سعودی حکومت نے حج کے لیئے نئےا یس او پیز جاری کردیئے، عازمین کن اقدامات سے محروم رہیں گے؟ خبر آگئی

سعودی حکومت نے حج کے لیئے نئےا یس او پیز جاری کردیئے، عازمین کن اقدامات سے ...
سعودی حکومت نے حج کے لیئے نئےا یس او پیز جاری کردیئے، عازمین کن اقدامات سے محروم رہیں گے؟ خبر آگئی

  

ریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن)کورونا وائرس کی وجہ سے رواں سال سعودی عرب نے پچیس لاکھ کے بجائےصرف ایک ہزار لوگوں کو حج کی اجازت دینے کا فیصلہ کیاہے اور اب اس حج سے متعلق نئے ایس او پیز جاری کردیے گئےہیں۔

حج سے متعلق جاری قواعد و ضوابط کے علاوہ مسجدالحرام، منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور قیام طعام سے متعلق بھی ضوابط جاری کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب نے اس سال کے حج کے لیے صحت کے نئے پروٹوکول کا اعلان کیا ہے، جس میں محدود تعداد میں صرف مملکت میں مقیم افراد کو شرکت کی اجازت ہو گی۔

مکہ مکرمہ کے گورنریٹ کی جانب سے جاری کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق 28 ذی القعدہ سے 12 ذی الحجہ تک منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں بغیر اجازت جانا منع ہوگا۔

حج کے لیے آنے والے افراد اور حج کرانے والوں کو حفاظتی ماسک اور دستانے پہننا ہوں گے جب کہ سر کے بال تراشنے، مونڈھنے، داڑھی بنانے والے ایک دوسرے کے آلات استعمال نہیں کرسکیں گے۔

قواعد کے مطابق باجماعت نماز کی اجازت ہوگی تاہم نماز کے دوران ماسک پہننا لازمی ہوگا جب کہ نمازی ایک دوسرے سے 2 میٹر فاصلےکی پابندی کریں گے اور لفٹ استعمال کرتے وقت بھی سماجی فاصلہ رکھنا ہوگا۔

 دوسری جانب مسجد الحرام، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں کولرز ہٹا دیے جائیں گے اور  پانی پینے یا زمزم کے لیے ڈسپوزیبل بوتلیں، ڈبے استعمال کیےجائیں گے جب کہ کھانے پینےکے برتن دوبارہ استعمال کرنےکی اجازت نہیں ہوگی۔

خانہ کعبہ یا حجر اسود کو چھونا منع ہوگا جب کہ حج میں جمرات کی رمی کے لیے پیک شدہ کنکریاں فراہم کی جائیں گی۔

حج ضوابط کے مطابق بسوں میں مسافروں کی تعداد متعین ہوگی، پورے سفر کے لیے ہر حاجی کی نشست متعین ہوگی اور کسی بھی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ ڈرائیوروں اور مسافروں کو بس میں سفر کے دوران ماسک اتارنےکی اجازت نہیں ہوگی۔

میدان عرفات اور مزدلفہ میں مخصوص مقامات پر قیام کی پابندی کرنا ہوگی اور عبادت کے دوران حاجیوں کو ماسک اتارنے کی اجازت نہیں ہوگی، مطابق طواف کے لیے مطاف جانے والوں کی قافلہ بندی ہوگی اور طواف کے دوران کم از کم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنا ہوگا جب کہ صفا و مروہ کی سعی ہر منزل سےہوگی اور سعی کے دوران سماجی پابندی کرائی جائےگی۔

حاجیوں کو خارجی صحنوں میں کھانے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ طواف کی جگہ ،صفا و مروہ کے علاقےکو حاجیوں کے ہرکارواں کے بعد سینیٹائز کیا جائے گا۔

مسجد الحرام سے قالین اٹھالیے جائیں گے اور اپنی جائے نماز استعمال کرنے کی تاکید کی جائےگی۔

 سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مونا، مزدلفہ اور عرفات میں حج مقامات تک رسائی 19 جولائی سے 2 اگست تک ہو گی اور اس دوران صرف اور صرف حج کے اجازت نامے رکھنے والے افراد ہی وہاں جا سکیں گے۔

 خیال رہے سعودی عرب کی حکومت نے رواں سال کورونا کے خدشے کے پیش نظر محدود پیمانے پر حج کے فریضہ کی ادائیگی کی اجازت د ی ہے۔ 22جون کو سعودی عرب کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث حج 2020 کے لیے عازمین کی تعداد کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر الحرمین کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 'حکومت نے سعودی عرب میں رہائش پذیر مختلف ممالک کے شہریوں کو حج کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا  ہے'۔

وزارت کی جانب سے جاری تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ہجوم اور لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہونے سے کورونا کے پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا ہے کہ رواں برس حج محدود عازمین کے ساتھ ہوگی'۔

حکومت نے کہا کہ 'صحت عامہ کے پیش نظرلوگوں کی جانوں کو بچانے کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق سماجی فاصلہ اور دیگر تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے'۔

خیال رہے کہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال سعودی عرب جاتے ہیں اور رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس تقریباً 25 لاکھ مسلمانوں نے حج ادا کیا تھا۔

رواں برس کورونا وائرس کے باعث سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک سے حج کے لیے کوئی نہیں آسکے گا۔

مزید :

قومی -بین الاقوامی -عرب دنیا -کورونا وائرس -