تھپڑ کے ایک عرصہ بعد فواد چودھری نے سمیع ابراہیم کیلئے پیغام جاری کردیا

تھپڑ کے ایک عرصہ بعد فواد چودھری نے سمیع ابراہیم کیلئے پیغام جاری کردیا
تھپڑ کے ایک عرصہ بعد فواد چودھری نے سمیع ابراہیم کیلئے پیغام جاری کردیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیئر صحافی سمیع ابراہیم کو ایک سال قبل جون میں تھپڑ مارنے کے واقعے کے بعدوفاقی وزیر فواد چودھری نے پہلی بار ان کے لیے مثبت الفاظ استعمال کیے ہیں۔

گزشتہ برس 15جون کو خبریں سامنے آئی تھیں کہ فواد چودھری نے ایک  شادی کی تقریب میں  سمیع ابراہیم کو تکرار کےبعد تھپڑ جڑ دیا۔

اس بار فواد چودھری نے سمیع ابراہیم کے بارے مثبت جذبات کااظہارکیا ہے۔سماجی روابط کی ویبب سائٹ پر فواد چودھری نے کہا کہ "مجھے بتایا گیا ہے کہ بول ٹی وی کے CEO سمیع ابراھیم کرونا وباء کا شکار ہیں اور ان کی طبیعت صحیح نہیں، آللہ ان کا حامی و ناصر ہو اور جلد صحت عطا کرے۔۔۔ خدا اس وباء سے ہم سب کو محفوظ رکھے آمین"۔

فواد کے ٹویٹ پر صارفین نے اپنے اپنے انداز میں تبصرہ کیا ہے۔ ایک صارف شہباز حسین نے ردعمل دیا  کہ "پرائیویٹ میں تھپڑ اور دنیا کے سامنے اچھے بننے کی کوشش"۔

شہزاد نے لکھا کہ "آمین بس آپ خیریت دریافت کرنے خود تشریف نا لے کر جانا!!!! دونوں کو خطرہ ھوگا "

نویان نے لکھا "اللہ پاک سمع ابراھیم کو جلد صحت یاب کرے اور جلد کسی ولیمہ پر آپکی سلیم صافی سے ملاقات کا اہتمام کرے۔ آمین یا رب العالمین"

عبدالصمد نے لکھا کہ "سر مبشرلقمان کو بھی آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے"

 خیال رہے فواد چودھری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ دوران تکرار وہ اشتعال میں آگئے تھے اس لیے سمیع کو تھپڑ دے ماراا جب کہ سمیع ابراہیم نے فواد چودھری کی اس حرکت پر ان کے خلاف فیصل آباد  تھانے میں درخواست دائر کردی تھی۔

ٹی وی اینکر سے جھگڑے کا پس منظر بتاتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے حکومتی اشتہارات کو سٹریم لائن کیا اور رییٹنگز کے مطابق A,B, C اورD کیٹیگیز بنائیں۔ اس تبدیلی سے حکومتی اشتہارات کے اخراجات میں 70 فیصد کمی آئی۔ اب چینلز میں دوڑ تھی کہ ہمیں A یا B کیٹیگری میں رکھیں۔ سمیع ابراھیم نے مجھے کہا کہ ہم نے آپ کی بہت خدمت کی ہے ہماری کیٹگری A کریں اور ساتھ ہی دو کروڑ روپے کی ایڈجسٹمنٹ کا بھی کہا۔ میرے انکار کے بعد ایک مستقل مہم میرے خلاف شروع کر دی گئی جو بلیک میلنگ کی شکل اختیار کرگئی تھی۔‘

ادھر سمیع ابراہیم نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایک شادی کی تقریب کے دوران فیصل آباد سے تحریک انصاف کے ایم این اے فرخ حبیب، ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن، دو صحافی رؤف کلاسرا اور ارشد شریف کے ساتھ کھڑے گپ شپ کر رہے تھے۔

سمیع ابراہیم کا موقف ہے کہ ’مجھے تقریب میں کسی کی پنجابی میں گالیاں دینے کی آواز آئی۔ جب میں نے مڑ کر دیکھا تو وفاقی وزیر فواد چوہدری میرے قریب پہنچ چکے تھے اور بغیر کوئی بات کیے میرے منہ پر زور کا تھپڑ دے مارا جس سے میری عینک بھی زمین پر گر گئی۔ تاہم میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ انھوں نے بحث کے دوران سمیع ابراہیم کو جو تھپڑ مارا ہے وہ صحافت کے منہ پر نہیں بلکہ زرد صحافت کے منہ پر طمانچہ تھا۔ سمیع ابراہیم کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا جس پر انھوں نے مقامی پولیس کو ایف آئی آر کے لیے درخواست جمع کرا دی ہے۔ ’تاہم پولیس نے مجھے بتایا ہے کہ درخواست پر فوری کارروائی ممکن نہیں ہے۔‘

مزید :

ڈیلی بائیٹس -