"ادیتیا چوپڑا نے جان بوجھ کر سوشانت کو فلم کی اجازت نہیں دی, سوشانت کسی پریشر میں تھےلیکن وہ یہ نہیں . . .." سنجے بھنسالی نے اہم انکشاف کردیا

"ادیتیا چوپڑا نے جان بوجھ کر سوشانت کو فلم کی اجازت نہیں دی, سوشانت کسی پریشر ...

  

ممبئی (ویب ڈیسک) نوجوان اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے معاملے میں فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے جس میں انہوں نے اہم انکشافات کیے ہیں، سوشانت سنگھ کی موت کے بعد ممبئی پولیس اُن تمام لوگوں سے پوچھ گچھ کررہی ہےجو سوشانت کے قریب تھے اور جن سے انہوں نے اپنی موت سے دس دن قبل ملاقات کی تھی۔ پولیس کے مطابق اب تک اس کیس میں 30 لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔

روزنامہ جنگ کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے سنجے لیلا بھنسالی سے سوشانت کے معاملے پر بات کرنا چاہ رہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سنجےبھنسالی اس حوالے سے بہت کچھ جانتے ہیں۔بھارتی فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی نےپولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ سوشانت کسی پریشر میں تھےلیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ انہیں کس بات کا پریشر تھا، سوشانت شروع سے ہی کسی بڑے بینر کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں بڑے پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ کام کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا تھا ۔

پولیس نےسنجے بھنسالی سے سوال کیا کہ آپ سوشانت کو اپنی فلم’ رام لیلا ‘میں کاسٹ کرنا چاہتے تھے، پھر کیوں نہیں کیا؟ اس کے جواب میں سنجے بھنسالی نے کہا کہ انہوں نے پہلے رام لیلا کے لیے سوشانت کو ہی کاسٹ کیا تھا لیکن وہ اُس سے پہلے ہی یش راج فلم کے ساتھ کانٹریک کرچکے تھے، اس لیے انہوں نے سوشانت کی جگہ رنویر سنگھ کو لیا۔اس پر پولیس نے کہا کہ ایسے تو رنویر سنگھ نے بھی کسی کے ساتھ کانٹریک کیا ہوا تھا، انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ صرف ادیتیا چوپڑا اور وائے آر ایف (یش راج فلمز) ہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کون کانٹریک میں فلم بنا سکتا ہے۔

ادیتیا چوپڑا نے جان بوجھ کر سوشانت کو فلم کی اجازت نہیں دی جبکہ رنویر کو کانٹریک کے بعد بھی بھنسالی کی فلم میں کام کرنے کا موقع دیا گیا۔

اس کے بعد سنجے لیلا سے فلم باجی راؤ مستانی سے متعلق سوال کیے گئے، انہوں نے بتایا کہ وہ سوشانت کو لے کر ہی یہ فلم کرنا چاہتے تھے لیکن اُس وقت سوشانت ادیتیا چوپڑا کی فلم ’پانی‘ کررہے تھے اس لیے انہوں نے سوشانت کو نہیں لیا لیکن پھر بعد میں ادیتیا چوپڑا نے اپنی فلم پانی بھی ریلیز نہیں کی، اس طرح سوشانت کا پورا ایک سال ضائع ہوگیا۔

پولیس نے مزید سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا سوشانت پر کوئی دباؤ تھا؟ اس کے جواب میں سنجے بھنسالی نے جواب دیا کہ ہاں کوئی تو دبائو تھاجس کی وجہ سے اُن سے اتنی فلمیں لے لی گئیں، ورنہ اُن سے فلمیں نہیںچھینی جاتیں۔دوسری جانب سوشانت خودکشی معاملے میں تفتیش کاروں کی جانب سے ایک اور اہم بات سامنے آئی ہے کہ وہ کپڑا جو سوشانت نے پھانسی لگانے کے لیے استعمال کیا تھا اُس کی چھان بین بھی ہوگی تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ وہ کپڑا اداکار کے برابر وزن اُٹھانے کے قابل تھا یا نہیں۔

تفتیش کاروں کے مطابق اداکار نے خود کو پنکھے سے لٹک کر پھانسی لگانے کے لیے رات میں پہننے والے ہرے رنگ کے سوتی گاؤن کا استعمال کیا تھا۔واضح رہے کہ 34سالہ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی لاش 14 جون کو باندرا میں واقع ان کی رہائش گاہ پر لٹکی ہوئی ملی تھی۔

مزید :

تفریح -