بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی حادثہ نہیں، دہشتگردی تھا، جے آئی ٹی رپورٹ

بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی حادثہ نہیں، دہشتگردی تھا، جے آئی ٹی رپورٹ
بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی حادثہ نہیں، دہشتگردی تھا، جے آئی ٹی رپورٹ

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحے کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2012 میں پیش آتشزدگی کا یہ واقعہ دہشتگردی تھا۔

نجی ٹی وی دنیا نیوزکے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے جو 27 صفحات پر مشتمل ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے یہ رپورٹ آج جاری کی جائے گی۔جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر لگائی گئی تھی۔ فیکٹری سے بھتہ ایم کیو ایم کے حماد صدیقی اور رحمان بھولا نے مانگا تھا۔

رپورٹ کے مطابق واقعے کے مقدمے اور تحقیقات میں ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ دہشتگردانہ کارروائی کو ایف آئی آر میں پہلے قتل کہا گیا، پھر حادثہ قرار دے دیا گیا۔ابتدائی تحقیقات میں ایف آئی آر یا تفتیش میں کہیں بھتے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ جے آئی ٹی نے گزشتہ ایف آئی آر واپس لینے اور دہشتگردی کی دفعات کے تحت نیا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے ایف آئی آر میں رحمان بھولا، حماد صدیقی اور زبیر چریا اور دیگر افراد کے نام ڈالنے کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں مقدمے کے مفرور ملزمان کو بیرون ملک سے واپس لانے، تمام ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ جے آئی ٹی رپورٹ میں واقعے کے تمام گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فیکٹری مالکان سے بھتہ کے عوض خریدا گیا حیدر آباد کا 1 ہزار گز بنگلہ واپس مالکان کو دیا جائے۔جے آئی ٹی رپورٹ میں واقعے کے تناظر میں پولیس کے کردار پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پولیس ہائی پروفائل واقعے کی درست سمت میں تحقیقات میں ناکام ہوئی۔ مستقبل میں ایسے واقعات میں تفتیش کی ناکامی کو روکنے کے لیے اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -