صوابی‘ خاندانی تنازعے پر فائرنگ‘ باپ بیٹا اور بھتیجا جاں بحق

  صوابی‘ خاندانی تنازعے پر فائرنگ‘ باپ بیٹا اور بھتیجا جاں بحق

  

صوابی(بیورورپورٹ)موضع شیخ ڈھیری میں گھریلو تنازغہ پر رشتہ داروں کی اندھا دھند فائرنگ سے بوڑھا باپ بیٹے اور بھتیجے سمیت جاں بحق ہو گئے۔ مقتولین میں ایک پرائیوٹ سکول کا پرنسپل اور یونیورسٹی آف صوابی کے شعبہ آرکیالوجی کے نوجوان طالب علم بھی شامل ہیں۔ قیصر علی خان ولد سبز علی خان نے تھانہ چھوٹا لاہور میں ایف آئی آر درج کراتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ رات مبینہ طور پر ان کے رشتہ داروں گل صمد، تنویر اور عدنان نے مبینہ طور پر آندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ان کا بوڑھا باپ سبز علی، تیس سالہ بھائی ناصر خان پرنسپل سلاتورہ سکول اینڈ ایجو کیشن کالج اور پچیس سالہ چچا زاد بھائی احتشام خان طالب علم یونیورسٹی آف صوابی آرکیا لوجی گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئے۔ قیصر علی خان نے پولیس کو ایف آئی آر میں بتایا کہ ان کی ہمشیرہ یعنی زوجہ ضیاد نے گذشتہ شب فون کیا کہ ہمارے گھر میں دیوروں کے ساتھ کچھ تکرار ہوئی جس پر ہم تینوں راضی نامہ کی خاطر ہمشیرہ کے گھر روانہ ہوئے جب وہاں پہنچے تو گھرکے سامنے گل صمد خان موجود تھا جس کے ساتھ ہم نے صلح راضی نامہ کے بارے میں بات چیت شروع کی اس دوران ہمارے ہمشیرہ کے دیوران تنویر اور عدنان اچانک مسلح نمو دار ہوئے اور گل صمد خان سمیت تینوں نے ہم پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں تینوں موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ ایس ایچ او شفیق احمد خان نے میڈیا کو بتایا کہ وقوعہ ملزمان کے گھر کے سامنے پیش آیا اتوار کے روز جب ایک گھر سے تین جنازے ایک ساتھ اُٹھائے گئے تو پورے گاؤں میں کہرام مچ گیا جنازہ میں ہر مکاتب فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ملزمان واردات کے بعد فرارہونے میں کامیاب ہو گئے۔ جب کہ ایس ایچ او شفیق احمد خان کی قیادت میں پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لئے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -