بے وفائی کرنے والے ہمسفر کو لوگ پکڑے جانے کے باوجود اکثر معاف کیوں کردیتے ہیں؟

بے وفائی کرنے والے ہمسفر کو لوگ پکڑے جانے کے باوجود اکثر معاف کیوں کردیتے ...
بے وفائی کرنے والے ہمسفر کو لوگ پکڑے جانے کے باوجود اکثر معاف کیوں کردیتے ہیں؟

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ کو اپنے بے وفا شریک حیات کو معاف کر دینا چاہیے اور اس کے ساتھ رہنا چاہیے؟ آسٹریلوی ریلیشن شپ ایکسپرٹ لواینی وارڈ نے اس حوالے سے ایک سروے کیا ہے جس میں لوگوں نے بہت حیران کن جوابات دیئے۔ میل آن لائن کے مطابق لواینی نے سروے میں یہ بھی پوچھا کہ اگر کوئی اپنے بے وفا شریک حیات کو معاف کر دیتا ہے تو کیا اس کے اردگر موجود لوگ اسے کمزور اور کم عقل سمجھیں گے یا نہیں؟ سروے میں حصہ لینے والے اکثر لوگوں کا کہناتھا کہ بے وفا شریک حیات کو معاف کرنا یا نہ کرنا اس شخص کا انفرادی فیصلہ ہے۔ اس حوالے سے وہی بہتر سوچ سکتا ہے جو اس بے وفا شخص کے ساتھ تعلق میں ہوتا ہے۔ کوئی بھی بیرونی شخص یہی کہے گا کہ اسے کبھی اس شخص کو معاف نہیں کرنا چاہیے۔

سروے میں شامل دوسری بڑی اکثریت کا کہنا تھا کہ ”بے وفا شریک حیات کے ساتھ بدستور تعلق میں رہنا کم عقلی ہو گی اور اس رشتے میں ہمیشہ شک کا عنصر موجود رہے گا چنانچہ اس رشتے کو ختم کر دینا ہی بہتر ہے۔ اس معاملے پر لواینی وارڈ نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ”جو کوئی اپنے بے وفا شریک حیات کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتا ہے اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ بعض لوگوں بچوں کی خاطر اکٹھے رہتے ہیں۔ بعض لوگ تنہائی کے ڈر سے اور بعض لوگ رقم اور اچھی زندگی کے لالچ میں۔بیرونی لوگ اس حوالے سے یکسر مختلف آراءرکھتے ہیں۔ لوگوں کو جس ایک بات کا احساس نہیں ہوتا وہ یہ ہے کہ جو مرد یا عورت اپنے بے وفا شریک حیات کے ساتھ رہ رہا ہے، اس نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کہ وہ اس کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے،ایسے فیصلے میں غلط یا درست کی اہمیت نہیں۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ مرد یا عورت اپنے بے وفا پارٹنر کو وقت دینا چاہتا ہے اور معاملات کو سدھارنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے چنانچہ بیرونی لوگوں کو ایسے مرد یا عورت کے متعلق کوئی منفی رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -