لداخ میں 30ہزار بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد مودی سرکار کیلئے نئی مشکل کھڑی ہو گئی

لداخ میں 30ہزار بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد مودی سرکار کیلئے نئی مشکل ...
لداخ میں 30ہزار بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد مودی سرکار کیلئے نئی مشکل کھڑی ہو گئی

  

لداخ(ڈیلی پاکستان آن لائن)لداخ میں 30ہزار بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد مودی سرکار کیلئے نئی مشکل کھڑی ہو گئی۔فوجیوں کو شدید سردی سے بچانے کیلئے ہزاروں ٹینٹوں کی ضرورت پڑ گئی۔

انڈین میڈیا کے مطابق چینی جارحیت کا مقابلہ کرنے لے لیے بھارت نے لداخ میں تیس ہزار اضافی فوجی تعینات کیے ہیں۔لداخ میں شدید سردی بھارتی فوجیوں کے لیے ایک نئی مشکل بن گئی ہے جس کے تدارک کے لیے انڈین فوج  ہنگامی طور پر سردی سے بچانے والے ٹینٹس تیار کروانے جارہی ہے۔ ٹینٹوں کی تیاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان یہ کشیدگی لمبے عرصے تک جاری رہ سکتی ہے اور بھارت لائن آف ایکچوئل کنٹرول(اے ایل ایف) پر طویل عرصے تک فوجی تعینات کرسکتا ہے۔

انڈین خبررساں ادارے اے این آئی کے مطابق اعلیٰ فوجی حکام کا خیال ہے کہ یہ کشیدگی ستمبر کے آخر یااکتوبر تک برقرار رہ سکتی ہے اور وہاں تب تک فوجیں تعینات کی جا سکتی ہیں۔

رپورٹ میں اعلیٰ عسکری ذرائع نے کہاہے کہ اگر چین لداخ سے پیچھے ہٹتا ہے تو بھی ہم احتیاطا وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ اسی لیے مشرقی لداخ میں شدید سردی سے بچنے کے لیے ہم ہزاروں ٹینٹس تیار کروا رہے ہیں۔ اسلحے اور دیگر آلات کے علاوہ ہماری پہلی ترجیح اپنے جوانوں کا تحفظ ہے۔ذرائع کے مطابق چینی فوج پہلے ہی آرام دہ ٹینٹ نصب کرچکی ہے، ہم بھی سیاچن کے لیے بنائے گئے ٹینٹ استعمال کررہے ہیں تاہم اب ضرورت بڑھ گئی ہے اس لیے نئے ٹینٹ تیارکروارہے ہیں۔

اس سلسلے میں بھارت اور یورپ کی کمپنیوں کا جائزہ لیاجائے گا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی دفاع کیلئے پانچ سو کروڑ کااعلان کرچکے ہیں بھارت مختلف ممالک سے کچھ ضروری اور جدید اسلحہ خریدنے کا بھی ارادہ رکھتاہے۔

خیال رہے چین اور بھارت کے درمیان لداخ ریجن میں شدید کشیدگی چل رہی ہے، چین بھی وہاں اپنے بیس ہززار فوجی تعینات کرچکا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -