سکھ یاتریوں کو لے جانے والی ٹرین حادثے کا شکار کیوں ہوئی؟

سکھ یاتریوں کو لے جانے والی ٹرین حادثے کا شکار کیوں ہوئی؟

  

فاروق آباد جاتری روڈ بھالیکے ریلوے پھاٹک پر ہونے والے ٹرین حادثہ کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ ریلوے کی طرف سے اس ریلوے پھاٹک پر باقاعدہ محکمہ کا ملازم تعینات نہ تھا جبکہ ایک اطلاع کے مطابق اس پھاٹک پر محکمہ شہری دفاع کے رضا کارڈیوٹی دیتے آئے ہیں وہ بھی کچھ عرصہ سے مسلسل غائب ہیں جس کا نوٹس محکمہ ریلوے نے لیا نہ کوئی متبادل تعیناتی کی گئی لہذاٰ اس ان مینڈپھاٹک پر پشاور سے آنے والی سکھ فیملی جو ننکانہ صاحب میں اپنے ایک رشتہ دار کے انتقال پر تعزیت کے بعد سچا سودا گردوارہ میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی غرض سے شارٹ کٹ راستہ اپناتے ہوئے اس پھاٹک پر سے گزرنے کے دوران حادثہ کا شکار ہوگئی ذرائع نے بتایا ہے کہ لاہور سے لیکر صفدر آباد تک 20سے زائد ان مینڈ ریلوے پھاٹک ہیں جن پر اب نہ محکمہ ریلوے کے ملازمین تعینات ہیں نہ ہی رضا کاروں کی تعیناتی یقینی بنائی گئی ہے، ضلع شیخوپورہ میں مجموعی طور پر ان مینڈ ریلوے پھاٹکس کی تعداد 150 سے زائد بتائی جارہی ہے جہاں پر سکیورٹی اور باقائدہ ملازمین کی تعیناتی اور پھاٹک بنائے نہیں گئے ہیں اس سے قبل بھی ایسے پھاٹکوں پر کئی دلخراش حادثات پیش آچکے ہیں جبکہ حادثہ کے حوالے سے بات کی جائے تو حادثہ کا شکار ہونیوالی گاڑی میں ڈرائیور سمیت کل 27افراد شمار تھے جن میں مردو خواتین کے علاوہ دو بچے بھی شامل ہیں، فاروق آباد جاتری روڑ پر واقع اس ریلوے پھاٹک پر کوسٹر بس جب ٹرین سے ٹکرائی تو ٹکر اتنی شدید تھی کہ آدھی کوسٹر بس کٹ کر حادثہ کے مقام یعنی پھاٹک کے قریب رہ گئی ہے اور آدھا حصہ ٹرین کے ساتھ گھسیٹتے ہوئے دور تک چلا گیا اس دوران مقامی دیہاتیوں نے فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ کر زخمیوں اور نعشوں کو کٹی کوئی کوسڑ بس کے دونوں حصوں سے باہر نکالنا شروع کیا اور گھروں سے چارپائیاں جمع کرکے ان پر نعشوں اور زخمیوں کو لٹایا تاہم ریسکیو 1122 شیخوپورہ کی امداد ٹیم بھی اطلاع پا کر موقع پر پہنچ گئی جس زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دیکر ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا اور دیہاتیوں سے ملکر نعشوں کوگاڑی سے نکالا اب تک کی تحقیقات کے مطابق کوسٹر بس ڈرائیور نے پختہ سڑک کی بجائے شارٹ کٹ کے چکر میں گاڑی ان مینڈ پھاٹک سے پیچھے کچے راستے سے بس گزارنے کی کوشش کی جس سے فیصل آباد سے لاہور کی طرف جانے والی نان سٹاپ اپ 43شاہ حسین ایکسپریس ٹرین کے ساتھ ٹکرا گئی جس سے کوسٹر میں سوار 27افرادمیں سے 19افراد جان بحق ہوگئے جبکہ 8زخمیوں کو ریسکیو اہلکاروں نے حادثے کا شکار ہونیوالی کوسٹر سے نکال کر ہسپتال منتقل کیاجہاں ایک شدید زخمی بھی چل بسا، جان بحق ہونیوالوں میں 12مرد اور 8خواتین جبکہ زخمیوں میں دو بچوں سمیت7مرو و خواتین شامل ہیں جن کی حالت بھی تشویشناک بتائی گئی ایک اطلاع کے مطابق وفاقی وزارت ریلوے نے حادثے کی فوری تفصیلات طلب کیں جن کی روشنی میں نہ صرف محکمہ ریلوے کو ریسکیو ٹیموں سے مکمل تعاون یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی بلکہ ریلوے انجینئر کو بھی معطل کردیا گیا، حادثے کی اطلاع پا کر مختلف سرکاری حکام بھی موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے امدادی سرگرمیو ں کا جائزہ لیااور ریسکیو اہلکاروں کو ہدایات دیتے رہے جبکہ ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ٹریک کو کلئیر کروادیااور ٹرین لاہور کے لئے روانہ ہوگئی لاشیں اور زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ منتقل کردیا گیااسی طرح بس ٹرین سے ٹکرا نے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایم ایس (ایڈمن) ڈاکٹر احمد چوہدری ٹراما سنٹر میں انتظامات کا جائزہ لینے پہنچ گئے تاکہ ذخمیوں کو بہترین طبی سہولیات دی جا سکیں اس موقع پر ڈاکٹر احمد چوہدری نے میڈیا کو بتایا کہ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی تمام میڈیکل سٹاف کو الرٹ کر کے ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تاکہ ذخمیوں کو بروقت طبی امداد مل سکے اور ہمارے میڈیکل سٹاف نے دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے 7 مریضوں کو بروقت طبی امداد دی جس سے ان کی جان بچانے میں کامیاب رہے،حادثہ کے فوری بعد محکمہ اوقاف شیخوپورہ کے ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر چوہدری اعجاز احمد گجر ہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے ذخمی ہونے والے سکھ یاتریوں کی عیادت بھی کی اور بتایا کہ ہسپتال انتظامیہ نے ذخمیوں کی طبی امداد کے لئے کوئی کمی نہیں چھوڑی تمام ذخمیوں کو بہترین طبی سہولیات دی جا رہی ہیں،،جاتری کے قریب ہونے والیٹرین حادثہ میں امدادی کاروائیاں مکمل کرنے کے بعد ٹریک کو کلئیر کر دیا گیا جبکہ ریلوے حکام اور تفتیشی اداروں جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہیں، دوسری طرف ٹرین کوسٹر حادثہ میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والی دو کمسن بچیاں اور ایک خاتون ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ میں زیر علاج ہیں وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی دونوں بچیوں اور خاتون کی حالت تسلی بخش ہے وزیر اعلی پنجاب کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ میں تینوں زخمیوں کی عیادت کی اس موقع پر میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ ڈاکٹر اظہر امین نے بتایا کہ تینوں زخمیوں کی حالت تسلی بخش ہے اور وہ تیزی سے روبصحت ہورہی ہیں اس موقع پر سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے زخمی افراد کے لواحقین نے بہترین طبی اور کھانے پینے اور رہائش کے انتظامات کرنے پر ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیاواضح رہے کہ گزشتہ روز سچا سودا کے قریب ٹرین اور کوسٹر حادثہ میں سکھ کمیونٹی کے 22 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے جبکہ صوبائی وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ میاں خالد محمود کا شیخوپورہ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثہ کے پیش نظر جاں بحق ہونے والے اور اور شدید زخمی ہونے والے افراد کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت اور ان کے علاج معالجہ کی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے جائے حادثہ پر پہنچے بعد میں ڈسٹرکٹ ہسپتال شیخوپورہ میں ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ مریضوں کو ملنے والی سہولیات کا بغور جائزہ لیا اور ان کو مزید بہتر کرنے کے لیے ہدایات جاری کیں صوبائی وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ میاں خالد محمود نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے لاہور آنے والی شاہ حسین ایکسپریس کے ساتھ منی کوسٹر کا تصادم ہوا جس کے نتیجہ میں کوسٹر میں سوار سکھ یاتری جوکے اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے سچا سودا گوردوارہ کے لیے تشریف لا رہے تھے کوسٹر کو کراسنگ کے دوران یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 20 کے قریب سکھ یاتری جاں بحق ہوچکے ہیں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ میں اور پوری پاکستانی قوم اس حادثہ کی وجہ سے انتہائی دکھ میں ہے دعا گو ہوں کے اللہ تعالی تمام لواحقین کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اصغر جوئیہ ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر اظہر آمین اور دیگر بھی موجود تھے جنہوں نے صوبائی وزیر کو حادثہ کے بعد دی جانے والی سہولیات پر بریفنگ دی، اسی طرح صوبائی وزیر انسانی حقوق واقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین نے پارلیما نی سیکرٹری انسانی حقوق واقلیتی امور مہندر پال سنگھ کے ہمراہ شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد کا دورہ کیا جدھر انہوں نے کراچی سے لاہور آنیوالی شاہ حسین ایکسپریس حادثے کے نتیجے میں زخمی ہونیوالوں کی عیادت کی اور علاج ومعالجہ بارے ضلعی انتظامیہ کے انتظامات کو چیک کیا،صوبائی و زیر کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ المناک حادثے کے نتیجے میں سکھ یاتریوں کی اموات پر دل بہت افسردہ ہے تاہم حادثے غیر متوقع ہوتے ہیں سکھ یاتریوں کے غمزدہ خاندانوں کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں اور بلا شبہ آج تمام پاکستانیوں کے دل افسردہ ہیں کیونکہ پاکستانی عوام کا سکھ برادری کے ساتھ ایک خاص محبت و دوستی کا رشتہ ہے جو کہ ہر سال مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے آنیوالے سکھ یاتری اپنے واپسی کے سفر میں اظہار کرتے ہیں انہوں نے مزید کہاکہ ضلعی انتظامیہ کو زخمیوں کے بہترین علاج و معالجہ کی ہدایات جا ری کردی گئی ہیں اور پنجاب حکومت مستقبل میں اسطرح کے کسی بھی واقعہ کی روک تھام کے لئے تمام ممکنہ انتظامات یقینی بنائے گی،مہندر پال سنگھ نے کہاکہ بد قسمت ٹرین حادثہ میں سکھ برادری کو لوگوں کا جاں بحق ہونا بہت دکھ اور درد کی بات ہے تاہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ لواحقین کو صبر جمیل عطاء کریں اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کریں سیکرٹری انسانی حقوق و اقلیتی امورڈاکٹر شعیب اخترنے کہاکہ محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے زخمیوں کے بہترین علاج ومعالجہ کے لئے تمام تر انتظامات یقینی بنائے جا رہے ہیں تاہم ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے شیخوپورہ ڈی سی آفس میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -