کورونا وائرس جیسا وائرس 7 سال پہلے کس جگہ چمگادڑ میں دریافت کیا گیا تھا اور پھر اسے کہاں لیجایا گیا؟ تحقیقات میں حیران کن انکشاف

کورونا وائرس جیسا وائرس 7 سال پہلے کس جگہ چمگادڑ میں دریافت کیا گیا تھا اور ...
کورونا وائرس جیسا وائرس 7 سال پہلے کس جگہ چمگادڑ میں دریافت کیا گیا تھا اور پھر اسے کہاں لیجایا گیا؟ تحقیقات میں حیران کن انکشاف

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) سائنسدان اس بات پر تو متفق ہو چکے ہیں کہ کورونا وائرس چمگادڑ وں سے کسی طور انسانوں کو لاحق ہوا، مگر کب؟ اس سوال کے جواب میں ابھی متنازعہ آراءموجود ہیں اور اب چینی سائنسدانوں نے اس حوالے سے انتہائی حیران کن انکشاف کر دیا ہے۔ سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ حالیہ وباءکا سبب بننے والے کورونا وائرس کی ابتدائی شکل 2012ءمیں انسانوں میں پھیلی تھی اور 6لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے۔ ان تمام لوگوں میں اس کی علامات بخار، مسلسل کھانسی، پورے جسم میں تکلیف اور سانس لینے میں دشواری کی صورت میں سامنے آئی تھیں۔ یہی علامات حالیہ وباءکے دوران سامنے آ رہی ہیں۔

2012ءمیں پھیلنے والی کورونا وائرس کی اس قسم کا حالیہ قسم سے موازنہ کرنے کے بعد سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ جینیاتی اعتبار سے 2012ءمیں انسانوں کو لاحق ہونے والا وائرس موجود وائرس سے 96.2فیصد مشابہہ ہے۔ چنانچہ اس دریافت کے بعد سائنسدان اس پرانے وائرس کو موجود وباءکا سبب بننے والے کورونا وائرس کا باپ قرار دے رہے ہیں۔اس وائرس کو سائنسدانوں نے 2012ءمیں RaBtCoV/4991کا نام دیا تھا۔

ایک ماہر کا کہنا ہے کہ یہ وائرس مغربی چین کے شہر موجیانگ میں واقع تانبے کی ایک کان میں پائی جانے والی چمگادڑوں میں موجود ہے۔ یہ کان اب چمگادڑوں سے بھری ہوئی ہے۔ وہیں سے 2012ءمیں یہ وائرس ان 6لوگوں کو لاحق ہوا تھا جن میں سے 3کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اس وقت سائنسدان اس کان سے چمگادڑیں اور ان کی بیٹ وغیرہ ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی لے گئے تھے اور وہاں تب سے اس وائرس پر تجربات ہو رہے تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -