چین میں کورونا کے بعد ایک اور مہلک بیماری "بلیک ڈیتھ" کا مشتبہ مریض سامنے آگیا

چین میں کورونا کے بعد ایک اور مہلک بیماری "بلیک ڈیتھ" کا مشتبہ مریض سامنے ...
چین میں کورونا کے بعد ایک اور مہلک بیماری

  

ہوہوٹ(شِنہوا)چین کے خودمختار خطے اندرونی منگولیا کے ایک شہر میں ’بلیک ڈیتھ‘ کے نام سے جانا جانے والے بیوبونک طاعون کاکیس سامنے آنے کے بعد حکام نے ایک انتباہ جاری کیا ہے۔

چینی خبررساں ادارے کے مطابق شمالی چین کے اندرونی منگولیا خود اختیار علاقے کے مقامی صحت حکام نے کہاہے کہ علاقے میں گِلٹی دار طاعون کے مشتبہ کیس کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

بایان نور میونسپل صحت کمیشن نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ اوراد مڈل بینر کیعوامی ہسپتال میں ہفتہ کے روز گِلٹی دار طاعون کا مشتبہ کیس سامنے آیا ہے۔کمیشن نے کہاہے کہ بایان نور کے مقامی حکام نے اتوار کے روز طاعون کی روک تھام اور قابو پانے کے تیسرے درجے کا انتباہ جاری کردیا ہے جو کہ 2020کے آخر تک جاری رہے گا۔

کمیشن نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت میں اضافہ کریں کیونکہ شہر میں اس بیماری کے انسان سے انسان کو منتقل ہونے کا خطرہ ہے جبکہ شہری طاعون کی بیماری کا باعث بننے والے جانوروں کا نہ تو شکار کریں اور نہ ہی انہیں کھائیں۔

ایجنسی نے عوام پر زور دیا ہے کہ کسی بیمار یا مرے ہوئے مارموٹس یا کسی دوسرے جانور، طاعون کا مشتبہ کیس،بغیر کسی وجہ کے تیز بخار والے مریضوں یا اچانک مرنے والے مریضوں کا پتہ چلے تو اطلاع دیں۔

بی بی سی کے مطابق بیوبونک طاعون بیکٹیریا کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ خطرناک ہوسکتے ہیں، لیکن ان کا علاج عام طور پر اینٹی بائیوٹک دوائیوں سے کیا جاتا ہے۔یہ طاعون مہلک لیکن قابل علاج ہے اور اس کے وبائی صورت اختیار کرنے کے امکانات کم ہیں۔

یہ کیس ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین سمیت پوری دنیا کورونا وائرس کی خطرناک وبا کا مقابلہ کررہی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -