بھارت کے بعد ایک اور بڑے ملک نے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی تیاری کرلی

بھارت کے بعد ایک اور بڑے ملک نے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی تیاری کرلی
بھارت کے بعد ایک اور بڑے ملک نے ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی تیاری کرلی

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا میں بھی چینی ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی لگائے جانے کا امکان پیدا ہو گیا۔ میل آن لائن کے مطابق کافی عرصے سے مغربی دنیا میں ٹک ٹاک ایپ کو شک کی نظروں سے دیکھا جا رہا تھا کہ یہ صارفین کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ کرتی ہے اور اس ڈیٹا کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔ گزشتہ دنوں سائبر سکیورٹی ماہرین نے اپنی تحقیق میں اس بات کی تصدیق بھی کر دی اور بتایا کہ ٹک ٹاک ایپ ان 53ایپلی کیشنز میں سے ایک ہے جو آئی فون صارفین کے کلپ بورڈ تک رسائی حاصل کرتی اور اس پر موجود ڈیٹا کو اپنے پاس محفوظ کرتی ہے۔

اسی صورتحال کے پیش نظر آسٹریلیا میں کافی عرصے سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ٹک ٹاک کو ملک میں بین کیا جائے۔ یہ مطالبہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ایپلی کیشن آسٹریلیا کی نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔ یہ جو ڈیٹا اپنے پا س محفوظ کرتی ہے، عین ممکن ہے وہ ڈیٹا ایپلی کیشن چینی حکومت اور سکیورٹی اداروں تک پہنچا رہی ہو۔ آسٹریلیا کے ایک ایم پی نے بتایا ہے کہ وہ یہ معاملہ سینیٹ انکوائری کے سپرد کیا جائے گا، جس کے بعد اس ایپلی کیشن پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ واضح رہے کہ ٹک ٹاک چینی کمپنی Bytedanceکی ملکیت ہے جس کے آسٹریلیا میں16لاکھ سے زائد صارفین ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -