلکہ ہوشربا انکشاف جنہیں ابھی خفیہ رکھا جا رہا ہے کے سامنے آنے پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ پنجاب کے خطرناک ترین ڈاکو اپنے انجام کو پہنچ گئے تھانہ صدر لالہ موسی میں فراست چٹھہ اور تھانہ سٹی لالہ موسی میں وقار گجر بلاشبہ سماج دشمن عناصر کیلئے ایک ننگی تلوار ہیں اور وہ کسی لالچ یا دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتے ان دونوں تھانوں کو اگر ماڈل تھانے قر ار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا خداوند کریم ڈی ایس پی لالہ موسی ریاض الحق کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے جو چند یوم قبل ہارٹ اٹیک کی وجہ سے خدا کو پیارے ہو گئے انکی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کی گئی ان سطور میں گجرات پولیس کی کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا شکار افراد کو خوراک انکی دہلیز پر مہیا کرنے کو بھی خراج تحسین پیش کرنا اشد ضروری ہے سید توصیف حیدر نے گجرات پولیس کو انسان دوست پولیس بنانے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ گجرات کی تاریخ کے سنہری باب میں شامل ہو چکا ہے تھانہ سٹی لالہ موسی کے انچارج وقار گجر کے نام سے بھی جرائم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ پوری طرح آگاہ ہیں کیونکہ وہ جہاں بھی تعینات رہے ہیں انہوں نے جرائم پیشہ افراد کے لیے گجرا ت کی دھرتی تنگ کر دی کچھ عرصہ قبل تھانہ سٹی لالہ موسی میں بطور ایس ایچ او تعینات ہوئے تعینات ہوتے ہی انہوں نے جرائم پیشہ افراد کیخلاف زبردست کریک ڈاؤن کیا انہیں بے شمار کامیابیاں حاصل ہوئیں دن کا سکون اور رات کا چین انہوں نے محکمہ کے وقار کیلئے قربان کر رکھا ہے تھانہ میں ہر وقت حاضر اور پولیس فورس کو چاک و چوبند رکھنا انکا طرہ امتیاز ہے انکی تعیناتی کے فورا بعد درجنوں اشتہاری مجرمان نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی اگر ان سطور میں یہ کہا جائے کہ فراست چٹھہ اور وقار گجر کا کوئی مدمقابل نہیں تو بے جا نہ ہوگا محکمہ پولیس کو ایسے ہی پولیس افسران کی دلجوئی‘ حوصلہ افزائی اور نقد انعامات کے ساتھ تعریفی اسناد دینی چاہیں۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -